بلوچ لبریشن آرمی کی خاتون کمانڈر شہناز بلوچ کا ویڈیو پیغام شائع

0

بلوچ لبریشن آرمی کے ہکل میڈیا پر بی ایل اے کمانڈر شہناز بلوچ کا ویڈیو پیغام شائع ہوا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی بلوچ خاتون جنگجو میڈیا پر منظر عام پر آئی ہیں۔ 

ویڈیو میں کمانڈر شہناز بلوچ کو متعدد خاتون جنجگوؤں کے ہمراہ دیکھا جاسکتا ہے جو جنگی مشقوں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ ویڈیو کی عکس بندی بلوچستان میں کسی نامعلوم مقام پر کی گئی جہاں گاڑیوں میں جنجگوؤں کو نقل و حرکت کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

بی ایل اے کمانڈر شہناز بلوچ اپنے پیغام میں کہتی ہے کہ تاریخ یہ ثابت کرے گی، اس کی گواہی دے گی کہ یہ شرف و عزت دنیا، بالخصوص عرب و یورپ میں خواتین کو حاصل نہیں تھی، جو شرف و عزت بلوچ خواتین کو دی جاتی تھی۔ بلوچ خواتین کو اُس وقت یہ شرف و عزت حاصل تھی اور انہیں بلوچ مردوں کے برابر سمجھا جاتا تھا اور انہیں اپنے ساتھ رکھا جاتا تھا۔ بلوچ سماج میں اس کی سب سے بڑی مثال میر چاکر خان رند کی بہن بانڈی بلوچ تھیں کہ آج سے پانچ سو سال پہلے وہ بلوچ جنگ کا حصہ تھیں اور بلوچ مردوں کو کمان کرتی تھیں۔

“اس طرح کی ایک نہیں بلکہ کئی مثالیں ہمارے سماج کے اندر موجود ہیں لیکن اسے ہماری بدبختی کہیں یا ہماری کمزوری،
انگریز یہاں آتا ہے اور سنڈیمن کے فرسودہ نظام کو رائج کرتا ہے، پھر پاکستان کا فرسودہ نظام ہم پر مسلط ہوتا ہے اور ہمارے مردوں و خواتین کے درمیان تفریق پیدا کرتا ہے۔ وہ ہمارے علاقے، زبان، کلچر، جغرافیہ، ہر چیز کو تقسیم کرتا ہے لیکن آج میری قوم،
بی ایل اے کی انقلابی اپروچ، و شاری جیسے عظیم سنگت کی قربانیوں، دیگر ساتھیوں کی محنت اور بلوچ قوم کی ترقی پسندانہ سوچ کی بدولت بلوچ خواتین اور مرد ایک فرنٹ اور ایک وتاک میں انقلابی زندگی گزار رہے ہیں۔

وہ مزید کہتی ہے کہ آج مجھے سات سال سے زائد عرصہ ہو چکا ہے کہ میں بلوچ لبریشن آرمی سے وابستہ ہوں۔ سپاہی سے لے کر کمانڈ و قیادت تک پہنچتے ہوئے میں نے تنظیم کے اندر کبھی بھی جینڈر کی تقسیم محسوس نہیں کی اور نہ ہی میرے ساتھیوں نے مجھے یہ محسوس کروایا ہے۔ آج بی ایل اے کی انقلابی اپروچ نے ہمیں موقع دیا ہے کہ ہم آئیں اور اپنی ریاست کی بحالی و آزادی کی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کریں۔

شہناز بلوچ، قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہتی ہے کہ میں نے آج یہ بندوق اپنی حفاظت کے لیے نہیں بلکہ آپ لوگوں کی حفاظت کے لیے تھامی ہوئی ہے۔ میں صرف ایک طبقے کے لیے نہیں بلکہ تمام بلوچ قوم کی آزادی کے لیے جدوجہد کر رہی ہوں۔ یہ بندوق صرف گولی چلانے کے لیے نہیں بلکہ اس کے بیرل سے نکلنے والی ہر گولی ہم سب کی آزادی کی صبح کے لیے ہے۔

“آپ ایک عظیم قوم ہیں، آپ ایک باوقار و بہادر قوم ہیں، اس لیے اب خاموش نہ رہیں۔ یہ خاموشی آپ کی عظمت کے خلاف ہے۔ یہ خاموشی آپ کی عزت و شرف کے خلاف ہے۔ آؤ، اس جنگ کا حصہ بنیں۔ آج جب دشمن اس حد تک ہمارے خلاف منصوبہ بندی کر رہا ہے تو ان کے اثرات ہماری نسل در نسل کے خلاف استعمال ہوں گے، اگر ہم نے دشمن کو ایک بے رحم و بے پروا جنگ نہ دی۔ اگر ہم نے اس وقت لاپرواہی و غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، اپنی جنگ کے اندر سستی پیدا کی اور اس کی شدت میں کمی لائی، تو پھر اس کے خطرناک نتائج ہمارے سامنے آئیں گے۔ اسے یاد رکھیں۔۔۔ یاد رکھیں۔۔۔ پھر ان خطرناک نتائج کے ذمہ دار میں اور آپ ہوں گے۔

بی ایل اے کمانڈر مزید کہتی ہے کہ میں اپنی بہنوں سے کہنا چاہتی ہوں کہ آج ہم اس جنگ کا حصہ بنے ہیں، اور ہمیں مزید اس جنگ کا حصہ بننا چاہیے۔ ہمیں جذبات، شوق یا ہیرو ازم کی بنیاد پر نہیں بلکہ علم، شعور و دانائی کے فلسفے کی بنیاد پر اس جنگ میں حصہ لینا چاہیے۔ کیونکہ یہ جنگ ہم پر فرض ہے، اس لیے ہمیں بطور فرض اس میں شامل ہونا چاہیے۔

“آج ہمارا دشمن پاکستان، پنجابی دشمن، بلوچ نسل کشی، وسائل کی لوٹ مار، بلوچ قومی تباہی و بربادی اور ان کی شناخت ختم کرنے کے لیے اپنی قابض ریاست کے تحفظ کی خاطر اپنی فوج سمیت تمام اداروں میں عورتوں کو شامل کرتی ہے، اور دوسری طرف انہیں بلیک میلنگ اور غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنا کر ہماری تحریک کے خلاف استعمال کرتی ہے لیکن جب ہم اپنی سرزمین کے دفاع، آزادی اور اپنی قومی فوج بی ایل اے میں شمولیت اختیار کرتے ہیں، تو پھر یہاں پنجابی کی خصلت دیکھو کہ وہ اسے استعمال، ناجائز اور برین واشنگ کا نام کیوں دیتی ہے؟”

وہ مزید کہتی ہے کہ آج جب تنظیم نے یہ ذمہ داری میرے کندھوں پر رکھی ہے، میں اسے ایک فرض سمجھتی ہوں اور ہمیں سب کو بھی یہی سمجھنا چاہیے۔ کیونکہ ہماری شہرت، عزت اور ہماری قدر، سب کچھ آزاد بلوچستان سے وابستہ ہے۔ اس وقت تک، جب تک ہم نے اپنی سرزمین کو آزاد نہیں کیا، تب تک ہم سب کی عزت و شہرت صرف ایک غلام کی حیثیت رکھتی ہے، ہماری کوئی حقیقی حیثیت نہیں ہے۔ یہ چیز ہمیں سمجھنی اور اس کا ادراک کرنا ہے۔

شہناز بلوچ کہتی ہے کہ آج میں دشمن سے کہنا چاہتی ہوں کہ مجھ سے پہلے بھی تمہیں ساتھیوں نے کہا ہے کہ بلوچستان سے نکل جاؤ، اپنی اس مصنوعی طاقت کے گھمنڈ سے باہر آ جاؤ، اور ان زمینی حقائق کو سمجھ لو کہ ہم اپنی سرزمین کی آزادی کی خاطر آخری حد تک جائیں گے۔ تم نے ہمیشہ بلوچ خواتین کو ایک سافٹ ٹارگٹ کے طور پر دیکھا ہے، لیکن اب ایسا نہیں ہوگا۔ اب یہی خاتون اپنی سرزمین پر تمہارے آخری سپاہی تک تم سے لڑے گی۔ تم نے کیا سمجھا تھا کہ تم ہمیں اغوا کرو گے، ہمیں پابند سلاسل کرو گے یا ہمیں مارو گے، اور پھر ہم خاموش ہو جائیں گے؟ دیکھو آج۔۔۔ بلوچستان کی خواتین کس طرح تمہارے خلاف قہر برسا رہی ہیں۔ ہم بندوق کے زور پر اپنی سرزمین سے تمہاری حاکمیت کے خاتمے کا اعلان کریں گے۔

وہ پاکستان فوج کو مخاطب کرتے ہوئے کہتی ہے کہ میں نے پچھلے سالوں میں تمہاری ساری ہنر سازی اور طاقت دیکھی ہے، لیکن ہماری ہمت ان پہاڑوں سے بھی زیادہ بلند ہے۔ یاد رکھو۔۔۔ یاد رکھو۔۔۔ ہماری جنگ صرف دفاعی نوعیت کی نہیں ہے۔ اب ہم خود کو تمہارے ان ٹھکانوں تک پہنچائیں گے جہاں تک تم نے گمان بھی نہیں کیا ہوگا۔ آج جب میری ایک سرمچار تم پر قہر برسائے گی تو سمجھ لو کہ اس جنگ کا نقشہ اسی بلوچ لڑکی نے تیار کی ہے جسے تم نے کمزور سمجھا تھا۔

“وہ بزدل دشمن، اپنی آنکھیں کھولو اور دیکھو۔ یہ نوجوان، بزرگ، خواتین، ہر بلوچ اپنی سرزمین کی آزادی کے لیے موت کو گلے لگانے کے لیے تیار کھڑا ہے۔ جب تمہاری یہ بزدل اور کرائے پر رکھی گئی فوج میری سرمچاروں کے سامنے آتی ہے تو اپنی زندگیوں کے لیے روتی ہے اور فریاد کرتی ہے۔ یہی تیری حقیقت ہے اور یہی تیری اوقات ہے۔”

وہ مزید کہتی ہے کہ یہ جنگ تمہارے خاتمے تک جاری رہے گی۔ تم اپنی شکست خوردہ فوج کے ساتھ آؤ، اور ہم اپنی سرزمین کے محافظ تمہارے لیے بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہ جنگ اب اس مقام تک پہنچ چکی ہے کہ تم سے روکا نہیں جائے گا۔ تمہارے لیے اب بہتر یہی ہے کہ ہماری سرزمین سے نکل جاؤ اور اپنی جان بچاؤ، ورنہ تمہارے لیے یہاں زندگی حرام ہو جائے گی۔ ہم تمہارے آمنے سامنے ہوں گے اور تمہیں بتائیں گے کہ: تم شکست خوردہ ہو، تم بزدل ہو، تم قاتل ہو، تم ظالم ہو، تم جابر ہو۔ نہ تمہاری کوئی تاریخ ہے، نہ تمہاری کوئی تہذیب۔ تم ایک بدتہذیب اور بداخلاق قوم ہو۔

بی ایل اے کمانڈر شہناز بلوچ کہتی ہے کہ ہم اپنی سرزمین کے محافظ ہیں، اپنی سرزمین کا دفاع کرنے والے ہیں۔ ہماری اپنی تاریخ ہے، ہماری اپنی تہذیب ہے، اور ہم اپنی قربانیوں اور عمل سے ثابت کریں گے کہ حقیقی قوم اور فطری ریاست کیا ہوتی ہے۔ کامیابی ہماری ہوگی اور ناکامی دشمن کا مقدر۔