زخمی آھُو
تحریر: ھانلی بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
درد سے کراہنے کی آواز کا پیچھا کرتے کرتے ہم بہت دور نکل آئے تھے۔ گھاٹیوں، کانٹوں اور کمر تک اُگی جنگلی گھاس کو چیرتے ہوئے آخرکار وہ ہمیں ایک بڑے پتھر کے ساتھ لگی ہوئی ملی۔ اس کا جسم خون میں اس قدر لتھڑا ہوا تھا کہ سمجھ نہیں آ رہا تھا زخم کہاں ہے اور سلامت حصہ کون سا۔
میں نے فوراً اپنا دوپٹہ اتار کر اس کے زخم باندھے، پھر سنگت نے اسے احتیاط سے اپنی بانہوں میں اٹھایا اور ہم اپنے ٹھکانے کی طرف واپس چل پڑے۔
وہاں پہنچے تو ساتھیوں نے اس کے لیے بچی ہوئی سوکھی روٹیاں پانی میں بھگو دیں، جبکہ میں فرسٹ ایڈ باکس لے آئی تاکہ اس کے زخموں کا وقتی علاج کر سکیں۔ اس کے پاؤں اور جسم پر گہرے دانتوں کے نشان تھے۔ لگتا تھا کسی جنگلی درندے کے چنگل سے وہ پوری جان لڑا کر نکل تو آئی تھی، مگر شدید زخمی ہو چکی تھی۔
زخم صاف کر کے ہم نے اُس کے زخموں کو باندھ دیا، پھر اسے نرم کی ہوئی روٹی اپنے ہاتھوں سے کھلائی۔ درد کم کرنے کا انجیکشن لگایا اور اسے آرام کرنے کے لیے چھوڑ دیا۔
وہ سو رہی تھی، اور میں بے اختیار اسے دیکھتی رہ گئی۔
اس کی بڑی بڑی آنکھیں… اس کے باریک، خوبصورت ٹانگ … اس کے جسم کا نسواری رنگ، جس پر گندمی دھبے ایسے باریکی سے بنے ہوئے تھے جیسے کسی مصور نے سالوں لگا کر بڑی محبت سے پینٹ کیا ہو۔ وہ ہرن کسی خواب کا ٹکڑا لگتی تھی۔
مگر کیا صرف خوبصورتی کسی شکاری کو رحم کرواسکتی ہے؟
کیا اُسکے جسم کا آرٹ اُسے درندوں کے چنگل سے نکال سکتا ہے؟
کیا وہ اپنی نادانی سے ایک ظالم کے دل کو پگلا سکتی ہے؟
بلا جھجک… نہیں۔
ہم بھی بعض اوقات یہ تصور کر لیتے ہیں کہ شاید گلزمین کی خوبصورتی، ہمارے باسیوں کی مجبوری، ہماری بے بسی، ہماری گمشدگیاں، ہمارے بیٹوں کی مسخ شدہ لاشیں، ہمارے بچوں کی بھوک اور ہماری ماؤں کی تڑپ کسی ظالم کے دل میں رحم پیدا کر دے گی، یا دنیا کو ہمارے لیے آواز اٹھانا سکھا دے گی۔
مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ بے رحم ہے۔ کوئی ہم پر رحم کرنے کا پابند نہیں۔ ظالم اپنا کام کرتا رہے گا، کیونکہ ظلم کے راستے میں خوبصورتی یا بےبسی کبھی رکاوٹ نہیں بنتی۔ جس طرح ایک شکاری کو ہرن کی خوبصورتی شکار کرنے سے نہیں روک سکتی، اسی طرح کسی قوم کا حسن، اس کی معصومیت یا اس کا دکھ بھی ظالم کے ہاتھ نہیں روکتا۔
رحم کی امید پر قومیں اگر زندہ رہتیں تو کالونئزر نام کی چیز پیدا ہی نا ہوتی۔ قومیں صرف اپنی ذہانت، قربانی، اپنے شعور اور اپنی جدوجہد کے سہارے باقی رہتی ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ ختن کے صحرا میں ایک خاص نسل کا ہرن پایا جاتا ہے جسے آہوئے مُشکین کہتے ہیں۔ ایک عمر کے بعد اس کی ناف کے قریب ایک نافہ بنتا ہے جس میں کستوری (مشک) جمع ہونے لگتی ہے، ایسی خوشبو جس کی قیمت سونے سے بھی زیادہ مہنگی ہے۔
المیہ یہ ہے کہ آہو کو گمان ہوتا ہے کہ یہ خوشبو کہیں باہر سے آ رہی ہے، سو وہ عمر بھر صحرا میں اسی کی تلاش میں دیوانہ وار اِدھر اُدھر دوڑتی پھرتی ہے۔
آہو نہیں جانتی کہ جس خوشبو کی تلاش میں وہ صحرا ناپتی پھرتی ہے، وہ خود اسی کے وجود سے اٹھتی ہے۔ مگر شکاری اس راز سے بخوبی واقف ہوتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ آہو کی سب سے قیمتی متاع کہاں ہے، اور وہی نعمت اس کے قتل کی وجہ بن جاتی ہے، جب تک کہ آہو خود ہوشیار اور چوکنا ہونا نہ سیکھ لے۔
اب اس موقعے پہ میں مولانا رومی کے مثنوی معنوی میں لکھے اس نظم کو یاد کیے بنا نہیں رہ سکتی کہ،
همچو صیادی سوی اشکار شد
گام آهو دید و بر آثار شد
چندگاهش گام آهو در خورست
بعد از آن خود ناف آهو رهبرست
چونک شکر گام کرد و ره برید
لاجرم زان گام در کامی رسید
رفتن یک منزلی بر بوی ناف
بهتر از صد منزل گام و طواف
یعنی جیسے ایک شکاری شکار کی تلاش میں نکلا تو ابتدا میں وہ آہو کے قدموں کے نشانات کا پیچھا کرتا رہا، مگر کچھ دیر بعد قدموں کے نشان بے معنی ہو گئے، کیونکہ خود آہو کی ناف سے اٹھنے والی مشک کی خوشبو اس کی رہنما بن گئی۔
مشک کی خوشبو شکاری کے دل میں رحم تو پیدا نہیں کر سکتی، ہاں البتہ اگر ذہانت سے کام نہ لیا جائے، اپنی خوشبو کی حفاظت نہ کی جائے، تو نقصان بھی اُسی مشک سے ملتی ہے۔
خود کو پہچاننا دشمن کو جاننے کے برابر ضروری ہے۔
اپنی طاقت، اپنی کمزوریاں، اپنی خوبصورتی، اپنی قیمت، اپنے وسائل اور اپنے وجود کی اصل قدر پہچاننا اور پھر دشمن کو اس سے بھی زیادہ پہچاننا۔ اس کی نیت، اس کی عادتیں، اس کی اگلی چال، اس کی طاقت اور اس کی کمزوریاں سمجھنا۔
ایک اچھا سپاہی اُس ختنی آہو کی طرح نہیں بنتا جسے اپنی ہی مُشک کا علم نہ ہو۔ بلکہ وہ اُس بولانی آہو کی طرح ہوتا ہے جو یہ جانتا ہے کہ اس کے نافے میں مُشک نہیں، لیکن پھر بھی اپنے ننھے ننھے کھروں سے اپنی حفاظت کرتا ہے، اپنے دوست اور خطرے کو پہچانتا ہے، اور ہر آہٹ پر بیدار رہتا ہے۔ کیونکہ اگر بقا قیمتی ہونے سے ملتی، تو مشک آج بازاروں میں نہ بک رہی ہوتی۔
ایک فلسطینی ڈاکٹر نے اپنی ڈاکیومنٹری میں ایک بات کہی تھی کہ “The enemy studies you.”
دشمن حملہ کرنے سے پہلے مشاہدہ کرتا ہے۔ وہ کمزوریاں نوٹ کرتا ہے اور طاقت کا اندازہ لگاتا ہے، پھر اپنی چال چلتا ہے۔
کسی بھی وجود کا سب سے بڑا نقصان اُس وقت شروع ہوتا ہے جب اُس کے بارے میں دوسروں کو اُس سے زیادہ علم ہونے لگے۔ جب دوسروں کو اس کی زمین، اس کے وسائل، اس کی کمزوریاں، اس کی طاقت اور اس کی قیمت اُس سے بہتر معلوم ہو جائے۔
آج اگر بلوچستان کو ہی دیکھ لیا جائے تو کتنے بلوچ ایسے ہیں جو اپنی ہی سرزمین میں موجود معدنی وسائل کی مکمل فہرست سے واقف ہیں؟ کتنے لوگ جانتے ہیں کہ ان زمینوں کے نیچے کون کون سی معدنیات دفن ہیں، ان کی مقدار کیا ہے، ان کی عالمی اہمیت کیا ہے، اور وہ کون سی چیز ہے جس نے صدیوں سے مختلف شکاریوں کی نظریں اس سرزمین پر جمائے رکھی ہیں؟
قبضہ گیر تو یہ کہتا ہے کہ تمہاری دولت سونے، تانبے، گیس اوور کوئلے تک محدود ہے۔ جبکہ آزادانہ رپورٹس کے مطابق یورینیم، لیتھیم، اور رئیر ارتھ منرلز تک موجود ہیں۔ آہو کی مشک کی طرح، بلوچستان کے اندر ایسی چیزیں بھی چھپی ہیں جن کا ذکر تک عام نہیں ہونے دیا جاتا، جبکہ شکاری عالمی طاقتیں اور کارپوریشنز کو اُن کا پورا علم ہوتا ہے۔
قدرت نے ہرن کو خوبصورتی اگر دی تو حفاظت کیلیے اُسے تیز کان دیے، ہوا کا رخ پہچاننے والی سونگنے کی صلاحیت دی، اور ایسی ٹانگیں دی جو ایک جست میں پہاڑوں کو عبور کرجائیں، اسی طرح اگر خدا نے بلوچستان کو جنت سا حسن اور معدنیات سے لاد دیا تو اُسکی حفاظت کیلیے اُسے اونچے اونچے پہاڑ اور پہاڑوں میں بسنے کیلیے آہو سے زیادہ خوبصورت اور ذہین سرمچار دیے۔
بہرال ، اگلی صبح ہمیں سفر پر نکلنا تھا۔ ساتھی کچھ پریشان تھے کہ زخمی آہو کو اس حالت میں کیسے چھوڑا جائے۔ مگر سنگت نے تسلی دی کہ یہ سروائیور ہیں، یہ پہاڑ ہی ان کا گھر ہیں۔ آخرکار اسے اپنی حفاظت خود ہی کرنی ہوگی۔
میں نے اُس خوبصورت آھُو کو دوبارہ ہاتھوں میں اٹھایا اور اسی پتھر کے پاس چھوڑ آئی جہاں سے ہم نے اسے زخمی حالت میں پایا تھا۔ چند لمحے وہ ٹھہری، پھر ہلکے ہلکے قدموں سے انہی پہاڑوں کی طرف لوٹ گئی، یہاں تک کہ نظروں سے اوجھل ہو گئی۔
شاید ان زخموں اور دانتوں کے نشان عمر بھر اس کے جسم پر رہیں مگر کم از کم وہ یہ بات کبھی نہیں بھولے گی۔۔۔
کہ ایک ہرن کی خوبصورتی، کسی درندے کے دل میں اُس کے لیے رحم نہیں پیدا کرسکتی۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































