بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے دس روز کے دوران مختلف علاقوں میں چھبیس کارروائیاں سرانجام دیں۔ ان حملوں میں قابض فوج کے کیمپوں، چوکیوں اور قافلوں سمیت ان کے آلہ کاروں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ قابض کی معاشی ناکہ بندی کے تحت شاہراہوں پر ناکہ بندیاں کر کے قابض ریاست کو معاشی توانائی پہنچانے والی گاڑیوں کو حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔ سرمچاروں نے مرکزی شاہراہوں پر قائم پلوں کو بھی تباہ کیا۔ ان حملوں میں مجموعی طور پر قابض فوج کے تیس اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ انہیں بھاری مالی نقصانات سے دوچار کیا گیا۔ قابض فوج کے ساتھ جھڑپوں میں بی ایل اے کے جانباز سرمچار سنگت سفر خان شہادت کے مرتبے پر فائز ہو گئے۔
ترجمان نے کہاکہ 11 جون: جمعرات کی شب سرمچاروں نے پنجگور کے علاقے پروم میں قابض پاکستانی فوج کی پوسٹ پر حملہ کیا۔ دریں اثناء قلات کے علاقے منگچر میں بدرنگ کے مقام پر استحصالی کمپنی کے قریب قائم قابض فوج کی پوسٹ پر راکٹ لانچر اور گرنیڈ لانچر سے متعدد گولے داغ کر نشانہ بنایا۔ دونوں حملوں میں قابض فوج کو جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہاکہ 12 جون: مستونگ کے علاقے اسلپنجی میں قابض پاکستانی فوج کے ایک افسر کو مسلح حملے میں ہلاک کر دیا۔ سرمچاروں نے کوئٹہ میں میاں غنڈی کے قریب مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی قائم کر کے اسنیپ چیکنگ جاری رکھی، پیش قدمی کی کوشش کرنے والی قابض فوج کی گاڑی پر حملے میں تین اہلکار ہلاک ہو گئے، جبکہ بعد ازاں قابض فوج اور پولیس کی مزید نفری نے پیش قدمی کی کوشش کی جہاں ہونے والی جھڑپوں میں فوج کے مزید دو اور پولیس کا ایک اہلکار ہلاک اور کم از کم چار اہلکار زخمی ہو گئے۔ ان جھڑپوں میں سرمچار سنگت سفر خان شہید ہوگئے۔
انہوں نے کہاکہ 14 جون: کیچ کے علاقے گورکوپ سر کلگ میں قابض فوج کے پیدل اہلکاروں کو آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس میں ایک اہلکار موقع پر ہلاک ہوگیا۔ اسی روز مستونگ کے علاقے کردگاپ میں سرمچاروں نے قابض فوج کی پوزیشنز پر مارٹر گولے فائر کیے جس سے قابض فوج کے متعدد اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے، جبکہ شکست خوردہ قابض فوج نے کردگاپ شہر میں عام آبادیوں پر مارٹر گولے فائر کیئے جس کے نتیجے میں ایک خاتون شہید جبکہ ایک بچہ شدید زخمی ہو گیا۔
15 جون: نوشکی میں احمد وال پھاٹک کے مقام پر مرکزی شاہراہ پر سرمچاروں نے قابض فوج کی متعدد گاڑیوں کے قافلے میں شامل ایک گاڑی کو آئی ای ڈی حملے میں تباہ کرنے کے بعد دیگر گاڑیوں کو گھات لگا کر نشانہ بنایا؛ قابض فوج کی بکتر بند سمیت پانچ گاڑیاں براہِ راست حملے کی زد میں آئیں، جس کے نتیجے میں قابض فوج کے آٹھ اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
ترجمان نے کہاکہ دریں اثناء کیچ کے علاقے بلنگور میں ٹالوئیگ بازار میں قابض فوج کے مرکزی کیمپ کے قریب سرمچاروں نے قابض فوج کی دو گاڑیوں کو گھات لگا کر حملے میں نشانہ بنایا، حملے میں قابض فوج کے تین اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے جبکہ ایک گاڑی راکٹ لگنے سے تباہ ہو گئی۔
مزید برآں اسی روز مستونگ کے علاقے کردگاپ میں قابض فوج کی متعدد گاڑیوں کے قافلے کو اس وقت کوئٹہ-تفتان مرکزی شاہراہ پر حملے میں نشانہ بنایا گیا جب وہ قابض فوج کے افسران کو سیکیورٹی فراہم کر رہے تھے۔ حملے میں قابض فوج کی دو گاڑیاں براہِ راست حملے کی زد میں آئیں، جبکہ قابض فوج نے کواڈ کاپٹر کا استعمال کیا جن میں سے ایک کو سرمچاروں نے مار گرایا۔ اس حملے میں قابض فوج کے کم از کم چھ اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
ترجمان نے کہاکہ سرمچاروں نے سوموار کی شب تربت شہر میں تربت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے احاطے میں دشمن کی ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس کے کیمپ پر راکٹ اور گرنیڈ لانچروں سے گولے داغ کر نشانہ بنایا، حملے میں اے ایس ایف کا ایک اہلکار ہلاک اور مزید دو زخمی ہو گئے۔ ۵ جون کو سرمچاروں نے تربت میں دیہات کے مقام پر قابض فوج کی ایک چوکی پر گرنیڈ لانچر سے متعدد گولے داغ کر نقصانات سے دوچار کیا جبکہ چوکی پر نصب کیمروں کو تباہ کر دیا۔
مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ میں زد غلام جان کے مقام پر سرمچاروں نے قابض فوج کی ایک گاڑی کو حملے میں نشانہ بنایا جس میں دو اہلکار ہلاک ہو گئے۔
انہوں نے کہاکہ 16 جون: سوراب میں کوئٹہ – کراچی مرکزی شاہراہ پر ایک مرکزی پل اور نوشکی کے علاقے کیشنگی میں لنک روڈ پر سرمچاروں نے ایک پل کو دھماکہ خیز مواد نصب کر کے تباہ کر دیا۔ منگل کی شب پنجگور-چیدگی روٹ پر سرمچاروں نے سات بڑی گاڑیوں کو نشانہ بنا کر ناکارہ کردیا۔
17 جون: خضدار کے علاقے زہری میں کوچو کے مقام پر سرمچاروں نے قابض فوج کے بم ڈسپوزل اسکواڈ کے پیدل اہلکاروں اور ان کے ہمراہ آنے والی فوجی گاڑیوں کو گھات لگا کر حملے میں نشانہ بنایا اور نقصانات سے دوچار کیا۔
ترجمان نے کہاکہ 18 جون: بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے نوشکی بازار میں ڈپٹی سپرٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) و سی ٹی ڈی آفیسر افضل محمد حسنی کو مسلح حملے میں ہلاک کر دیا۔ یہ کارروائی بی ایل اے کے خصوصی دستے ‘اسپیشل ٹیکٹیکل آپریشنز اسکواڈ’ (STOS) نے سرانجام دی۔ مذکورہ کارندہ بلوچ نسل کش پالیسیوں میں براہِ راست ملوث تھا۔ افضل محمد حسنی نوشکی شہر اور گرد و نواح میں قابض فوج کے لیئے مخبروں کی بھرتی و ان کی سہولت کاری سمیت گھروں کی چادر و چار دیواری پامال کر کے نوجوانوں کی جبری گمشدگی اور ٹارگٹ کلنگ میں براہِ راست ملوث تھا۔ مذکورہ کارندہ فوجی جارحیت میں قابض فوج کی سہولت کاری میں شامل تھا جبکہ نوشکی میں ‘ڈیتھ اسکواڈز’ کی مالی معاونت میں بھی افضل محمد حسنی ملوث تھا۔
سترہ جون کو سرمچاروں نے نوشکی شہر میں امین الدین روڈ کے قریب ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے کارندے محمد قاسم بادینی کو مسلح حملے میں ہلاک کر دیا۔ مذکورہ کارندہ نوشکی شہر اور گرد و نواح میں جارحیت میں قابض فوج کے لیئے سہولت کاری میں ملوث ہونے سمیت بطور مخبر کام کر رہا تھا، جس کے بدلے قابض فوج نے مذکورہ کارندے کو بھتہ خوری کی کھلی چھوٹ دے رکھی تھی۔ مزید برآں مذکورہ کارندہ نوجوان لڑکوں کو بلیک میل کرنے اور ان کے جنسی استحصال میں بھی ملوث تھا۔
مزید کہاکہ سرمچاروں نے ۱۵ جون کو نوشکی شہر میں نیشنل بینک کے قریب انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے ایک کارندے طاؤس خان کو ہلاک کر دیا۔ مذکورہ کارندہ کافی عرصے سے قابض کے خفیہ ادارے کے لیئے کام کر رہا تھا۔ طاؤس خان قابض فوج کے لیئے مخبری اور گھروں پر چھاپوں میں سہولت کاری سمیت قابض کے لیئے مخبر بھرتی کرتا رہا ہے۔ گزشتہ سال حراست میں لیئے گئے کارندے سمیع سرپرہ نے انکشاف کیا تھا کہ طاؤس خان نے نومبر 2024 میں بی ایل اے کے حملے میں ہلاک ہونے والے یاسر جمالدینی اور اس کو آئی ایس آئی دفتر لے جا کر بطور مخبر بھرتی کروایا تھا اور بعد ازاں گھروں پر چھاپوں و جبری گمشدگیوں میں وہ اور طاؤس خان قابض فوج کے ہمراہ رہے ہیں۔ طاؤس خان کو قابض فوج نے چوری اور ڈکیتی کی کھلی چھوٹ دے رکھی تھی۔
انہوں نے کہاکہ 19 جون: کوئٹہ میں میاں غنڈی کے قریب پل پر سی ٹی ڈی اہلکاروں کو اس وقت ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا گیا جب وہ موٹر سائیکل پر سفر کر رہے تھے، جس سے دو اہلکار دھماکے کی زد میں آئے۔
بیان میں کہاکہ اورناچ کے علاقے علی کوہ کے مقام پر سرمچاروں نے کوئٹہ – کراچی مرکزی شاہراہ کا کنٹرول سنبھال کر گھنٹوں تک چیکنگ جاری رکھی۔
انہوں نے کہاکہ 20 جون: نوشکی میں اسٹیشن کے مقام پر سرمچاروں نے تین باؤزر گاڑیوں کو مسلح حملے میں نشانہ بنا کر ان کے ٹائروں کو ناکارہ کر دیا۔
مستونگ بائی پاس کے مقام پر قابض فوج کے قافلے میں شامل ایک گاڑی کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنا کر نقصانات سے دوچار کیا، جبکہ اسی روز پنجگور کے علاقے پروم کے مقام پر ‘ڈیتھ اسکواڈ’ کی ایک گاڑی کو سرمچاروں نے نشانہ بنایا جس میں انہیں نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ مزید برآں زراعت کے مقام پر پنجگور – چیدگی روٹ کا کنٹرول سنبھال کر سرمچاروں نے ایک ٹرالر گاڑی کے ٹائروں کو ناکارہ کر دیا۔
آخر میں کہاکہ بلوچ لبریشن آرمی اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ بلوچ سرزمین پر قابض فوج کے مکمل اخراج اور قومی آزادی کے حصول تک ہماری یہ منظم کارروائیاں اور معاشی ناکہ بندی مزید شدت کے ساتھ جاری رہے گی۔ دشمن ریاست کو معاشی و عسکری طور پر مفلوج کرنا ہماری حکمتِ عملی کا بنیادی حصہ ہے، اور اس قومی فریضے کی راہ میں اپنے جانباز سرمچاروں، بالخصوص سنگت سفر خان کی لازوال قربانی ہمارے انقلابی حوصلوں کو مزید جلا بخشتی ہے۔ ہم ایک بار پھر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ بلوچ وطن پر غاصبانہ قبضے کو طول دینے والے فوجی ادارے ہوں، ان کے مقامی نیٹ ورکس اور ڈیتھ اسکواڈز ہوں، یا مٹی کے وسائل کو لوٹنے والے استحصالی شراکت دار، سب بی ایل اے کے نشانے پر رہیں گے۔


















































