بلوچستان: ایک شخص جبری لاپتہ، دو بازیاب

47

کوئٹہ کے علاقے کلی الماس ایئرپورٹ روڈ سے 15 سالہ قدرت اللہ بلوچ ولد سفر خان بلوچ کے جبری گمشدگی کا کیس سامنے آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق قدرت اللہ، جو پیشے کے اعتبار سے مزدور ہیں، کو 17 مئی 2026 کی رات تقریباً ایک بجے ان کے گھر سے سی ٹی ڈی اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لیا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا، جبکہ تاحال ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

دوسری جانب نیشنل کالج آف آرٹس (این سی اے) لاہور کے شعبہ فلم سازی کے طالب علم مہراب خالد بازیاب ہو گئے ہیں۔ مہراب خالد کو 29 مئی کی رات تقریباً ساڑھے بارہ بجے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق ان کے ساتھ آٹھ دیگر ہم جماعت طلبہ کو بھی حراست میں لیا گیا تھا، جنہیں بعد ازاں رہا کر دیا گیا، تاہم مہراب خالد کئی روز تک لاپتہ رہے۔ آج ان کی بازیابی کی تصدیق سامنے آئی ہے۔

ادھر ضلع ہرنائی کے علاقے جلال آباد کے رہائشی میر چاکر مری ولد الٰہی بخش بھی بازیاب ہو گئے ہیں۔ انہیں 14 مئی 2026 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔ اہل خانہ کے مطابق انہیں 3 جون 2026 کو لورالائی میں رہا کر دیا گیا۔