سنگت شہید نصراللہ پرکانی
تحریر: چیدہ بزدار
دی بلوچستان پوسٹ
شروع کروں گا گلزمین بلوچستان، لمہ وطن کے نام سے۔ آج میں ایک بےبس انسان ایک ایسی ہستی کو لکھنے جا رہا ہوں، ایسی ہستی کو بیان کرنے جا رہا ہوں، ایک ایسی ہستی پہ کچھ الفاظ لکھنے جا رہا ہوں جو انقلابی رویوں کے سرتاج بادشاہ تھے۔ وہ اپنے رویوں، سوچ اور شعوری فکر کے ساتھ ساتھ ایک دلیر ساتھی بھی ثابت ہوئے کیونکہ وہ ایک بہادر بلوچ نوجوان تھے۔ کیونکہ ایک رویہ اور عمل اتنا وزن دار اور اثر دار ہوتا ہے کہ شاید اور کچھ نہیں۔ میں ان کے بارے میں لکھنے میں انصاف تو نہیں کر سکتا کیونکہ ہزاروں چیزوں، ہزاروں باتوں کی کمی ہے، اس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں امیر صاحب۔
جب پہلی دفعہ سنگت نصراللہ کے ساتھ ملاقات ہوئی تو سنگت آ کر مجھ سے گلے لگے۔ ایسے محسوس ہوا جیسے سنگت بہت دور پیدل سفر کر کے آئے ہوں۔ میں نے کہا: سنگت، آپ پیدل چل کر آئے ہو، بیٹھو پانی پیو۔ تو سنگت نے مسکرا کر بولا: “نہیں سنگت، پند کرنا کوئی خواری نہیں” اور سنگت زور سے ہنسنے لگے اور میں بھی ہنسنے لگا۔ آگ پہ رکھی چائے ہمارے انتظار میں تھی، لکڑیوں کے جلنے کی پٹاخے جیسی آواز اور سرد موسم۔ جیسے ہی سنگت سے بات چیت شروع ہوئی تو سنگت شعوری علم سے سرشار مجھ سے کچھ باتیں پوچھتے گئے، اور کچھ سوالوں کے جواب میں نے دیے، تو کچھ میرے سوالوں کے جواب سنگت نے دیے۔ ہم دونوں دیوان کے ایک منزل تک پہنچ گئے۔ تو سنگت نے کہا: میں اپنے لمہ وطن کی غلامی کا احساس رکھتا ہوں اور ہر صف میں لمہ وطن کی حفاظت کے لیے تیار ہوں، کسی قربانی سے دریغ نہیں کروں گا۔ جیسے ہی سنگت نے یہ الفاظ ادا کیے، لمہ وطن کے پہاڑ جھوم اٹھے جیسے ہمارا گلزمین رقص کر رہا ہو۔ جذبۂ ایمان سے سرشار سنگت بغیر کسی خوف کے وطن کی محبت میں گرفتار تھے۔
اور یہ دیکھ کر میرا دل بہت خوش ہوا کہ ہمارے لمہ وطن نے ایسے شیر نوجوان پیدا کیے جو لمہ وطن کے لیے جان تک قربان کرنے کو تیار ہیں۔ کچھ لمحے خاموشی ہوئی دیوان کرتے کرتے، پھر ہم نے گلے لگا کر ایک دوسرے سے رخصتی لی۔ سنگت نصراللہ نے ہر اس جگہ، ہر صف میں خود کو حاضر رکھا۔ اور اگر میں ایمانداری سے کہوں تو ایمانداری سنگت کے لیے چھوٹا لفظ ہے، مگر انہوں نے اس سے بھی بڑھ کر کر کے دکھایا، اور واقعی سنگت ایک وطن کے پاسبان تھے۔ ان کا دیوان، فکری و شعوری غلامی کا احساس، ہر قومی درد اور خوشی سے بھری ایک خوبصورت کتاب تھے سنگت۔ سنگت نے پہاڑوں، گلزمین کے پرندوں اور گلزمین کے بوچ بوچ سے ہم کلام ہو کر غلامی کا بوجھ محسوس کر لیا تھا۔ سنگت کا وہ ہنسنا، کاش ہمیں تھوڑا سا مزید وقت اور دیتے، کاش۔ مگر میری اس بات پر آپ کا سنگت شاید آج بھی یہی جواب ہوتا: (جنگ بے رحم ہے، یہ جنگ آزادی کی ضمانت ہے تاکہ کل دوبارہ سنگت نصراللہ پرکانی، سنگت چیدہ بزدار جیسے بہت سے سنگت جدا نہ ہوں۔ آنے والی نسلوں کے لیے ہمیں قربان ہونا ہوگا تاکہ آنے والی نسل ہمیں طعنہ نہ دے)۔
سنگت جان، آپ کا جواب تو اس سے بھی بڑھ کر شعوری ہوتا، مجھے یقین ہے۔ کیونکہ اس قربانی کے بعد کوئی قربانی نہیں، قربانی کی تعریف یہی ختم ہوتی ہے، کیونکہ واقعی یہ جنگ آزادی کی ضمانت ہے۔ اس جنگ میں سنگت، سنگت سے جدا ہوگا، ایک بیٹا اپنی ماں سے لمہ زمین کے لیے جدا ہوگا، ایک بھائی اپنی گودی سے جدا ہوگا، ایک باپ اپنے بیٹے سے جدا ہوگا آنے والی نسل کے لیے، تاکہ پھر کوئی رشتہ جدا نہ ہو۔ مگر سنگت نصراللہ نے سب سوالوں کے جواب ہمیں دے دیے اور ہمیں سکھایا کہ غلامی سے نجات کے بعد جو ہماری عبادتیں ہوں گی، ان کا رتبہ بھی ایک لذیذ رتبہ ہوگا۔ بس لمہ وطن نے ان کو اپنے سینے میں جگہ دینا تھا، اپنے محبوب کو گلے لگانا تھا، اور وہی ہوا۔
پھر سے بولوں گا، کاش آپ ایک دفعہ پھر مسکرا کر ہنستے ہوئے آتے۔ بس جنگ ایک ایسا پند ہے کہ کسی بچھڑے سنگت کا غم، اس کے جدا ہونے کا درد شدت سے محسوس ہوتا ہے، یا پھر کچھ سنگتوں کے ساتھ گزرے وقت کی یاد آنا۔ یہ گزرا وقت، یہ عمل حسین یادیں بھی قید کرتا ہے اور تکلیف بھی دیتا ہے۔ وہ یادیں پھر ایک کہانی ہی رہ جاتی ہیں، لیکن ہمیں فخر بھی ہے اپنے سنگتوں پر۔ اور سنگت نے غلامی سے نجات کے لیے اپنا راستہ چنا، لمہ وطن کی آزادی کے لیے، وطن کے سنگلاخ پہاڑوں کی حفاظت کرتے ہوئے دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے والا سرمچار، اپنی لمہ وطن کی حفاظت کرتے ہوئے سہ رنگی بیرک کو کندھے پہ باندھے شہادت کا عظیم رتبہ حاصل کیا۔ سنگت، ہماری لمہ زمین ہمارے پاس امانت ہے اور آپ نے اپنا حق ادا کر دیا، مگر آپ کا جانا، آپ کی کمی محسوس ہوتی ہے اور ہوتی رہے گی۔ آپ نے جس سوچ و فکر کو عملی لباس دیا، اب آپ کی سوچ و فکر ہمارے پاس امانت ہے۔ اس منزل تک پہنچانا ہم پر فرض ہے جس منزل پر پہنچ کر آپ ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































