شاہ کرم: شعور کی بغاوت اور وجود کی تخلیق – ساربان بلوچ

1

شاہ کرم: شعور کی بغاوت اور وجود کی تخلیق

تحریر: ساربان بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

شاہ کرم محض ایک فرد نہیں تھا، وہ ایک مکمل عہد تھا، ایک ایسا عہد جو بلوچستان کی تاریخ کی گہری تاریکیوں میں روشنی کا ایک مینار بن کر کھڑا ہے۔ وہ ایک آواز نہیں، بلکہ ایک گونج تھا جو صدیوں کی خاموشی کے قلعوں کو مسمار کرنے کی طاقت رکھتا تھا۔ اس کی شخصیت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اصل بغاوت ہتھیار اٹھانے سے پہلے شعور بیدار کرنے سے شروع ہوتی ہے۔

وہ جانتا تھا کہ انسان کی سب سے بڑی قید باہر کی زنجیریں نہیں، بلکہ اندر کی ہوتی ہیں۔ خوف، خود فریبی اور سماجی سانچوں کی غلامی۔ تاریخ گواہ ہے کہ بلوچ قوم نے ہمیشہ ان اندرونی زنجیروں کو توڑنے کی جدوجہد کی ہے۔ 1948 میں جب پاکستان نے خانِ قلات میر احمد یار خان پر دباؤ ڈال کر بلوچستان کو اپنے ساتھ ملایا، تو پرنس کریم (شہزادہ کریم) نے فوری مزاحمت کی۔ شاہ کرم اسی تسلسل کا حصہ تھا ایک جدید دور کا سرمچار جو نہ صرف میدانِ جنگ میں لڑا، بلکہ ذہنوں کی جنگ بھی لڑتا رہا۔

اس نے ہمیں یہ پیغام دیا کہ آزادی کوئی تحفہ نہیں، بلکہ ایک مسلسل جدوجہد ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے میر نصیر خان نوری (18ویں صدی) نے بلوچ ریاست کو منظم کیا، دشمنوں (افغان، ایرانی اور اندرونی بغاوتوں) کو شکست دی اور ایک طاقتور بلوچ خانیت قائم کی۔ شاہ کرم بھی جانتا تھا کہ آزادی کو برقرار رکھنے کے لیے ہر نسل کو نئی قربانی دینی پڑتی ہے۔ اس کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ ایک فرد کس طرح اپنے اندرونی خوف کو توڑ کر اجتماعی شعور کا علمبردار بن جاتا ہے۔

شاہ کرم کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ شناخت کوئی تیار شدہ شے نہیں، بلکہ ایک مسلسل تخلیقی عمل ہے۔ ہم ہر دن، ہر فیصلے اور ہر مؤقف کے ذریعے خود کو دوبارہ تشکیل دیتے ہیں۔ اگر ہم خاموش رہے تو ہماری شناخت دوسروں کے بیانیوں کا حصہ بن جاتی ہے۔ لیکن اگر ہم سوال اٹھائیں، سوچیں اور کھڑے ہوں، تو ہم خود اپنی تقدیر لکھتے ہیں۔

یہ بات بلوچ تاریخ سے جڑی ہوئی ہے۔ جب فردوسی نے شاہنامہ میں بلوچوں کا ذکر کیا، خسرو، زرکس اور نوشیروان کے عہد میں تو انہیں بہادر، آزاد منش اور مزاحمتی قوم کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے ایرانی سلطنت کے خلاف بھی مزاحمت کی۔ شاہ کرم اسی روایت کا امین تھا۔ قائدِ اعظم یونیورسٹی میں لسانیات اور ادب کا طالب علم ہونے کے ناطے، وہ جانتا تھا کہ زبان، ثقافت اور شعور ہی شناخت کی بنیاد ہیں۔ وہ نہ صرف مسلح جدوجہد کا حصہ تھا، بلکہ شعوری و علمی پروگراموں میں بھی شامل تھا۔

وہ ہمیں یہ بھی سمجھاتا ہے کہ محبت صرف ایک جذبہ نہیں، بلکہ ایک ذمہ داری ہے اپنی زمین سے، اپنے لوگوں سے اور سچائی سے محبت۔ ایسی محبت جو ذاتی مفاد سے نکال کر اجتماعی شعور کا حصہ بنا دیتی ہے۔ یہی محبت انقلاب کی بنیاد بنتی ہے۔

شاہ کرم کی محبت اس کی قربانی میں نظر آتی ہے۔ وہ پنجگور سے تعلق رکھتا تھا اور شہید ہونے تک بلوچ مزاحمت کا علمبردار رہا۔ بالکل ویسے ہی جیسے نواب نوروز خان اور دیگر شہداء نے 1950-60 کی دہائی میں قابض پاکستان کی فوجی کارروائیوں کے خلاف لڑائی لڑی۔ ان کی محبت نے ہزاروں نوجوانوں کو متاثر کیا۔ شاہ کرم بھی انہی کی طرح میدان میں لڑا، منصوبہ بندی کی اور اپنے ساتھیوں کو متحد رکھا۔

اس کی جدوجہد ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ طاقت کا مطلب صرف غلبہ نہیں، بلکہ سچائی کے ساتھ کھڑے ہونے کا حوصلہ ہے۔ اصل طاقت وہ ہے جو ظلم کے جواز کو چیلنج کرے، سوال اٹھائے اور خاموشی توڑ دے۔ جنگ صرف میدان میں نہیں لڑی جاتی، بلکہ ذہنوں، نظریات اور بیانیوں میں بھی لڑی جاتی ہے۔

آج بلوچستان میں جبری گمشدگیاں، آپریشنز اور دباؤ کی لہر جاری ہے، لیکن شاہ کرم جیسے لوگ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ذہنی مزاحمت ہی سب سے بڑی طاقت ہے۔ 1948 کی جنگِ آزادی سے لے کر آج تک بلوچ قوم یہ جنگ لڑ رہی ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم شاہ کرم کو صرف ایک یادگار نہ بنائیں، بلکہ ایک تحریک بنائیں۔ اس کے نظریات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ سوال کریں، سیکھیں اور اپنے اندر وہ جرات پیدا کریں جو سچ کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے ضروری ہے۔

ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ تبدیلی کسی ایک شخص سے نہیں آتی، بلکہ شعور سے آتی ہے اور وہ شعور ہم سب کے اندر موجود ہے۔ اگر ہم واقعی اس کے مشن کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں تو اپنے اندر کے خوف کو شکست دینی ہوگی، سوچ کو آزاد کرنا ہوگا اور عمل کو معنی دینا ہوگا۔

شاہ کرم چلا گیا، مگر اس کا پیغام زندہ ہے۔ وہ ہمیں یہ کہہ کر گیا ہے: ”اگر تم نے سوال اٹھانا چھوڑ دیا، تو تم نے جینا چھوڑ دیا۔“ اب فیصلہ ہمارا ہے، ہم خاموش رہیں گے، یا تاریخ کا رخ موڑیں گے؟


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔