کراچی کے علاقے شیر شاہ، میرا ناکہ پل کے قریب چند روز قبل پولیس فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے 17 سالہ نوجوان ثاقب بلوچ کے ورثا، عزیز و اقارب اور علاقہ مکینوں نے احتجاج کیا۔
احتجاجی مظاہرے میں شریک افراد نے واقعے پر گہرے دکھ، افسوس اور شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ’’ثاقب بلوچ کو انصاف دو‘‘ اور ’’ذمہ داروں کو سزا دو‘‘ جیسے نعرے درج تھے۔
شرکاء کا کہنا تھا کہ واقعے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور اگر کسی پولیس اہلکار کی غفلت یا زیادتی ثابت ہو تو اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ مظاہرین نے اس بات پر زور دیا کہ انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد بحال رہ سکے۔
اس موقع پر ثاقب بلوچ کے ورثا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 17 سالہ ثاقب ایک شریف، باصلاحیت اور خوش اخلاق نوجوان تھا، جس کی اچانک موت نے پورے خاندان کو ناقابلِ تلافی صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف انصاف کے طلبگار ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کے بیٹے کے خون کا حساب لیا جائے تاکہ مستقبل میں کسی اور خاندان کو ایسے المناک سانحے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
علاقہ مکینوں نے بھی احتجاج میں بھرپور شرکت کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس افسوسناک واقعے کے تمام پہلوؤں کی شفاف تحقیقات کر کے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں اور اگر کوئی فرد ملوث پایا جائے تو اسے کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔
مظاہرین نے سندھ حکومت، اعلیٰ پولیس حکام اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ متاثرہ خاندان کو فوری انصاف فراہم کیا جائے، تحقیقات میں کسی قسم کی تاخیر نہ کی جائے اور ورثا کے تمام قانونی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ احتجاج کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ انصاف کے حصول تک ان کی پرامن احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔













































