زمین زادی شہناز – واہگ بلوچ

32

زمین زادی شہناز

تحریر: واہگ بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

میری زمین پر جب بارش کا ایک بوند گرتا ہے، تو میری خاک کی رنگت میں خاکی نہیں بلکہ سرخ اور سبز رنگتوں کے امتزاج سے ایک ایسی رنگ ابھرتی ہے، جس کا ایک ہی معنی میں ہزار معنویت اپنی شناخت واضح کرتے ہیں۔ میرے زمین اور زمین کے سینے پر سینگار، میری پہاڑوں کا اس لیے ایک منفرد خوشبو ہے جہاں بارش، لہو، پسینہ، وفا، محبت، احساس، موسیقی، پھول، محبوبہ اور فطرت یکجا ہو کر وجود رکھتے ہیں۔

میری زمین اور میری پہاڑوں کا صرف ایک فطری رشتہ نہیں بلکہ ایک فکری رشتہ ہے، یہ رشتہ صدیوں سے نہ ٹوٹتے ہوئے بلکہ مضبوطی کی طرف بڑھتا جا رہا ہے کیونکہ اس میں امانت ہے، احساسات ہیں، درد ہے، ارمان ہیں، داستان ہے اور سب سے بڑھ کر غازیوں اور شہیدوں کے درمیان مہر و وفا اور عہد و پیمان کی گواہی اور ثبوت ہے۔

میری زمین اور زمین زادی شہناز کا اپنی پہاڑوں سے یہی رشتہ ہے۔ یہ محض فطری رشتہ نہیں، علامتی رشتہ نہیں، جذباتی رشتہ نہیں، عارضی رشتہ نہیں بلکہ فکری رشتہ ہے جو شہناز کو آج اس عظیم مقام پر کھڑا کر چکی ہے جہاں شکست اور کامیابی ہمیشہ ایک ساتھ، ایک رنگ اور ایک ہی رفتار میں منزل کی طرف آگے بڑھتے ہیں؛ جہاں ہمیشہ ناکامی کا خوف شکست کی رفتار کو تیز کرتا ہے؛ جہاں کامیابی اپنی رفتار میں اس وقت شدت لاتی ہے جب عارضی شکست اور عارضی کامیابی اصل منزل نہ ہو۔

شہناز جنگ کی محض علامت نہیں، شہناز جنگ کی انتخاب ہے۔ شہناز خود جنگ ہے۔ شہناز سمجھتی ہے کسی بھی جنگی کمانڈر کے پاس حالتِ جنگ میں وقت اور توانائی قلیل ہوتی ہے؛ اگر وہ چھوٹی چھوٹی رکاوٹوں، باتوں، بحث، مخالفت یا معمولی چیزوں پر الجھنا شروع کر دیں تو وہ اپنی ذہنی اور جسمانی توانائی ضائع کر دے گا۔

پھر جب اسے حالتِ جنگ میں کوئی بڑا مسئلہ، مصیبت یا چیلنج درپیش ہوگا تو اس کے پاس اسے لڑنے کی ہمت نہیں بچتی کیونکہ وہ پہلے سے اپنے آپ کو غیر ضروری، فضول اور ناکارہ چیزوں میں تھکا دے چکی ہے۔ دراصل جنگیں قوموں کے بگڑنے اور بننے کے سجے ہوئے میدان ہوتے ہیں، مقدر اور تقدیر میں دراڑ ہوتے ہیں، عروج و زوال کی داستانیں ہوتی ہیں، ترقی و تباہی کے آغاز ہوتے ہیں، امن و بربادی کے انتہاء ہوتے ہیں، کامیاب اور ناکام کرداروں کے زرخیز فصل ہوتے ہیں۔

کون کہتا ہے جنگ قومی نجات و ہدف ہوتا ہے؟ اس کا فیصلہ جنگ خود کرتی ہے؛ جنگ تمہارا نجات و ہدف، امن کا ضامن، ترقی کا راز، اور آزادی کا راستہ اس وقت ہو گا جب تم جنگ کو شور نہیں شعور مانتے ہو، جنگ کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہو، جنگ کو عبادت سمجھتے ہو، جنگ کو فطرت و محبت سمجھتے ہو اور جب تم جنگ کو اپنی شعور کی اس اعلی مقام پر رکھتے ہو جہاں تمہاری انفرادی خواہشات و ترجیحات اور تسکینات کا وجود خود غیر اخلاقی پن ظاہر کرے۔ تو تم جنگ کو اپنا اور جنگ تمہں اپناتا ہے۔ یہی انقلابی جنگ کی اصل صفت ہوتی ہے۔

کمانڈر شہناز بلوچ نے یہی انقلابی صفات آج اپنی فطرت میں تبدیل کر لی ہیں۔ شہناز بلوچ یہ جانتی ہیں کہ قومی جنگوں میں قربانیوں کی کوئی حد نہیں ہوتی بلکہ قربانیوں کا ایک تسلسل ہوتا ہے۔ یہی جاری تسلسل قوموں کی تقدیر بدلنے میں کارگر ثابت ہوگا۔ بلوچ قومی آزادی کی جنگ میں خواتین کا شمولیت، بلوچ قومی تحریک میں ایک اہم تاریخی موڑ ہے مگر جب یہ شمولیت شعور اور پختگی کے دائرے سے ہٹ کر جذباتیت اور کیفیت کی بنیاد پر قائم ہو تو یہ بلوچ قومی تحریک کے لیے انتہائی خطرناک موڑ ثابت ہوگی۔

اب یہ غور و فکر ناگزیر ہو چکا ہے کہ اکیسویں صدی کے بلوچ قومی جنگ میں اولِ جنگجو و فدائی شہید شاری بلوچ جیسی انتہائی باشعور اور نظریاتی و فکری طور پر پختہ خاتون کی مقدس قربانیوں کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے فرمائے ہوئے راستے کی پاکیزگی اور مقدسیت کو قائم رکھنا سب بلوچوں کی قومی امانت ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔