کوئٹہ: لواحقین کے احتجاج پر پاکستانی فورسز کا کریک ڈاؤن، متعدد مظاہرین گرفتار

61

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی قیادت ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی بلوچ کو عمر قید کی سزا کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق لواحقین کی جانب سے برما ہوٹل، سریاب، کوئٹہ میں ایک پُرامن احتجاج کا اعلان کیا گیا تھا تاکہ اسیر رہنماؤں کی رہائی اور ان کے خلاف جاری کارروائیوں کے خلاف اپنی آواز بلند کی جا سکے۔

لواحقین کے مطابق احتجاج کے آغاز سے قبل ہی پولیس اور دیگر فورسز کے اہلکاروں کی بھاری نفری موقع پر تعینات تھی۔ جیسے ہی مظاہرین نے اپنا پُرامن احتجاج شروع کیا، انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس دوران ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی چھوٹی بہن سمیت متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا۔

بعد ازاں گرفتاریوں کے خلاف احتجاجاً مظاہرین نے بشیر چوک کو بند کر دیا اور مظاہرے کو دھرنے میں تبدیل کر دیا۔ اس وقت بشیر چوک پر دھرنا جاری ہے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک باقی گرفتار افراد کو رہا نہیں کیا جائے گا، تب تک احتجاج جاری رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ کوئٹہ کے باشعور عوام، انسانی حقوق کی تنظیموں، وکلا، سیاسی کارکنوں اور سول سوسائٹی سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ دھرنے میں شامل ہو کر اظہارِ یکجہتی کریں اور انصاف، بنیادی حقوق اور قانون کی بالادستی کے لیے اپنی آواز بلند کریں۔