کوئٹہ، حب: 3 افراد جبری لاپتہ

11

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جہاں 2 مئی 2026 کو مختلف علاقوں سے مزید تین افراد کو پاکستانی فورسز نے حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق، 27 سالہ الطاف حسین بلوچ ولد الٰہی بخش کو 2 مئی کی رات تقریباً 2 بجے حب چوکی سے فورسز نے حراست میں لیا۔ ذرائع کے مطابق انہیں آئی ایس آئی، سی ٹی ڈی اور ڈیتھ اسکواڈ سے وابستہ اہلکاروں نے اٹھایا۔ ان کا مستقل تعلق ضلع آواران کے علاقے گشکور سے بتایا جاتا ہے، جبکہ وہ حب چوکی میں مقیم تھے۔

دوسرا واقعہ کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں پیش آیا، جہاں 40 سالہ جان خان ولد شیر خان کو 2 مئی کو شام 4 بجے ان کے گھر، مری کیمپ سے لاپتہ کیا گیا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں سی ٹی ڈی اہلکاروں نے حراست میں لیا، جس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔

اسی دوران 20 سالہ عبدالستار ولد جان خان کو بھی اسی مقام، مری کیمپ ہزار گنجی سے شام 4 بجے حراست میں لیا گیا۔ وہ پیشے کے لحاظ سے ہوٹل ورکر تھے۔ اہل خانہ کے مطابق دونوں کو ایک ہی وقت میں گھر سے اٹھایا گیا اور تاحال ان کی کوئی خبر نہیں۔