سرمچاری کیا ہے اور سرمچار کون؟
تحریر: یلان بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
آج ہم بلوچ قوم کی حیثیت سے ایک ایسے عہد میں زندگی بسر کر رہے ہیں جہاں جنگ، لاشیں اور خون کی داستانیں پہاڑوں سے لے کر میدانوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔ اس سرزمین کی خاطر سرمچار اپنے لہو سے اس مٹی کو سیراب کر رہے ہیں اور اپنی قربانیوں سے اس کی تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ زامران کے دلکش پہاڑوں اور وادیوں سے لے کر بولان کی سنگلاخ چٹانوں تک ایک ایسا راز پوشیدہ ہے جس کے مرکز میں سرمچاری اور سرمچار کی حقیقت موجود ہے۔ یہ سوال کہ سرمچاری کیا ہے اور سرمچار کون ہے، اپنے جواب میں کسی ابہام کا شکار نہیں؛ بلکہ اس کی حقیقت پانی کی مانند صاف، شفاف اور عیاں ہے۔
جولائی کے تپتے ہوئے سورج کی جھلسا دینے والی شدت ہو یا دسمبر کی وہ یخ بستہ راتیں جن کی سردی رگوں میں دوڑتے خون کو بھی منجمد کر دے، ان بلند و بالا پہاڑوں میں ایک ہی نام گونجتا ہے، سرمچار۔ بھوک کی سختیاں ہوں، طویل اور کٹھن سفر ہوں، یا موسم کی شدتِ گرما و سرما؛ ان پہاڑوں کی آغوش میں، اس مٹی کی محبت اور اس دھرتی سے وفاداری کے جذبے میں، ہر سانس کے ساتھ صرف سرمچار ہی بستا ہے۔
سخت عمل، انقلابی جذبہ، دوراندیشی، جنگی مہارت اور کامل ایمان، یہ وہ اوصاف ہیں جن کی کڑی آزمائشوں سے گزر کر ایک سرمچار تشکیل پاتا ہے۔ یہ صفات محض الفاظ نہیں بلکہ ایسی طویل اور مسلسل ریاضت کا نتیجہ ہیں جو انسان کے ذہن، کردار اور جسم کا حصہ بن جاتی ہیں۔ ان میں سے ہر وصف اپنے اندر ایک وسیع داستان اور ایک گہرا فلسفہ رکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سخت عمل اور کامل ایمان ہی وہ بنیادیں ہیں جن پر باقی تمام اوصاف استوار ہوتے ہیں۔ انہی کے ذریعے انسان اپنے اندر استقامت، بصیرت اور غیر معمولی قوتِ برداشت پیدا کرتا ہے۔ ذرا تصور کیجیے: جولائی کی جھلسا دینے والی گرمی ہے، سورج کی تیز شعاعیں بے رحم انداز میں سنگلاخ پہاڑوں پر برس رہی ہیں۔ چند سنگت مسلسل سفر میں ہیں۔ نہ ٹھنڈا پانی میسر ہے، نہ مناسب خوراک، اور نہ ہی آرام کا کوئی موقع۔ بس چلتے جانا ہے، آگے بڑھتے جانا ہے۔ اور ممکن ہے کہ حقیقت اس تصور سے بھی کہیں زیادہ کٹھن ہو۔ یہ مناظر پڑھنے یا لکھنے میں کسی افسانے کا حصہ محسوس ہوتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ سخت عمل، استقامت اور قربانی کی انتہا کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہی وہ آزمائشیں ہیں جو ایک سرمچار کے کردار کو تراشتی ہیں، اور یہی وہ داستان ہے جو اس کی اصل پہچان بنتی ہے۔
قربانی، شعور اور استقامت جیسی صفات عمل ہی کے ذریعے تشکیل پاتی ہیں۔ بقول Jean-Paul Sartre، انسان وہ نہیں جو اپنے بارے میں محض سوچتا ہے، بلکہ وہ ہے جو اپنے اعمال کے ذریعے خود کو بناتا ہے۔ سارتر کے مطابق انسان اپنی ہستی کو خود تخلیق کرتا ہے اور اپنے انتخاب و عمل کے ذریعے اپنے وجود کو معنی بخشتا ہے۔ مختلف معاشروں اور حالاتِ زندگی کے تناظر میں یہ عمل مختلف صورتیں اختیار کرتا ہے۔ ہم سرمچار کو دیکھ اور پڑھ رہے ہیں، اور اس کے تجربات سے یہ سیکھ رہے ہیں کہ سرمچار کس طرح اپنے اعمال کے ذریعے اپنی شخصیت اور وجود کو تراشتا ہے۔ یہی مسلسل عمل، جدوجہد اور تجربہ دراصل ایک مضبوط شعور اور طاقتور ذہن کی تشکیل کا سبب بنتے ہیں۔
میرے پاس اتنے الفاظ نہیں، نہ ہی میرا علم اس درجے کا ہے کہ میں سرمچار کے کردار کو پوری طرح بیان یا اس کا پیمانہ مقرر کر سکوں کہ سرمچاری کیا ہے اور سرمچار کون ہوتا ہے۔ میرا یقین ہے کہ یہ تصور عام انسان کے فہم اور روزمرہ تصورات سے کہیں بلند ہے اور ان عظیم انسانوں کے دائرۂ عمل میں آتا ہے جو اپنے کردار، قربانی اور عمل کے ذریعے غیر معمولی مقام حاصل کر لیتے ہیں۔ انسانی تاریخ اور تہذیب کے مختلف ادوار میں گوناگوں مکتبہ فکر سے وابستہ ایسے افراد پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے اپنے زمانے پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ قدیم یونان کے فلاسفہ نے علم و حکمت کی بنیادیں استوار کیں اور اپنے افکار کے ذریعے مغربی فلسفے کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اسی طرح ہمارے عہد میں سرمچار ایک ایسی شخصیت اور کردار کا استعارہ بن چکا ہے جو اپنے عمل، استقامت اور قربانی کے ذریعے ایک پوری قوم کو آزادی، وقار اور خودمختار زندگی کی جانب گامزن کرنے کی جدوجہد کر رہا ہے، اور یوں تاریخ کے دھارے میں ایک عہدساز کردار اختیار کر چکا ہے۔ سرمچار کو بیان کرنا آسان نہیں؛ ہاں، بالکل آسان نہیں۔ جب ہم سرمچاری کردار کے بارے میں چند الفاظ ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہاتھ لرزنے لگتے ہیں، گلا خشک ہو جاتا ہے، دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے اور پورا وجود ایک عجیب کیفیت میں ڈوب جاتا ہے، کیونکہ بعض کردار الفاظ سے نہیں بلکہ تاریخ کے صفحات اور قوموں کی یادداشت میں اپنی جگہ بناتے ہیں۔
سارتر کا اصرار ہے کہ نیک نیتی، خواب، ارادے یا محض دعوے انسان کی حقیقت متعین نہیں کرتے؛ انسان کی اصل شناخت اس کے عملی فیصلوں اور افعال سے تشکیل پاتی ہے۔ اگر اس اصول کو آج کے عالمی منظرنامے میں رائج مختلف فلسفیانہ نظریات، خواہ وجودیت ہو، حقیقت پسندی ہو یا کوئی اور فکری مکتب کے تناظر میں دیکھا جائے تو فلسفہ سرمچاری اپنی معنوی گہرائی، عملی صداقت اور ایثاری جوہر کے باعث ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ وہ کون ہے جو مسکراتے ہوئے اپنی جان نچھاور کر دیتا ہے؟ وہ کون ہے جو آخری گولی تک اپنے عہد پر قائم رہتا ہے؟ وہ کون ہے جو فدائی بن کر اپنے جسم کے ٹکڑوں کو اسی مٹی کی آغوش میں بکھر جانے دیتا ہے جس سے اس کی شناخت وابستہ ہے۔ وہ شخص بغیر کسی شکایت، لالچ، ذاتی مفاد، انا یا امتیاز کے بغیر صرف اپنی سرزمین، اپنے لوگوں اور اپنے اجتماعی وجود کی بقا کے لیے قربانی کے فلسفے کو عملی صورت دیتا ہے۔ یہی سرمچار ہے، یہی وطن زاد ہے، یہی زندہ دل انسان ہے جس نے ایمان، وفاداری، ایثار اور عمل کو محض نظری تصورات نہیں بلکہ اپنی زندگی کی حقیقت بنا دیا ہے۔
جیسا کہ لینن عمل کو سماجی اور انقلابی تبدیلی کے تناظر میں سمجھتا ہے، اس کے نزدیک انقلابی تنظیم، سیاسی جدوجہد اور اجتماعی اقدام ہی وہ ذرائع ہیں جو نظریات کو مادی حقیقت میں تبدیل کرتے ہیں۔ اگرچہ لینن نظریے کی اہمیت پر زور دیتا ہے، لیکن اس کے فلسفے کا بنیادی نکتہ یہی ہے کہ نظریہ اپنی معنویت اور سچائی عمل کے ذریعے حاصل کرتا ہے۔ روسی انقلاب، جسے جدید تاریخ کے عظیم ترین انقلابات میں شمار کیا جاتا ہے، اس حقیقت کی ایک نمایاں مثال ہے کہ مسلسل، منظم اور شعوری عمل ہی نظریات کو کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے۔ علم اور نظریہ، اگر عمل سے محروم ہوں، تو محض تجریدی تصورات بن کر رہ جاتے ہیں اور تاریخ کے دھارے پر کوئی اثر نہیں چھوڑتے۔
میرے نزدیک سرمچار محض ایک لفظ یا شناخت نہیں، بلکہ ایک زندہ عہد، ایک فکری و عملی روایت، اور ایک ایسا وجودی التزام ہے جو انسان کو اپنے مقصد سے جوڑتا ہے۔ سرمچاری دراصل مسلسل جدوجہد، اجتماعی شعور، ایثار اور عملی وابستگی کا نام ہے۔ یہی وہ طرزِ حیات ہے جو کارکنوں، جہدکاروں اور مزاحمت کے علمبرداروں کو محض حالات کا مشاہدہ کرنے والا نہیں بلکہ تاریخ کا خالق بناتی ہے۔ تنظیمی نظم و ضبط سے لے کر اجتماعی قربانی تک، سرمچاری وہ قوت ہے جو نظریے کو زندگی عطا کرتی ہے اور انسانی تاریخ کے کینوس پر اپنے عمل کے رنگ ثبت کرتی ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































