طاقت کا جال اور یادداشت کی بغاوت – برزکوہی

1

طاقت کا جال اور یادداشت کی بغاوت

تحریر: برزکوہی

دی بلوچستان پوسٹ

گذشتہ چند دنوں سے میں مِشیل فوکو کے ستر کی دہائی کے وہ لیکچرز پڑھ رہا تھا جنہیں بعد میں “سماج کا دفاع ضروری ہے” کے نام سے شائع کیا گیا۔ پڑھتے ہوئے وہ لمحہ میرے ذہن پر نقش ہوگیا جہاں فوکو طاقت کو کسی مرکز کی ملکیت نہیں بلکہ ایک ایسی گردش، ایک ایسے نیٹ ورک کے طور پر بیان کرتا ہے جو اداروں، زبانوں، علم اور روزمرہ نظم کے اندر پھیل کر حقیقت کو خود تشکیل دیتا ہے۔ میں نے کتاب بند کی تو میرے ذہن میں اچانک بلوچستان کا منظر ابھرا، اور یہ خیال آیا کہ اگر فوکو ان پہاڑوں، ان چیک پوسٹوں، ان خاموش گاؤں اور ان غائب ہوتے ہوئے ناموں کو دیکھتا تو شاید وہ انہیں محض ایک جغرافیائی تنازع کے طور پر نہ پڑھتا بلکہ اس پورے نظام کے طور پر دیکھتا جس کے اندر طاقت خود کو سچائی میں بدلتی ہے اور مزاحمت خود کو یادداشت میں محفوظ رکھتی ہے۔ اسی خیال نے مجھے مجبور کیا کہ میں بلوچستان کو کسی سیاسی بیان یا جذباتی مقدمے کی طرح نہیں بلکہ اسی سوال سے دیکھنے کی کوشش کروں جسے فوکو بار بار اٹھاتے ہوئے پوچھتا ہے کہ طاقت کہاں سے بولتی ہے، اور وہ کس طرح اس قدر کامیابی سے بولتی ہے کہ اس کی آواز اکثر سچائی کی آواز معلوم ہونے لگتی ہے۔

جب ہم مشل فوکو کے ذریعے بلوچستان کے بارے میں طاقت، قبضے اور مزاحمت کے سوال کو سنجیدگی سے سوچنے کی کوشش کریں تو پہلی شرط یہ ہے کہ ہم خود اس فکری عادت کو معطل کریں جو ہر سیاسی مسئلے کو فوراً ریاست بمقابلہ باغی، قانون بمقابلہ بدامنی، یا ترقی بمقابلہ پسماندگی جیسے ثنائی خانوں میں بند کردیتی ہے، کیونکہ ایسی تمام درجہ بندیاں نہ صرف مسئلے کو آسان بنا دیتی ہیں بلکہ اس پورے تاریخی اور خطابی عمل کو بھی پوشیدہ کردیتی ہیں جس کے ذریعے کوئی خطہ محض ایک جغرافیائی وحدت نہیں رہتا بلکہ انتظام، نگرانی، تشخیص، مداخلت، تطہیر اور تسخیر کا ایک تجربہ گاہ بن جاتا ہے۔

اگر بلوچستان کو سمجھنا ہے تو اسے پہلے اس مقام کے طور پر نہیں پڑھنا چاہیئے جہاں طاقت استعمال ہوتی ہے، بلکہ اس مقام کے طور پر پڑھنا چاہیئے جہاں طاقت خود کو سچائی میں تبدیل کرتی ہے، کیونکہ طاقت کا سب سے گہرا راز یہ نہیں کہ وہ تشدد کرتی ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے تشدد کو نام دینے، درجہ بند کرنے، قابل فہم بنانے، اخلاقی جواز دینے اور آخرکار ایک ایسی ضروری عقلانیت میں بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس کے بعد محکوم پر وارد ہونے والا جبر خود اسی کے مفاد، اصلاح، تحفظ، قومی وحدت یا تمدنی استحکام کے نام سے ظاہر ہونے لگتا ہے۔ یوں فوکو کی نظر میں اصل مسئلہ یہ نہیں رہتا کہ بلوچستان پر قبضہ ہے یا نہیں، بلکہ یہ بن جاتا ہے کہ قبضہ خود کن علمی، قانونی، عسکری اور انتظامی خطابات کے اندر غائب کردیا گیا ہے۔ کس طرح ایک ایسا پورا نظام تشکیل دیا گیا ہے جس میں قبضہ وتسلط اپنی حقیقت کو چھپا کر نظم، سلامتی، ترقی اور ریاستی بقا کے نام سے دوبارہ ظاہرہوتا ہے۔

یہاں ہمیں طاقت کو کسی شاہی مرکز، کسی حاکم فرد، یا کسی واحد ادارے کی ملکیت کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیئے۔ اس طرح دیکھنے سے طاقت ہمیشہ ایک عمودی چیز معلوم ہوتی ہے، گویا وہ اوپر سے نیچے اترتی ہے اور نیچے صرف اس کا اثر برداشت کیا جاتا ہے۔ طاقت اپنی جدید ترین صورت میں کسی واحد ہاتھ میں مقید نہیں ہوتی بلکہ وہ ایک کثیرالمقامی گردش ہے، ایک ایسا سیال انتظامی اور علامتی جال جو اداروں، زبانوں، اعداد وشمار، سرحدی نقشوں، مردم شماریوں، اسکولوں، عدالتوں، پولیسنگ کے معمولات، ترقیاتی رپورٹوں، سکیورٹی بریفنگز، میڈیا کے عنوانات، اور روزمرہ جسمانی نقل وحرکت کے ضابطوں کے اندر بیک وقت کام کرتا ہے۔ اسلیئے بلوچستان میں طاقت کو صرف وہاں تلاش کرنا جہاں بندوق دکھائی دیتی ہے، طاقت کی سب سے سطحی قرأت ہوگی۔ طاقت اکثر وہاں سب سے زیادہ مؤثر ہوتی ہے جہاں وہ بندوق سے غائب ہوکر فائل، فارم، رپورٹ، اجازت نامہ، شناختی درجہ بندی، اور جغرافیائی انتظام کے غیر شخصی طریقہ کار میں بدل چکی ہوتی ہے۔ ایک چیک پوسٹ محض عسکری موجودگی نہیں بلکہ ایک ایسے علم کی مادی شکل ہے جو جسموں کو مشتبہ، قابل نگرانی، قابل توقف اور قابل فلٹر بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس طرح طاقت کو سمجھنے کیلئے ہمیں اس کے نمایاں مظاہر سے زیادہ اس کی ان باریک تکنیکوں کو دیکھنا ہوگا جن کے ذریعے وہ زندگی کے امکان، حرکت کی حد، شناخت کے معیار، اور بولنے کے جواز کو ترتیب دیتی ہے۔

اگر یہ مان لیا جائے کہ طاقت صرف حکم نہیں دیتی بلکہ حقیقت بھی پیدا کرتی ہے تو پھر بلوچستان کے معاملے میں سب سے بنیادی سوال یہ بن جاتا ہے کہ کون سا علم ایسا ہے جو اس خطے کو مسلسل ایک مخصوص قابل قرأت شے میں تبدیل کرتا رہتا ہے۔ یہاں “علم” سے مراد صرف یونیورسٹی یا تحقیق نہیں بلکہ وہ تمام نظام ہائے بیان ہیں جو کسی مقبوضہ خطے کو کسی مخصوص زاویئے سے دیکھنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اس طرح طاقت کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ وہ مزاحمت کو کچل دے بلکہ یہ ہے کہ وہ مزاحمت کو پہلے نام دے، پھر درجہ بند کرے، پھر اس کے معنی کو محدود کرے، اور آخر میں اسے اس اخلاقی اور سیاسی زبان سے محروم کردے جس کے ذریعے وہ اپنے آپ کو تاریخ، حق، یادداشت یا اجتماعی زخم کے طور پر ظاہر کرسکتی تھی۔ قابض ریاست پاکستان کی تمام رسمی وغیررسمی پروپگنڈہ کے موڈس اوپرنڈی کو اس زاویئے سے بآسانی سمجھا جاسکتا ہے۔

فوکو ان لیکچرز میں مسخر شدہ علوم کا تصور پیش کرتا ہے۔ اس تصور کی گہرائی کو سمجھنے کیلئے صرف اتنا سمجھ لینا کافی نہیں کہ کچھ مقامی تجربات ریاستی بیانیئے سے خارج کردیئے گئے ہیں، بلکہ مسئلہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ مسخر شدہ علم صرف وہ معلومات نہیں جو ریکارڈ میں شامل نہ ہوں، بلکہ وہ مکمل تجرباتی اور تاریخی شعور ہے جسے کسی غالب نظام نے ناقابل اعتبار، غیر علمی، غیر مہذب، جذباتی، قبائلی، اشتعال انگیز یا حاشیائی قرار دے کر اس کے سیاسی امکان کو ہی سلب کرلیا ہو۔ بلوچستان کی اجتماعی یادداشت، لاپتہ وجودوں کا غیر سرکاری شمار، ماؤں کے بیانیئے، زبان کی اندرونی مزاحمتی ساخت، پہاڑوں اور بستیوں کے مقامی نام، صدمے کی منتقل ہوتی ہوئی روایت، اور وہ خاموش علم جو لوگ روزمرہ ذلت، نگرانی اور عدم تحفظ کے اندر حاصل کرتے ہیں۔ یہ سب محض احساسات نہیں بلکہ طاقت کے بارے میں ایسے علم ہیں جو سرکاری سچائی کے مقابل ایک دوسری سچائی بناتے ہیں۔ یہ دوسری سچائی ہمیشہ کسی منظم نظریاتی کتاب کی صورت میں نہیں آتی بلکہ ٹکڑوں، اشاروں، یادداشتوں، گواہیوں، جسمانی خوف، اور نسل در نسل منتقل ہونے والی احتیاطوں میں زندہ رہتی ہے۔ مزاحمت کی پہلی شکل شاید بندوق نہیں بلکہ نام رکھنے کی صلاحیت ہے۔

اگر فوکو کی جنیالوجی سے سمجھنے کی کوشش کریں تو قبضہ دراصل اسی لمحے اپنی سب سے مکمل صورت اختیار کرتا ہے، جب وہ صرف زمین پر نہیں بلکہ وقت پر قابض ہو جائے۔ فوکو کہے گا اسلیئے بلوچستان کے مسئلے کو صرف علاقائی خود مختاری یا وسائل کی تقسیم کی سطح پر پڑھنا ناکافی ہوگا، کیونکہ گہرا مسئلہ وقت کی نوآبادیات ہے۔ وہ نوآبادیات جس میں محکوم سماج کو مسلسل بتایا جاتا ہے کہ اس کا ماضی غلط فہمیوں، اس کا حال بدامنی، اور اس کا مستقبل صرف اسی صورت ممکن ہے جب وہ اپنے آپ کو غالب مرکز کی تاریخی منطق میں ضم کر دے۔ یہاں طاقت یہ طے کرتی ہے کہ کون سا ماضی یاد رکھنے کے قابل ہے، کون سی ہلاکت حادثہ ہے، کون سی چیخ انتشار ہے، کون سا احتجاج بیرونی ایجنڈا ہے، اور کون سا خاموش رہنا حب الوطنی ہے۔ اس طرح بلوچستان میں قبضہ ایک عسکری حالت ہونے سے پہلے ایک زمانی اور تفسیری بندش ہے۔ ایک ایسی بندش جس کے اندر بلوچ قوم کو اس کے اپنے تاریخی استمراری شعور سے کاٹ کر ایک ایسی مستقل ہنگامی کیفیت میں رکھا جاتا ہے جہاں وہ ہمیشہ مسئلہ ہے، کبھی خود مسئلے کا نام رکھنے والا فاعل نہیں۔

اگر پھر بھی سوال باقی رہے کہ بلوچستان میں اصل معرکہ کہاں ہے تو فوکو کہے گا کہ وہ صرف میدان میں نہیں، صرف جیل میں نہیں، صرف قانون میں نہیں، صرف وسائل پر نہیں، بلکہ سب سے زیادہ اس مقام پر ہے جہاں ایک طرف قابض ریاست یہ اصرار کرتی ہے کہ وہ زندگی کو منظم، محفوظ اور ترقی یافتہ بنا رہی ہے، اور دوسری طرف محکوم تجربہ یہ گواہی دیتا ہے کہ اس قبضہ گیری انتظام کے اندر زندگی کو قابل نگرانی، قابل توقف، قابل حذف اور بعض اوقات قابل غائب بنایا جارہا ہے۔ یہاں قبضے کو سب سے زیادہ نظریاتی گہرائی کے ساتھ سمجھا جاسکتا ہے، کیونکہ یہاں طاقت اور قانون، جنگ اور امن، ترقی اور محاصرہ، انتظام اور تشدد ایک دوسرے کی ضدیں نہیں رہتیں بلکہ ایک ہی حاکمانہ عقلانیت کی مختلف صورتیں بن جاتی ہیں۔

فوکو کے مطابق، جب جبر اپنی انتہا کو چھولے تو وہ محض جسمانی اذیت نہیں رہتا بلکہ ایک مستقل تماشہ بن جاتا ہے جس کا مقصد محکوم کو یہ یقین دلانا ہوتا ہے کہ مزاحمت لاحاصل ہے۔ بلوچستان میں قائم کردہ نگرانی کا یہ جال، یہ روزمرہ کی تذلیل، اور یہ شناخت کا مسلسل بحران دراصل ایک ایسی بڑی جیل کی تعمیر ہے جہاں دیواریں نظر نہیں آتیں لیکن پہرہ ہر سوچ پر موجود ہے۔ یہاں طاقت کا مقصد اب صرف زمین پر قبضہ نہیں رہا، بلکہ وہ بلوچ کے اس تاریخی وجود کو مسخ کرنا چاہتی ہے جو اسے اپنے ماضی سے جوڑتا ہے۔ ریاست چاہتی ہے کہ بلوچ خود کو ایک مسئلے کے طور پر دیکھنا شروع کر دے، ایک ایسی اکائی کے طور پر جسے اصلاح یا تادیب کی ضرورت ہے۔

لیکن اس گہرے حبسِ دوام میں بلوچ مزاحمت کا ابھرنا اس بات کی گواہی ہے کہ طاقت کا یہ جال ناقابلِ تسخیر نہیں ہے۔ جب کوئی قوم اپنی مسخر شدہ یادداشتوں کو ریاستی بیانیئے کے مقابل لا کھڑا کرتی ہے، تو وہ دراصل اس سحر کو توڑ دیتی ہے جسے قابض نے دہائیوں کی محنت سے بُنا ہوتا ہے۔ آج بلوچستان میں معرکہ صرف بندوق اور بارود کا نہیں، بلکہ اس سچائی کی تشکیل کا ہے، جس میں ایک طرف ریاست کا خود ساختہ نصاب ہے اور دوسری طرف بلوچ کا وہ لہو جو زمین کی تہوں میں اپنی تاریخ لکھ رہا ہے۔ یہ مزاحمت ثابت کرتی ہے کہ طاقت چاہے کتنی ہی سیال اور ہمہ گیر کیوں نہ ہو جائے، وہ اس انسانی جوہر کو قید نہیں کرسکتی جو اپنی شناخت کی بقا کے لیئے ہر مروجہ ضابطے کو مسترد کردیتا ہے۔ فوکو غالبا کہے گا کہ بلوچستان کی آزادی کی اس جنگ کا انجام کسی دستاویزی معاہدے میں نہیں، بلکہ اس لمحے میں پوشیدہ ہے جب محکوم کا شعور قابض کی زبان اور اس کے دیئے گئے ناموں کو ہمیشہ کے لیئے مسترد کردے گا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔