بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ نے پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خضدار میں پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی میر رؤف مینگل کے گھر پر فورسز کے چھاپے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے اس کارروائی کو بلوچستان میں جاری مظالم کے خلاف آواز اٹھانے سے پارٹی قیادت کو روکنے کے لیے “کٹھ پتلی حکومت” کا شرمناک اقدام قرار دیا۔
اس موقع پر بی این پی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ، مرکزی لیبر سیکرٹری موسیٰ بلوچ، مرکزی خواتین سیکرٹری شکیلہ نوید دہوار، بی ایس او کے مرکزی سیکرٹری جنرل صمند بلوچ، سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین غلام نبی مری، چیئرمین جاوید بلوچ، حاجی باسط لہڑی، میر مقبول لہڑی، چیئرمین واحد بلوچ، ضلع کوئٹہ آرگنائزر حاجی وحید لہڑی، ڈپٹی آرگنائزر جاوید بلوچ، اور آرگنائزنگ کمیٹی کے اراکین غلام مصطفیٰ مگسی، جان محمد مینگل، لالا عبدالغفار مینگل، حاجی محمد ابراہیم پرکانی، کاول خان مری، میر وائس مینگل، میر حبیب اللہ لانگو، نصیر احمد مینگل، ایڈووکیٹ فریدہ بلوچ، میر ناصر قمبرانی، رضا شاہی زئی سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا کہ میر رؤف مینگل کے گھر پر بغیر کسی وارنٹ کے چھاپہ مارا گیا، جو ایک غیر قانونی اور شرمناک اقدام ہے۔ ان کے بقول ایک میجر کی سربراہی میں کی گئی اس کارروائی کا مقصد صرف میر رؤف مینگل اور ان کے خاندان کو ہراساں کرنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں بی این پی فارم 47 حکومت کے ہر غیر قانونی اقدام کے خلاف آواز بلند کرتی رہے گی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جنرل مشرف کے مارشل لا دور میں بھی سردار اختر جان مینگل کو لوہے کے پنجرے میں عدالت لایا جاتا تھا، مگر وہ اپنے عوام کا مقدمہ لڑنے سے پیچھے نہیں ہٹے۔
ساجد ترین نے الزام عائد کیا کہ مشرف دور میں بھی پارٹی کارکنوں کو اغوا اور شہید کیا گیا، تاہم بی این پی نہ اس وقت ڈری تھی اور نہ آج جبر کے سامنے جھکے گی۔ انہوں نے بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایک شرمناک رجحان قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ کونسلر کی نشست بھی نہیں جیت سکتے، وہ سردار اختر جان مینگل کے خلاف بیان دے کر اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق کٹھ پتلی حکومت کی پالیسیوں کے باعث بلوچستان کے نوجوانوں میں نفرت بڑھ رہی ہے، جبکہ ملک میں ہر اس شخص کو غدار قرار دیا جاتا ہے جو ظلم اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرے۔
ساجد ترین نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ بلوچستان میں کٹھ پتلی حکومتیں اور نمائندے مسلط کرنے کے نتائج خود دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ چار ماہ کے دوران وڈھ میں صرف سردار اختر جان مینگل کو نشانہ بنانے کے لیے “جنگی ماحول” پیدا کیا گیا۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بی این پی نے ہمیشہ بلوچستان کے مظلوم طبقات کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی ہے اور یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے، جس کا حل صرف سنجیدہ اور بامقصد مذاکرات میں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فارم 47 کے تحت آنے والے نمائندے ایسے حالات میں اپنا سیاسی فائدہ دیکھتے ہیں کیونکہ اگر حالات معمول پر آ جائیں تو وہ کونسلر کا انتخاب بھی نہیں جیت سکیں گے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا کہ بی این پی سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں ظلم و جبر کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور فورسز کے چھاپے، جعلی مقدمات اور دیگر کارروائیاں پارٹی کو اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹا سکتی۔



















































