افغانستان کے سابق نائب صدر امراللہ صالح نے بلوچ انسانی حقوق کی معروف کارکن اور بلوچستان کی معروف و بڑی سیاسی جماعت بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا سنائے جانے پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قید و بند کی صعوبتیں ان کی سیاسی اور عوامی حیثیت کو کم کرنے کے بجائے مزید مضبوط کریں گی۔
امراللہ صالح نے اپنے بیان میں کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی شخصیات کو قید و بند کے ذریعے خاموش کرنے کی کوششیں اکثر الٹا نتیجہ دیتی ہیں، اور ایسے اقدامات ان کی جدوجہد کو مزید نمایاں کر دیتے ہیں۔ ان کے بقول ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری اور سزا انہیں بلوچ عوام کے درمیان مزید مقبول اور بااثر بنائے گی۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ گذشتہ چند برسوں سے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت کارروائیوں اور انسانی حقوق کے مسائل پر سرگرم آواز سمجھی جاتی ہیں۔ وہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی رہنماء ہیں اور متعدد احتجاجی تحریکوں اور عوامی مہمات کی قیادت کر چکی ہیں۔
ان کی سزا کے اعلان کے بعد مختلف انسانی حقوق کے کارکنوں، سیاسی حلقوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کی جانب سے بھی ردِعمل سامنے آیا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف سخت قانونی اقدامات آزادیِ اظہار اور سیاسی سرگرمیوں کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا معاملہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے خطے میں انسانی حقوق اور سیاسی آزادیوں سے متعلق جاری مباحث کا اہم موضوع بن چکا ہے، اور اس پر بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
















































