مہرِ بلالی، دکّ ءِ سائیں
تحریر: ہارون بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
جدوجہد ہو یا جنگی محاذ، سرمچاری زندگی ہو یا عام انسانی زندگی، سیاست کا میدان ہو یا علم و فکر کی دنیا، ہر جگہ ہمیں کچھ ایسے انسان دکھائی دیتے ہیں جو پہلے سے طے شدہ راستوں پر چلنے کے بجائے اپنی زندگی، عمل، کردار اور معیار کے مطابق چلنا پسند کرتے ہیں۔ وہ اپنا ایک الگ معیار قائم کرتے ہیں، جو بعد میں سینکڑوں لوگوں کے لیے انتخاب اور رہنمائی کا سبب بنتا ہے۔ جو انسان اپنے معیار کی تشکیل خود کرے، جس کے اندر جستجو کبھی ختم نہ ہو، جس کے خیالات اور سوچ کی کوئی آخری حد نہ ہو، مجھے اکثر یہی محسوس ہوتا ہے کہ بڑے انسانوں کی کوئی انتہا نہیں ہوتی۔ وہ ہر اُس حد تک جا سکتے ہیں جس کا تصور عام انسان کے لیے ناممکن محسوس ہوتا ہے۔ بنیادی طور پر انسانی زندگی کے معیار، اخلاقیات، سائنس، علم، جنگ اور سیاست کی بنیاد رکھنے والے بھی یہی لوگ ہوتے ہیں۔ وہ انتہا تک جانے سے خوف زدہ نہیں ہوتے بلکہ نئی انتہائیں تخلیق کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔
جب انسان کسی مقام پر پہنچ کر مطمئن ہو جاتا ہے، اپنی حدود کا دائرہ خود کھینچ لیتا ہے، اور مزید سیکھنے، بڑھنے اور عظیم بننے کی جستجو چھوڑ دیتا ہے، تو اسی لمحے وہ بنیادی طور پر عظمت کے مقام سے دور ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ پھر وہ ایک جامد وجود بن جاتا ہے، اور اس کے مقام کا تعین وقت کے رحم و کرم پر آ جاتا ہے۔ آخرکار کوئی ایسا انسان سامنے آتا ہے جس کے اندر جستجو زندہ ہوتا ہے، جو عظمت کی کسی آخری حد پر یقین نہ رکھتا، اور وہی آ کر اسے پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔
میرے نزدیک بدقسمت انسان اور جہدکار وہ ہیں جن کی ترقی، جستجو اور اپنی عظمت کو وسعت دینے کا عمل زندگی ہی میں رک جاتا ہے۔ کیونکہ ایک زندہ جہدکار کے اندر جستجو کا خاتمہ دراصل اس کی عملی موت کے برابر ہوتا ہے۔ پھر وہ صرف اپنے حال سے نہیں ہارتا بلکہ اس کا حال اس کے ماضی کی ہمت، جرات، جستجو اور عظمت کو بھی نگل جاتا ہے۔نطشے نے شاید اسی لیے کہا تھا کہ صحیح وقت پر مرنا بھی ایک فن ہے۔ جب سائیں کی شہادت کی خبر سامنے آئی تو ایک بار پھر مجھے اپنے اُس خیال پر یقین مزید پختہ محسوس ہوا کہ ایک حقیقی انقلابی جہدکار کے اندر جستجو کبھی ختم نہیں ہونی چاہیے، عظیم انسان ہمیشہ مزید عظمت کی تلاش میں رہتا ہے کیونکہ انسانی عمل، شعور اور قربانی کی کوئی آخری حد متعین نہیں۔ انسان کی جستجو، اس کے عمل، اور اس کی عظمت واقعی بے انتہا ہوتے ہیں۔
ہم آج ایک ایسے عہد اور ایسے انقلاب کو جی رہے ہیں جو شعور، فلسفے، مقصد، آگاہی اور انسانی انتہاؤں کے اعتبار سے اپنی بلند ترین سطحوں کو چھو رہا ہے۔ کبھی کبھی مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اگر بلوچستان میں اس وقت حقیقی معنوں میں ایسے دانشور، لکھاری، اور بیان کرنے والے انسان موجود ہوتے جو اس جدوجہد کی روح کو مکمل گہرائی سے سمجھ اور بیان کر سکتے، تو بلوچ قوم آج دنیا کے سامنے علم، شعور اور انسانی وقار کا ایک نیا معیار قائم کر رہی ہوتی۔ بالکل اسی طرح جیسے یورپ نے کسی دور میں علم و فکر کی نئی بنیادیں تشکیل دی تھیں۔
کیونکہ یہاں ہر جہدکار کی کہانی، اس کی ہمت، جرات، قربانی اور شعور اس مقام تک پہنچ چکے ہیں جہاں سے علم، مقصد، اخلاقیات اور انسانی عظمت کی نئی جہتیں جنم لیتی ہیں۔ سائیں نے شعوری موت کے انتخاب، انسانی عظمت کی وسعت، اور شعوری موت میں جس بلندی کو چھوا ہے، وہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک گہرے فلسفے، شعور اور فکری ارتقا کا اظہار ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں وطن سے محبت اپنی انتہا پر پہنچ جاتی ہے، جہاں موت کو شعوری زندگی کی بنیاد سمجھا جاتا ہے، جہاں مقصد پر مبنی موت کو محض اختتام نہیں بلکہ ایک بلند تر انسانی معنی دیا جاتا ہے۔ وہاں انسان اپنے جسم کو مقصد سے برتر نہیں سمجھتا، وہاں انسانی عظمت کی کوئی آخری حد متعین نہیں ہوتی، اور بہادری اپنی مثال خود قائم کرتی ہے۔ ایسے مقام پر شعوری قربانی زندگی کے معیار کو مزید بلند اور بامعنی بنا دیتی ہے۔
سائیں اُن انقلابی جہدکاروں میں شامل تھا جو شاید اسی عظمت کے مالک تھے، جس عظمت کے ساتھ انہوں نے شہادت کو قبول کیا۔ کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ کچھ جہدکار اپنی زندگی کا اختتام بھی اپنے ہی مقرر کردہ معیار، اپنی جنگ، اپنی جستجو اور اپنی عظمت کے مطابق کرتے ہیں، ایسے مقام پر جہاں موت بھی ان کے سامنے سر جھکا کر انہیں سلام کرتی محسوس ہوتی ہے۔
مہرِ سائیں کا فوجی دکّ بھی دشمن کے خلاف اُس کے اپنے معیار، شعور اور حکمتِ عملی کا اظہار تھا۔ دشمن پر جو کاری ضرب انہوں نے لگائی، وہ محض ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ تاریخ کے صفحات پر ثبت ہونے والا ایک ایسا نشان ہے جو دشمن کے قبضے کے خاتمے تک اپنی معنویت برقرار رکھے گا۔ یہ وہ دھک ہے جس کی کہانیاں دشمن کو آخری دن تک محسوس ہوتی رہے گی۔
اب جب بھی دشمن پر کوئی ایسی کاری، تباہ کن اور فیصلہ کن ضرب لگے گی جو اس کے وجود، نفسیات یا قبضے کی بنیادوں کو ہلا دے، تو اسے دھکِ سائیں کے نام سے یاد کیا جائے گا۔ یہ محض ایک اصطلاح نہیں بلکہ ایک معیار، ایک علامت اور ایک تاریخی استعارہ بن چکا ہے۔ دشمن پر ہر وہ ضرب جو بڑے پیمانے پر اثر چھوڑے، جو دشمن کے لیے خوف، شکست اور نفسیاتی تباہ کن اثرات جنم دے، وہ دھکِ سائیں کہلائے گی۔
کیونکہ یہ صرف ایک حملہ نہیں تھا، بلکہ قبضے کے خاتمے کی طرف بڑھتے ہوئے ایک نئے عہد کا اعلان تھا۔ اب بلوچ سرمچار دشمن پر ایسے دک لگائیں گے جو صرف عسکری کارروائیاں نہیں بلکہ تاریخ میں ثبت ہونے والے واقعات ہوں گے؛ ایسے دک جو اپنے معیار، شدت اور اثر میں “بلالی معیار” کے حامل ہوں گے۔ دکِ سائیں کا معیار صرف دشمن کو جانی یا مالی نقصان پہنچانا نہیں ہے، بلکہ اس کا اصل معیار انسان کا اپنے نظریے، شعور اور عظمت کے مطابق موت کا انتخاب کرنا اور اسے عملی صورت میں مکمل کرنا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ایک حقیقی انقلابی جہدکار کبھی مطمئن نہیں ہوتا، جہاں وہ جدوجہد، قربانی اور عمل کے معیار کو محدود نہیں کرتا، اور نہ ہی انسانی عظمت کی کوئی آخری حد متعین کرتا ہے۔
یہ وہ شعور ہے جہاں بلندی کی کوئی انتہا نہیں ہوتی، جہاں وطن سے محبت محض ایک وقتی جذبہ، نعرہ یا لمحاتی فیصلہ نہیں رہتی بلکہ انسانی روح، شخصیت اور وجود کا مستقل حصہ بن جاتی ہے۔
سائیں کی وطن سے محبت بھی صرف دشمن پر چند گولیاں چلانے یا بندوق اٹھانے تک محدود نہیں تھی۔ اس کی محبت ایک مسلسل جستجو، ایک زندہ شعور، اور قربانی کے بڑھتے ہوئے معیار کی صورت میں سامنے آتی تھی۔ وہ ہر زخم، ہر تکلیف، ہر مشکل اور ہر جنگ کے بعد مزید شدت، نئے ولولے اور تازہ عزم کے ساتھ ابھرتا تھا، اور وطن کے لیے قربانی کے معیار کو پہلے سے زیادہ بلند کر دیتا تھا۔
سائیں وطنِ بلوچستان، سرزمینِ شال، تحریک اور سرمچاری سے بے پناہ محبت رکھنے والا انسان تھا۔ وہ ایسا شخص تھا جو ہر اذیت اور ہر آزمائش کے بعد مزید مضبوط ہو کر دشمن کے خلاف کھڑا ہوتا، اور دشمن کے خاتمے کے لیے پہلے سے زیادہ عزم اور شدت کے ساتھ آگے بڑھتا تھا۔
کچھ جہدکار ایسے ہوتے ہیں کہ ان کو دیکھ کر انسان کو ان کے اوپر ترس آنے لگتا ہے۔ ان کے جذبات، سوچ اور بنائی ہوئی انتہاؤں پر ترس آتا ہے۔ تب احساس ہوتا ہے کہ ہم نے اپنی زندگیوں میں جن معیارات کو عظیم سمجھ رکھا ہے، جن حدود کو انتہا کا نام دیا ہے، وہ دراصل کتنے چھوٹے، فرسودہ، اور علم، عمل، شعور اور حقیقی عظمت سے کتنے دور ہیں۔ لیکن جب انسان شعور اور علم کی گہرائی میں اترتا ہے تو اسے اندازہ ہوتا ہے کہ انسانی عظمت کی کوئی پہلے سے کھینچی گئی لکیر یا متعین معیار نہیں ہوتا۔ یہ مکمل طور پر انسان کی اپنی ذات، اس کی جستجو، اس کے عمل اور اس کے شعور پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ اپنی عظمت کو کس حد تک بلند کر سکتا ہے۔
سائیں اُن ساتھیوں میں شمار ہوتا تھا جو ایک حقیقی انقلابی اور ذمہ دار جہدکار ہونے کے تقریباً تمام اصولوں اور ضابطوں پر پورا اترتے تھے۔ انہوں نے نہایت کم عرصے میں میدانِ عمل میں خود کو ہر حوالے سے ثابت کیا تھا۔ جب میری سائیں سے ملاقات ہوئی تو وہ اُس وقت بھی زخمی حالت میں تھا۔ وہ دشمن کے ساتھ براہِ راست لڑائی میں زخمی ہو چکا تھا، مگر میں نے کبھی اسے اپنے جسمانی زخموں کا اظہار کرتے نہیں سنا۔ کچھ عرصہ ساتھ رہنے کے بعد ایک اور دوست کے ذریعے معلوم ہوا کہ اس کے پاؤں میں گولی لگی ہوئی ہے۔ وہ نہ کبھی اپنے زخموں کو بیان کرتا تھا اور نہ ہی انہیں اپنے عمل یا قربانی کا معیار بنا کر پیش کرتا تھا۔ ہم جیسے کمزور اور کم علم انقلابی جہدکار جب کوئی معمولی عمل بھی کرتے ہیں تو ہر جگہ اس کا ذکر کرتے ہیں، اس کی تعریف بیان کرتے ہیں، کیونکہ شاید ہمیں اپنی انقلابیت اور اپنی اہمیت ثابت کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ لیکن ایک عظیم انقلابی جہدکار کو خود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کی عظمت، اس کا معیار، اور اس کا شعور خود اس کے کردار سے ظاہر ہوتا ہے۔ عظیم انسان اپنے کردار سے پہچانے جاتے ہیں۔ ان کی موجودگی، ان کا عمل، ان کی برداشت، اور ان کی کردار ہی ان کی عظمت کا سب سے بڑا اظہار ہوتی ہے۔
سائیں وطن اور محبت کا وہ پیامبر تھا کہ اس کی شخصیت، اس کے انداز، اور اس کے کردار سے فلسفہِ سرمچاریت جھلکتی تھی۔ وہ سرمچاریت کے مکمل معیار پر پورا اترنے والا سنگت تھا، اور بہادری میں اپنی مثال آپ تھا۔ انہوں نے ایک طویل عرصے تک شہری نیٹ ورکس میں کام کیا، اور کوئٹہ شہر میں ایک وقت ایسا بھی تھا جب وہ دشمن پر مسلسل کاری ضربیں لگانے والے بنیادی ساتھیوں میں شامل تھے۔ وہ اُن اہم سنگتوں میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے طویل عرصے بعد شال کے شہر کو دشمن کے لیے غیر محفوظ اور تباہ کن بنا دیا تھا۔ ہر دوسرے دن دشمن کسی نہ کسی شکل میں حملوں، خوف اور شکست کا سامنا کر رہا تھا، اور اس صورتحال کے پیچھے سائیں جیسے سنگتوں کی مسلسل جدوجہد، حکمتِ عملی اور جرات کارفرما تھی۔
ایک خوشحال گھرانے سے تعلق رکھنے، آزاد زندگی گزارنے اور آسائشیں میسر ہونے کے باوجود، اس کے دل میں اپنی سرزمین، اپنے وطن اور قومی آزادی کے لیے بے پناہ محبت اور جنون موجود تھا۔ یہی جنون اس نے آخری دن تک اپنے اندر زندہ رکھا۔ ہم اکثر انقلاب میں جنونیت کو ایک غیر ضروری شے سمجھتے ہیں، اور شعور کے نام پر اس جذبے کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر ایک انقلابی جہدکار کے اندر عمل، قربانی، محبت اور جدوجہد کا شدید جنون موجود نہ ہو، اگر وہ اپنی سرزمین کے لیے ہر انتہا کو پار کرنے کے لیے تیار نہ ہو، تو شاید وہ محدود پیمانے پر کام تو کر سکتا ہے، مگر وہ اُس معیار تک نہیں پہنچ سکتا جو سائیں، طالب، ماسٹر سفر خان، اور کامریڈ سمیر جیسے سنگت قائم کرتے ہیں۔
ایک سرمچار کے اندر وطن سے محبت جنون کی حد تک ہونی چاہیے۔ اسے جنگ، قربانی اور مزاحمت کی انتہاؤں کو شعوری طور پر قبول کرنے والا ہونا چاہیے۔ بلال بھی اُن ہی سرمچاروں میں شامل تھا جو جنون کی حد تک وطن سے محبت کرتے تھے۔ وطن کے ہر ذرے، ہر پہاڑ، ہر گلی اور ہر مٹی کے ٹکڑے سے اس کی محبت بے پناہ تھی، اور یہی محبت آخرکار اسے اس مقام تک لے گئی جہاں اس نے وطن کی آزادی کے لیے ہر حد پار کرنے کو شعوری طور پر قبول کر لیا۔
سائیں نے اپنے عمل سے یہ واضح کر دیا کہ ایک حقیقی انقلابی جہدکار یا انقلابی سنگت کو اپنے لیے پہلے سے کوئی حدود متعین نہیں کرنی چاہییں۔ ہم میں سے اکثر لوگ قربانی کو بھی ناپ تول کر دیکھتے ہیں، حتیٰ کہ مرنے اور قربان ہونے کے لیے بھی ایک حد مقرر کر لیتے ہیں۔ لیکن عملی شعور اس سے مختلف ہوتا ہے۔ سائیں نے اپنی جدوجہد اور اپنی قربانی کے ذریعے اس سوچ اور کلچر کو توڑ دیا کہ اگر کوئی شخص کسی سیاسی عہدے پر ہو، ایک کمانڈر ہو، یا طویل تجربہ رکھتا ہو، تو اسے شعوری قربانی یا شعوری موت کے انتخاب کے بجائے اپنے لیے محفوظ حدود متعین کر لینی چاہییں۔ انہوں نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ جنگ اور انقلابی جدوجہد ہم سے ایسے اقدامات کا تقاضا کرتی ہے جو عام انسانی رویوں اور روایتی تصورات سے مختلف ہوتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی ثابت کیا کہ انقلابی معیار اور انقلابی کلچر بنیادی طور پر عام انسانی تصورات سے ہٹ کر تشکیل پاتے ہیں۔ یہ ایسے شعور، عمل، قربانی اور جستجو کا نتیجہ ہوتے ہیں جو خود اپنے معیار قائم کرتے ہیں، نئے راستے بناتے ہیں، اور پھر دوسروں کو اُن راستوں پر چلنے کے لیے بیدار کرتے ہیں۔عظیم انقلابی صرف جدوجہد نہیں کرتے بلکہ وہ اپنے عمل سے نئے معیارات تخلیق کرتے ہیں۔ سائیں بھی اُنہی لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے اپنے کردار، اپنی قربانی، اور اپنے شعوری انتخاب کے ذریعے ایک ایسا معیار قائم کیا جو آنے والوں کے لیے راستہ اور مثال بن گیا ہے۔
سائیں وطن کی مہر و محبت کا وہ چہرہ ہے جو تاابد قائم رہے گا۔ جب بھی کوئی انقلابی جہدکار اپنے لیے حدود متعین کرے، خود کو کسی آخری انتہا پر سمجھنے لگے، یا اپنی عظمت کو مکمل اور کافی تصور کرنے لگے، تو اس کے سامنے سائیں کا وہ چہرہ ضرور ابھر آئے گا جس نے یہ واضح کر دیا کہ وطن سے محبت اور عشق انسان سے کیا تقاضا کرتا ہے اور انقلابی عمل کو کس مقام تک پہنچنا چاہیے۔سائیں کا کردار یہ یاد دلاتا ہے کہ جدوجہد میں ٹھہراؤ نہیں ہوتا، اور عظمت کسی ایک مقام پر رُک نہیں جاتی۔ یہ ایک مسلسل سفر ہے، جو انسان کو ہر بار اپنی ہی بنائی ہوئی حدوں سے آگے لے جانے کا مطالبہ کرتا ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































