بارُودی امریت – سنگت ھانلی

18

بارُودی امریت

تحریر: سنگت ھانلی

دی بلوچستان پوسٹ

سنگت اسے وہاں پہنچا کر واپس جا چکا تھا۔ آگے کی منزل اسے خود طے کرنی تھی۔
اکتالیس درجے کی گرمی میں سیاہ عبایا ، تربت کی آگ اگلتی سڑکیں, اور سینے پر بندھی اس کے دشمن کی موت۔ بارُود۔ ان سب کے باوجود وہ خوش تھی کیونکہ آج اس کی ادھوری منگنی کی بارات تھی۔ آج وہ سمو سے فدائی سمو بننے جا رئی تھی۔ آج وہ امر ہونے جارہی تھی۔

اب اُس کی نظریں سامنے آتی کانوائے پہ تھیں، سامنے والی گاڑی میں انٹیجنس افسرز اور پیچے پولیس پروٹوکول ۔ مگر اُسکا پرائمری ہدف صرف سامنے والی گاڑی تھی۔ وہ درختوں کی اوٹ سے نکل کر روڈ کی طرف ایسے لپکی جیسے ایک بھوکی شیرنی اپنے شکار کی طرف۔

گاڑیاں قریب ہوتی جارئیں تھیں۔

پانچ سیکنڈ
تین سیکنڈ
دو سیکنڈ

اور اُس نے پِن کھینچ دی۔

دھماکے کے ساتھ فدائی سمو کا سر اُس کے جسم سے کئی فٹ دور جا گرا اور جسم ان گنت ٹکڑوں میں بٹ کر وطن کی ہواؤں میں تحلیل ہوگیا۔

ہدف والی گاڑی کا لوہا پھول کر پھٹ گیا، شیشے ہوا میں ریزہ ریزہ ہو کر جسموں میں جا بسے۔ آگ نے ایک لمحے میں سب کچھ پھگلا دیا۔ سڑک پر خون، دھواں، بارود کی مہک اور لوہے کے ٹکڑے بکھر گئے۔ انٹیلیجنس افسرز اس دائمی آگ میں تڑپ رہے تھے جو سمو اپنے سینے پر اٹھالائی تھی۔

سمو ہیراقلیتس کی آگ میں امر ہو چکی تھی۔

کہتے ہیں کہ قدیم یونانی فلاسفرز نے کائنات کی بنیادی حقیقت کو سمجھنے کے لیے مختلف تصورات پیش کیے۔ تھیلیس کے نزدیک ہر شے کی اصل پانی تھا، اناکسیمینیز نے ہوا کو بنیاد قرار دیا، جبکہ اناکسیمانڈر نے ایک غیر متعین اور لامحدود مادے کا تصور پیش کیا۔ اور ہیراقلیتس نے آگ چنی۔
باقی سب نے سٹیٹک چیزیں چنی, پانی پانی رہتا ہے، ہوا ہوا رہتی ہے۔ مگر ہیراقلیتس نے دیکھا کہ کائنات کبھی رکتی نہیں، کبھی ایک حالت میں نہیں رہتی۔ اور آگ وہ واحد چیز ہے جو اپنی ذات میں خالص تبدیلی ہے ۔ وہ ایک لمحے کے لیے بھی وہی نہیں رہتی جو پہلے تھی۔
آگ تبدیلی کا سیمبل ہے۔ مگر اس سے بھی بڑھ کر، آگ زندگی کا سیمبل ہے۔

بائیولوجی میں زندگی کی تعریف یہ ہے کہ کوئی چیز زندہ ہے اگر تو وہ کھائے، سانس لے، بڑھے، اور اپنی نسل آگے بڑھائے۔ آگ یہ سب کرتی ہے۔۔ وہ سب کچھ کھاتی ہے، لکڑی ، گوشت، لوہا سب کچھ، وہ آکسیجن لیتی ہے، کاربن خارج کرتی ہے، پھیلتی ہے، اور نئی آگ کو جنم دیتی ہے۔ راکھ کی شکل میں فضلہ خارج کرتی ہے۔ آگ علاقے کے لیے لڑتی ہے۔ آگ کبھی سمجھوتہ اور برداشت نہیں کرتی۔

میرے نزدیک آگ انسان سے زیادہ زندہ ہے۔

آگ جیتی ہے کیونکہ وہ ڈسٹرکشن کرتی ہے ۔ جو چیز اپنی بقا کے لیے ڈسٹرکشن نہیں کرسکتی ،وہ خود ڈسٹرکٹ کردی جاتی ہے۔ جو قوم اپنے استحصال کرنے والوں کو تباہ نہیں کرسکتی، وہ خود تباہ کر دی جاتی ہے۔ یہ ایک یونیورسل رول ہے۔ یہی فدائین کا فلسفہ ہے۔ یہی وہ آگ ہے جسے 2018 میں ریحان نے چُنا، یہی وہ آگ ہے جس میں 2023 میں سمو امر ہوئی۔

سمو کے سینے پر بندھا ہوا آر ڈی ایکس وہ بارود تو نہیں تھا جو چینی الکمسٹس نے بنائی تھی، لیکن اُسی کی ایک قسم ہے جو کہ صدیوں کے ارتقاء کے بعد اپنی سب سے خالص اور طاقتور شکل میں آئی۔ مگر اس سفر کو سمجھنے کے لیے شروع سے چلنا پڑے گا۔

ساتویں سے نویں صدی عیسوی میں چین میں ٹاینگ ڈائنسٹی کا دور تھا۔ ٹاوئزم اپنے عروج پر تھی اور ٹاؤسٹ الکمسٹس ایک مقدس مشن پر تھے۔ وہ elixir of immortality ڈھونڈ رہے تھے، ایک ایسا مادہ جو انسان کو موت سے بچا لے اور ہمیشہ کے لیے زندہ رکھے۔ یہ یاد رکھیے گا کہ یہ لوگ اپنے دور کے سب سے پڑھے لکھے، سب سے باریک بین سائنسدان تھے۔

۸۵۰ عیسوی کے قریب ایک ٹاؤسٹ تحریر میں اس حادثے کا پہلی بار ذکر ملتا ہے کہ اُن الکمسٹس نے تین چیزیں ملائیں۔ پوٹاشیم نائٹریٹ جسے وہ ونٹر فروسٹ کہتے تھے، چارکول یعنی جلی ہوئی لکڑی، اور سلفر۔ یہ تینوں چیزیں الگ الگ بے ضرر تھیں مگر جب ملیں اور آگ نے انہیں چھوا تو لیب میں دھماکہ ہوا، اور الکمسٹس جھلس گئے۔ بعد میں سروائور نے اس واقعے کو لکھا اور ساتھ لکھا کہ
“dont try this”
وہ امرت بنانا چاہتے تھے مگر غلطی سے انہوں نے بارود بنائی اس وجہ سے ان کے نزدیک یہ ایک ناکام تجربہ تھا۔ مگر میرے لیے یہ تاریخ کا سب سے کامیاب تجربہ ہے کیونکہ انہوں نے واقعی وہ چیز بنائی جو انسان کو موت سے بچاتی ہے، بس طریقہ وہ نہیں تھا جو وہ سوچ رہے تھے۔ امرت پینے سے امریت نہیں ملتی۔ امریت اس وقت ملتی ہے جب کوئی اتنا بڑا کام کر جائے کہ تاریخ اسے خود بھولنے سے انکار کر دے۔ بلوچستان میں ہزاروں لوگ ہر سال مرتے ہیں اور دنیا انہیں نہیں جانتی۔ وہ مرتے ہیں اور مر جاتے ہیں۔ لیکن جب فدائین مرتے ہیں وہ مر نہیں جاتے۔ سمو نے وہی کیا جو چینی الکمسٹس ڈھونڈ رہے تھے مگر ان سے بہتر طریقے سے۔ انہوں نے کیمیا میں امریت ڈھونڈی اور سمو نے اپنے مقصد میں۔ بارود نے وہ دیا جو کیمیا نہیں دے سکتی تھی، سمو تاریخ میں ایسے بسی ہے جسے ہزاروں سالوں تک نہ پاکستانی فوج، نہ ہی چائنیز سرمایہ کار مٹا سکتے ہیں۔ الکمسٹس کے نام تو تاریخ نے محفوظ نہیں کیے البتہ سمو کا نام محفوظ ہے۔ وجہ امریت ہے جو اُسے اس کے مقصد اور بارُود سے ملی۔

ایک اور اتفاق یہ کہ چینیوں نے ابتداء میں اسے فائر ڈرگ کہا، جسکا پہلا استعمال شیطانی بھوت پریت بھگانے کے لیے کیا گیا۔ اُنہیں یقین تھا کہ بارُود بری روحوں کو دور کرتی ہے۔ اور میں اس پہ بھی متفق ہوں۔ ہماری سرزمین سے بُری روحوں کو بارود ہی دور کریگی، یا تو گن پاؤڈر کی صورت میں یا سینے پہ بندھے اور گاڑی میں بھرے ایکسپلوزوز کی شکل میں۔ وہ بارُود جسکی خوشبو ہزاروں عطر سے دلکش ہے، وہ بارُود جس سے سنگار ہونے والے نئی نویلی دلہن اور گلاب زلف میں لگائے محبوبہ سے زیادہ حسین لگتے ہیں۔ وہ بارُود جو غلام کو دائمی آزادی کی طرف دھکیلتی ہے۔ شارُل کے بیگ میں بھرا بارُود ، سمُل اور ہتم ناز کے سینے سے بندھا بارُود ، ماھلو اور آصفہ کی گاڑیوں میں بھرا بارُود۔ وہ بارُود جسکے پہلے استعمال کا مقصد (spiritual protection) روحانی تحفظ تھا۔ اور آج بھی اسکا مقصد تقریباً یہی ہے ۔

یہ سفر یہاں نہیں رکا۔ صدیاں گزرتی رہیں اور بارود اپنی شکلیں بدلتی رہی۔ ۱۹۴۵ میں نیو میکسیکو کے صحرا میں جب پہلا ایٹم بم پھٹا تو Oppenheimer نے بھگوت گیتا کی وہ سطر پڑھی جو صدیوں پہلے لکھی گئی تھی۔ “now i became death, destroyer of the worlds” (اب میں موت بن گیا ہوں، دنیاوں کا تباہ کرنے والا۔ )

آگ اپنی آخری اور سب سے طاقتور شکل میں ظاہر ہو چکی تھی۔ مگر اوپن ائیمر کی آگ ریاست، طاقت اور سامراج کی آگ تھی۔

سمو کی آگ مختلف ہے۔ وہ اس انسان کی آگ ہے جس کے پاس کھونے کے لیے صرف غلامی اور پانے کے لیے امریت تھی۔ سمو کے سینے پر جو RDX تھا وہ چینی الکمسٹس کی بارود کا براہ راست وارث تھا۔ آگ جیتی ہے کیونکہ وہ کنزیوم اور تباہی کرتی ہے، تاکہ نئی شکل میں زندہ رہے۔ اپنی بقاہ کے لیے دشمن کنزیوم کرنا ہی تو فدائین کا فلسفہ ہے۔

چینی الکمسٹس یہ نہیں جانتے تھے کہ امریت نہ موت سے ملتی ہے، نہ ہی زندگی سے۔ امریت صرف بارُودی آگ سے ملتی ہے۔ امر تو صرف آزادی کے فدائین ہوتے ہیں ۔

‏πῦρ ἀείζωον
آگ ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔