خاران: ریاستی سرپرستی میں چلنے والے ڈیتھ اسکواڈ کا شہریوں پر تشدد

0

ڈیتھ اسکواڈ کے ارکان نے بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں کے نام پر لوگوں کو ہراساں کیا، شہریوں نے شناخت کرلی۔

تفصیلات کے مطابق آج بلوچستان کے ضلع خاران کے مختلف مقامات پر پاکستانی فورسز کی سرپرستی میں چلنے والے مقامی ڈیتھ اسکواڈ نے شہر میں مسلح ہوکر علاقہ مکینوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور انہیں دھمکایا۔

علاقہ مکینوں کے مطابق انہوں نے ان مسلح افراد کو شناخت کر لیا ہے جو مقامی سطح پر ریاستی سرپرستی میں ڈیتھ اسکواڈ چلاتے ہیں اور سماجی برائیوں میں بھی ملوث ہیں۔

شہریوں نے دعوی کیا کہ خاران کے علاقے کلی سراوان میں ریاستی مسلح ارکان نے فورسز کی پشت پناہی میں خود کو سرمچار ظاہر کرتے ہوئے وہاں قائم ہسپتال میں داخل ہو کر عملے کو زبردستی کام سے روک دیا اور ہسپتال بند کردیا، ساتھ ہی دوبارہ نہ کھولنے کی دھمکی بھی دی۔

اس واقعے کے کچھ دیر بعد فورسز نے علاقے میں گشت بھی جبکہ مسلح افراد ان کے ہمراہ موجود تھے۔

اسی دوران مذکورہ گروہ کے ارکان نے نوروز آباد روڈ، ساؤتھ سٹی کے مقام پر پولیو کے ایک ٹرانزٹ پوائنٹ پر موجود عملے کو دھمکایا، بسوں کو روک کر مسافروں اور ڈرائیوروں کو ہراساں کرنے کی کوشش کی، اور خود کو آزادی پسند بلوچ سرمچار ظاہر کیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز بلوچ آزادی پسندوں کی ایک کارروائی میں اسی علاقے میں پاکستانی فورسز کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے بعد فورسز کی نقل و حرکت میں مزید اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

مکینوں کے مطابق ان حملوں کے بعد پاکستانی فورسز مقامی ڈیتھ اسکواڈز کے ذریعے لوگوں کو خوفزدہ کرنے اور شہریوں کو بلوچ آزادی پسندوں کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کررہی ہیں۔