نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی ترجمان نے کہا ہے کہ پارٹی پشتون و بلوچ سمیت تمام محکوم اقوام کے سرزمین کا احترام کرتے ہوئے تاریخی، سیاسی، سماجی و ثقافتی بنیادوں پر قومی وحدتوں کے تشکیل کا حمایت کرتا ہے، لیکن ضروری ہے کہ تمام محکوم اقوام اپنے دائرہ حدود میں رہ کرجغرافیائی ترتیب کو انسانی ومعاشرتی اصولوں پر گامزن رویوں کو مدنظر رکھ کر مطالبات کے بحث کو پختگی فراہم کریں۔ محکوم اقوام کے قومی وحدت پر ضرب لگانے کا مقصد سابقہ برطانوی نوآبادیاتی انتظامی تقسیم کو برقرار رکھنا ہے تاکہ عالمی سامراجی عزائم کو محفوظ رکھنے کے لئے جدید نوآبادیاتی ریاست کے تشکیل سے خطے کی سیاست کو بین الاقوامی سرمایہ داریت اور عالمگیر سامراجیت کے ماتحت بنایا جاسکے ۔
ترجمان نے کہاکہ سابقہ برطانوی نوآبادیاتی دور میں بلوچ اور پشتون علاقوں کو ڈیورنڈ اور گولڈ اسمتھ لکیروں سے انکے قومی اجتماعی قوتوں کو کمزور کرکے انتظامی اکائیوں میں تقسیم کیا گیا تاکہ استعماریت کے خلاف ممکنہ مزاحمتی جدوجہدکو قابو میں رکھا جاسکے۔ بلوچ علاقوں کو قلات ریاست سے لیز پر لینا اور ریل کے پٹڑی بچھا کر کابل اور تہران پر قبضہ کرنا سابقہ برطانوی نوآبادیاتی سازشوں کا حصہ تھا، جسکے لئے پشتون اور بلوچ سرزمین کو زمینی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا، چونکہ سابقہ برطانوی نوآبادیات کو اس خطے میں ایک نظام کے ماتحت کرنا تھا تو برٹش-بلوچستان سے منسوب ان علاقوں کو ایک پولیٹیکل ایجنٹ کے زیر وکرم پر کردیا گیا تاکہ پشتون و بلوچ عوام کو سابقہ برطانوی نوآبادیاتی پالیسیوں کے تحت چلایا جاسکے۔ معاملات صرف زمینی راستے کو اختیار کرکے حکومت کرنے سے زیادہ سابقہ برطانوی نوآبادیاتی تسلط کو پورے برصغیر پر قائم رکھنے کے لئے زیر زمین معدنیات کو کثرت سے لوٹ کر نکالنا ان کا بنیادی اہداف میں شامل تھا، جسکی مثالیں موجود ہیں اور ان میں ایک واضح ثبوت اس خطے سے بھاری مقدار میں معیاری کوئلہ نکال کر کلکتہ کے صنعتوں کو ایندھن فراہم کرنا تھا۔
بیان میں کہاکہ فقیر ایپی و پالے خان مندوخیل پشتون قوم کے وہ باشعور قیادت تہے جنہوں نے سابقہ برطانوی نوآبادیاتی نظام کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہے، اور پشتون سرزمین کا ھر حصہ غلامی سے نفرت کا واضح ثبوت ہیں جہاں پشتون قوم نے قربانیاں دے کر استعماریت و سامراجیت کے خلاف پنجہ آزمائی کرتے رہے- بدقسمتی سے مذہب کو آلہ ہتھیار بنا کر پشتون و بلوچ سمیت دیگر محکوم اقوام کو سابقہ برطانوی سامراج نے اپنے ماتحت نئے بننے والے جدید نوآبادیات ریاست کے ماتحت کرتے ھوے دو قطبی عالمگیر قوتوں کے مابین اس خطے میں موجود محکوم اقوام بالخصوص پشتون قوم کو آگ و خون میں لپیٹ کر جنگ کے آگ میں جھونک دیا۔ آج صورتحال سب پر عیاں ہے کہ پشتون و بلوچ سرزمین کو مقتل گاہ بنا دیا گیا ہے اور جہاں سے موجودہ بالادست حکمران اپنے مذموم عزائم کو تکمیل تک پہنچانے کے لیے سامراجی کھیل کھیلتے ہوئے دونوں محکوم اقوام کے مابین غلط اندازوں پر مبنی نفرت کے جذبات ابھار رہے ہیں۔ بدقسمتی سے آج بھی ریاست کے ایوانوں میں بلوچ و پشتون سمیت دیگر محکوم اقوام کو شفاف انتخابات کے ذریعے رائے شماری کرنے نہیں دیتے اور بوگس حکمرانوں کو پشتون و بلوچ کا انتظامی امور سنبھالنے کے لئے غیر فطری قوانین کو مسلط کرایا جاتا ہے۔ بلوچ و پشتون سرزمین پر افراتفری و بد امنی کے ذمہ داران بوگس حکمرانوں کے پیروی کرنے والے منفی عوامل ہیں جو کہ اصل بالادست حکمران کو استعماری قوت فراہم کرنے کے لئے سہولت کاری فراہم کر رہے ہیں۔ لہٰذا اس معاملے کو سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ مشترکہ اور باہمی اشتراک سے ان سازشوں کو بے نقاب کیا جاسکے۔
مزید کہاکہ نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی بلوچ اور پشتون عوام کے مابین اختلافات یا نفرت پیدا کرنا کسی بھی طور پر ان محکوم اقوام کے مفاد میں نہیں سمجھتا۔ اس کے برعکس، دونوں اقوام کا اصل مفاد باہمی اتحاد، سیاسی شعور اور مشترکہ جدوجہد میں مضمر ہے تاکہ اس تاریخی اور انتظامی عدم مساوات کا خاتمہ کیا جا سکے۔محکوم اقوام کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کے بجائے اپنے اپنے قومی، سیاسی اور جمہوری حقوق کے حصول کے لیے اپنے حدود و قومی وحدت میں منظم ہونا چاہیے اور ایک دوسرے کی جدوجہد کا احترام کرتے ہوئے تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔ صرف باہمی اتحاد اور سیاسی شعور کے ذریعے ہی اس موجودہ انتظامی تقسیم کے منفی اثرات کو ختم کیا جا سکتے ہیں اور دونوں محکوم اقوام کے لیےاپنے قومی وحدت میں ایک منصفانہ، جمہوری اور بااختیار نظام کی طرف پیش رفت ممکن بنایا جاسکتا ہے۔















































