بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں سیاسی مزاحمت اور انسانی حقوق کی آوازوں کو دبانے کے لیے عدالتی نظام کے مسلسل اور منظم استعمال کو مسترد کرتی ہے۔ ریاستی ادارے اور عدلیہ مبینہ طور پر مل کر بی وائی سی کی قیادت کو جھوٹے مقدمات، غیر آئینی کارروائیوں اور مسلسل قانونی ہراسانی کے ذریعے نشانہ بنا رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ گزشتہ 16 ماہ سے بی وائی سی کی قیادت، جن میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بی بی گر بلوچ، صبغت اللہ شاہجی، بی بی بو بلوچ اور گلزادی بلوچ شامل ہیں، مبینہ طور پر غیر منصفانہ حراست میں ہیں اور ان کے خلاف 50 سے زائد جعلی مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ قانونی عمل مکمل طور پر متاثر ہو چکا ہے، کیونکہ بی وائی سی رہنماؤں کو انسدادِ دہشت گردی عدالت میں ایک ماہ سے زائد عرصے تک خفیہ اور غیر علانیہ سماعتوں کا سامنا کرنا پڑا۔
بی وائی سی رہنماؤں کی جانب سے ان غیر آئینی کارروائیوں کا بائیکاٹ کیے جانے کے بعد، ریاست نے ان کی مرضی کے خلاف اپنے وکیل مقرر کیے اور ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہجی کو بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر عمر قید کی سزائیں سنائی گئیں۔
انہوں نے کہاکہ یہ بات واضح ہے کہ درجنوں جعلی ایف آئی آرز اور عمر قید کی سزائیں بھی ریاستی دباؤ کے مقصد کے لیے کافی نہیں تھیں۔ تازہ ترین ایف آئی آر نمبر 10/2026، جو 24 اپریل 2026 کو گلزادی بلوچ کے خلاف درج کی گئی، حکام کی جانب سے مقدمات گھڑنے کی انتہا کو ظاہر کرتی ہے۔
مزید کہاکہ گلزادی بلوچ کے خلاف پی ای سی اے 2016 اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت ٹک ٹاک پر ایک ویڈیو کے حوالے سے مقدمہ درج کیا گیا، جبکہ ایف آئی آر میں خود تسلیم کیا گیا ہے کہ وہ پہلے ہی ضلع بولان کے علاقے مچھ جیل میں عدالتی حراست میں ہیں۔ ایک ایسی خاتون کے خلاف سائبر مقدمہ درج کرنا جو پہلے ہی قید ہے، اور یہ مؤقف اختیار کرنا کہ کسی نامعلوم شخص نے ان کی جانب سے ویڈیو اپلوڈ کی، مقدمات کا انبار لگانے کی ایک بے بنیاد کوشش ہے۔
انہوں نے کہاکہ یہ اب محض ایک قانونی تنازع نہیں رہا بلکہ یہ عدالتی دباؤ اور سیاسی انتقام کی ایک منظم مہم بن چکا ہے۔ بی وائی سی کا کہنا ہے کہ اسے ایسے نظام پر اعتماد نہیں رہا جہاں اعلیٰ عدالتیں عدالتی جانبداری سے متعلق فوری درخواستوں کو نظر انداز کرتی ہیں اور اس کے چند ہی لمحوں بعد سخت سزائیں سنائی جاتی ہیں۔ ہم اس عدالتی جبر کے سامنے خاموش نہیں ہوں گے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی عالمی برادری، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور انصاف کے حامیوں سے فوری اپیل کرتی ہے کہ وہ بلوچستان کی صورتحال سے آنکھیں نہ چرائیں۔ ہم خفیہ مقدمات کے فوری خاتمے اور بی وائی سی کے تمام رہنماؤں کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

















































