شاری بلوچ: وہ عظیم فدائی جس نے تاریخ کا دھارا بدل دیا – گلزمین بلوچ

53

شاری بلوچ: وہ عظیم فدائی جس نے تاریخ کا دھارا بدل دیا

تحریر: گلزمین بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

​دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی طاقتور ملک کسی دوسرے کمزور ملک پر غاصبانہ قبضہ کرتا ہے اور اس کے وسائل کو اپنی جاگیر سمجھنے لگتا ہے، تو وہاں سے ایک ایسی چنگاری جنم لیتی ہے جو آگے چل کر انقلاب کا شعلہ بن جاتی ہے۔ ایک دور وہ تھا جب دنیا بھر میں بڑے بڑے بادشاہوں کے خلاف انقلاب اٹھیں، ان کے تخت و تاج کو خاک میں ملایا گیا اور جن بادشاہوں کو خدا کا سایہ سمجھا جاتا تھا، انہیں عوام نے سڑکوں پر لا کھڑا کیا۔ اس مزاحمت نے محکوم قوموں کے دلوں میں یہ یقین پیدا کیا کہ طاقت صرف اسلحے میں نہیں بلکہ ارادوں میں ہوتی ہے۔ یہی وہ سوچ تھی جس نے بلوچستان کے لوگوں کو یہ حوصلہ دیا کہ ہم پاکستان کے اس قبضے کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے اور اپنی زمین کی آزادی کے لیے آخری سانس تک لڑیں گے۔

​جب بلوچستان میں مسلح جنگوں کا آغاز ہوا، تو کئی تنظیمیں بنیں اور سرمچاروں نے پہاڑوں کا رخ کیا تاکہ دشمن کو اپنی زمین سے نکال سکیں۔ پاکستان نے اپنی طاقت کو برقرار رکھنے کے لیے امریکہ اور چین جیسی عالمی طاقتوں سے ہاتھ ملایا اور ہماری زمین پر ان کے قدم جمائے۔ جب چینی اہلکار اور انجینئرز بلوچستان کے وسائل کی لوٹ مار میں شامل ہونے کے لیے آئے، تو بلوچ سرمچاروں نے انہیں اپنی زمین پر ایک بڑا خطرہ تصور کیا۔ لیکن اس جنگ میں ایک ایسا موڑ آیا جس نے پوری دنیا کے دفاعی ماہرین کو حیران کر دیا، اور وہ موڑ شاری بلوچ عرف برمش کا فیصلہ تھا۔

​شاری بلوچ وہ پہلی عورت تھی جس نے اس کٹھن اور خطرناک راستے کا انتخاب کیا۔ وہ کوئی ان پڑھ یا جذبات میں بہہ جانے والی لڑکی نہیں تھی، بلکہ وہ پاکستان کے ہی تعلیمی نظام سے اعلیٰ تعلیم یافتہ تھی، ایم فل کر رہی تھی اور ایک باعزت سرکاری نوکری پر فائز تھی۔ لیکن اس کے دل میں اپنے وطن کی مٹی کا قرض اور آزادی کی تڑپ اس قدر شدید تھی کہ اس نے اپنی تعلیم، اپنا کیریئر اور اپنا روشن مستقبل سب کچھ وطن پر وار دیا۔ شاری نے ثابت کیا کہ قلم جب بندوق کا ساتھ دیتا ہے، تو دشمن کے پاس چھپنے کے لیے کوئی جگہ نہیں رہتی۔ اس نے دشمن کو مارنے کی وہ بنیاد رکھی جو اس سے پہلے کسی عورت نے نہیں رکھی تھی۔

​شاری کے دو معصوم بچے تھے، جنہیں ایک ماں کی گود، اس کی لوری اور اس کی ممتا کی سخت ضرورت تھی۔ ایک ماں کے لیے اپنے جگر کے ٹکڑوں کو چھوڑنا موت سے بڑھ کر تکلیف دہ ہوتا ہے، لیکن جب بلوچستان کی سرزمین نے شاری کو آواز دی، تو اس نے اپنے بچوں کی محبت پر وطن کی محبت کو ترجیح دی۔ اس نے اپنے بچوں کو ایک آزاد مستقبل دینے کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔ کراچی یونیورسٹی کے گیٹ پر جب چینی اساتذہ کی گاڑی داخل ہوئی، تو شاری نے “مجید بریگیڈ” کے ایک فدائی کے طور پر اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے دشمن کو وہ پیغام دیا جسے وہ رہتی دنیا تک نہیں بھول پائیں گے۔ شاری نے بتایا کہ اگر کوئی لڑکی اپنے وطن کے لیے قربانی دے رہی ہے تو اس کے جذبے کو روکا نہ جائے بلکہ اس کا ساتھ دیا جائے، کیونکہ دشمن کو امن کی زبان سمجھ نہیں آتی، اسے صرف بارود کی زبان سمجھ آتی ہے۔

​آج شاری بلوچ کی اس عظیم قربانی نے بلوچستان کی تحریکِ آزادی میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔ آج کے دور میں جو جنگجو لڑکے محاذوں پر لڑ رہے ہیں، وہ شاری کی مثالیں دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ “جب ہماری ایک بہن، جس کے پاس اعلیٰ تعلیم تھی، نوکری تھی اور دو معصوم بچے تھے، وہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر دشمن کے کیمپوں میں گھس سکتی ہے، تو ہماری جانوں کی کیا حیثیت ہے؟” شاری نے مردوں کو بھی جرات کا وہ سبق پڑھایا جس نے اس جنگ کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا ہے۔

​شاری کے بعد اس کی اس جدوجہد نے وہ رنگ لایا کہ آج ماہل بلوچ، زرینہ بلوچ، سمیعہ بلوچ اور حوا بلوچ جیسی کئی بیٹیاں دشمن کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن چکی ہیں۔ یہ لڑکیاں اب دشمن کے کیمپوں میں جا کر انہیں مار رہی ہیں اور ثابت کر رہی ہیں کہ قابض فوج اب بلوچ لڑکیوں کے نام سے لرزتی ہے۔ شاری تمہاری یہ قربانی رائیگاں نہیں جائے گی، تمہارے لہو سے آزادی کا جو سورج طلوع ہوا ہے، وہ اب دشمن کو جلا کر ہی دم لے گا۔ یہ جنگ اب آخری سانس تک چلے گی اور ہر بلوچ بیٹی اب شاری بن کر دشمن کا مقابلہ کرے گی۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔