بلوچ لبریشن آرمی نے پاکستانی فوج کیساتھ جھڑپوں میں جانبحق ہونے والے اپنے تین سرمچاروں کی تفصیلات جاری کردیئے۔ بیان کے مطابق مذکورہ ارکان زامران، بلیدہ اور مستونگ میں جھڑپوں میں جانبحق ہوئیں۔ ان سرمچاروں میں شاہ کرم ملازئی اور گہرام بلوچ اعلیٰ تعلیم ادارے میں زیر تعلیم رہے تھیں۔
بی ایل اے ترجمان جیئند بلوچ نے بتایا کہ شاہ کرم ملازئی بلوچ ساچان حاجی امین ملازئی کا تعلق پنجگور کے علاقے تسپ سے تھا اور وہ دسمبر 2023 میں بلوچ لبریشن آرمی کا حصہ بنیں اور زامران کے محاذ پر خدمات سرانجام دیئے۔ شاہ کرم ملازئی نے انگلش لٹریچر اینڈ لینگویسٹک ماسٹرز، کیو اے یو، اسلام آباد سے کی جبکہ بلوچ طلبہ تنظیم کے چیئرمین و جنرل سیکرٹری کے عہدوں پر رہیں۔
بیان کے مطابق وہ ٹریننگ استاد اور کیمپ کمانڈر کے رینکس پر رہیں اور 19 اپریل 2026 کو زامران میں مومچ کے مقام جانبحق ہوئے۔
بیان میں کہا گیا کہ چیئرمین شاہ کرم عرف ساچان بی ایل اے کے اس شعوری و علمی پروگرام کی ابتدائی صفوں میں شامل ایک سرمچار کمانڈر تھے، جو بلوچ قومی مزاحمت اور مسلح محاذ کو صرف فوجی محاذ آرائی کے طور پر نہیں بلکہ ایک جدید بلوچ قومی ریاست کی تشکیل کے عمل کے طور پر دیکھتے تھے۔ شاہ کرم قیادت کو نمائش یا اختیارات کا حصول نہیں سمجھتے تھے، بلکہ اسے ایک احساس ذمہ داری کے طور پر دیکھتے تھے، جن کے کندھوں پر آنے والی نسلوں کا مستقبل وابستہ ہوتا ہے۔
مزید کہا گیا کہ قبضہ گیر کے دارالحکومت سے تعلیم حاصل کرنے کے باوجود وہ ذہنی طور پر بلوچستان کی آزادی کی اس شعوری جدوجہد سے وابستہ رہا، جو آج ہماری بقا کا ضامن ہے۔ جب انہوں نے اپنی سیاسی فکر کو عملی شکل دینے کے لیے مسلح محاذ میں قدم رکھا تو وہ جلد ہی اپنی صلاحیتوں کی بدولت ٹریننگ استاد بن گئے اور نوجوانوں کو دشمن کے خلاف جنگ کے لیے تیار کرنے لگے۔ وہ فوجی کارروائیوں کے لیے مضبوط منصوبہ بندی کرنے میں ماہر ساتھی تھے۔ بعد ازاں اپنی بہترین کارکردگی اور تنظیم کے اندر موجود میرٹ سسٹم کی بدولت جلد ہی کیمپ کمانڈر منتخب ہوئے اور دشمن کے خلاف اہم معرکے سرانجام دیے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ بی ایل اے کے اندر اپنے تین سالہ سرمچاری و فوجی کیریئر کے دوران وہ مکران میں تنظیم کی فعالیت، جدید وارفیئر کے تقاضوں پر پورا اترنے، علم کو عمل اور محنت سے وابستہ رکھنے، اور انقلابی و فوجی اصولوں کی پاسداری کے حوالے سے ساتھیوں کے درمیان ایک مثال کے طور پر یاد کیے جاتے تھے۔ انہوں نے میدان جنگ میں دشمن کے ساتھ روبرو لڑائی کے دوران اپنی شہادت سے اس شعوری علم کی آبیاری کی، جو ہمیں غلامی کے خلاف کھڑے ہونے اور مزاحمت کا راستہ اختیار کرنے کی تاریخی فکر سے آشنا کرتی ہے۔ زامران کے محاذ پر 19 اپریل کو دشمن کے ساتھ جھڑپ میں شہادت حاصل کرکے انہوں نے تاریخ کے صفحات میں اپنا کردار قبضہ گیر کے خلاف ایک مزاحمت کار کے طور پر رقم کر دیا۔
جیئند بلوچ نے دوسرے جانبحق سرمچار کی شناخت گہرام بلوچ کمبر دُر محمد بلوچ سکنہ زامران کے نام سے کی ہے، وہ 2024 میں بلوچ لبریشن آرمی میں شامل ہوئے جبکہ کلبر کے محاذ پر ذمہ داریاں سرانجام دی اس دوران انہیں گشتی کمانڈ کا رینک بھی دیا گیا۔
گہرام بلوچ نے بھی اکنامس میں گریجویشن، کیو اے یو، اسلام آباد سے کی جبکہ وہ 26 فروری 2026 کو بلیدہ میں جانبحق ہوئے۔
ان کے حوالے سے مزید تفصیلات میں کہا گیا کہ کمبر بلوچ کے لقب سے بی ایل اے کے سرکل میں سرگرم شہید گہرام بلوچ، شہید کمبر چاکر کے انقلابی فکر سے وابستہ وہ بہادر سرمچار تھا جو اس شعوری و فکری مقام تک پہنچ چکا تھا کہ ایک قابض ریاست کی موجودگی اور زمین پر اس کے قبضے کی صورت میں بلوچ قوم کی ترقی و خوشحالی کبھی بھی ممکن نہیں ہو سکتی۔ وہ اس علمی مقام تک بھی پہنچ چکا تھا کہ کوئی بھی مسلح قابض فوج درخواستوں یا تاریخی و انسانی اصولوں کی بنیاد پر اپنے قبضے کا خاتمہ نہیں کرتی، بلکہ تاریخ کی سچائی اور حقیقت قبضہ گیر کے خلاف لڑنے اور اس طاقت کے حصول میں ہے، جہاں قومیں اپنے مقدر و تقدیر کو خود لکھتی ہیں۔ اسی تاریخی اور علمی سچائی نے گہرام سمیت اس کے خاندان کے کئی افراد کو وطن کے دفاع میں اپنی زندگیاں قربان کرنے پر آمادہ کیا۔
مزید کہا گیا کہ گہرام بھی دیگر کئی پڑھے لکھے نوجوانوں کی طرح دشمن کے تعلیمی اداروں سے گریجویٹ تھا، لیکن انہوں نے اپنی فکری و شعوری آگاہی اور قومی ذمہ داری کے احساس کو عمل کے ساتھ منسلک کیا۔ بعد ازاں اپنی تعلیمی کیریئر کے اختتام پر قبضہ گیر کے اداروں میں دشمن کے ریاستی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے بجائے بلوچ قومی مستقبل کی حقیقی طاقت اور ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے لیے 2024 میں بی ایل اے کے صفحوں میں شامل ہوئے اور شہادت تک بطور ایک انقلابی اور ذمہ داری قبول کرنے والے ساتھی کے طور پر تنظیم کے اندر فعال رہے۔
بیان میں کہا گیا کہ گہرام عرف کمبر فوجی محاذ پر اپنی بہادری کی وجہ سے شناخت رکھتا تھا۔ وہ دشمن سے آمنے سامنے لڑنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتا تھا اور فرنٹ لائن پر وطن دشمن قوتوں کے خلاف لڑتے ہوئے شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہوا۔ اپنی قابلیت اور صلاحیتوں کے بل بوتے پر انہیں کم عرصے میں ہی گشتی کمانڈ کی ذمہ داری دی گئی تھی، اور تنظیم کے اندر وہ اپنی ذمہ داریوں سے انصاف کرنے والے جہدکار کے طور پر جانا جاتا تھا۔ ان کی شہادت پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ وہ دشمن کے قبضہ گیر ریاستی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے بجائے قومی مزاحمت اور آزادی کی جدوجہد کو مضبوط کرنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں، جس طرح گہرام نے ثابت کیا اور وہ تاریخ میں امر ہو گئے۔
بی ایل اے نے اپنے تیسرے جانبحق سرمچار کی شناخت محمد عاصم شاہوانی رودین خادم حسین شاہوانی سکنہ کلی حسنی، تیرہ میل، دشت، مستونگ کے نام سے کی جو اپریل 2025 میں بلوچ لبریشن آرمی کا حصہ بنیں اور سات مہینوں تک بطور شہری گوریلا کاروائیاں کی اور نومبر 2025 کو پہاڑوں پر منتقل ہوئے اور کوئٹہ و مستونگ کے محاذوں پر تعینات رہیں۔
بیان کے مطابق عاصم شاہوانی 19 اپریل 2026 کو دشت، کمبیلا، مستونگ شہید ہوئے۔
تفصیلی بیان میں کہا گیا کہ مستونگ کے مقام پر دشمن کے ساتھ جنگ کے دوران شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہونے والے محمد عاصم شاہوانی عرف رودین، بلوچ لبریشن آرمی کے ایک ایسے سرمچار تھے جو جدید جنگی فکر سے آشنا تھے اور عملی میدان میں اسے بخوبی نبھاتے تھے۔ انہوں نے آپریشن ہیروف کے دوران فرنٹ لائن پر دشمن کے سامنے ڈٹ کر کھڑے رہے اور دشمن کو شدید نقصانات سے دوچار کیا۔ وہ اس فکری دھارے سے وابستہ ایک سرمچار تھے جو دشمن کے خلاف ابتدائی محاذوں پر لڑنے کو ترجیح دیتا تھا۔
مزید کہا گیا کہ سات مہینوں تک وہ شہری محاذ پر دشمن کے خلاف اہم جنگی کارروائیوں میں شامل رہے۔ شہری محاذ پر اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے بعد جب انہیں جنگی محاذ پر ذمہ داریاں سونپی گئیں تو انہوں نے پہاڑوں کو اپنا مسکن بنا لیا۔ مستونگ کے محاذ پر انہوں نے حالیہ عرصے میں تنظیم کی شاہراہوں اور شہروں میں پیش قدمی میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔ وہ جنگ کے میدان میں بہادری اور جرات سے سرشار ایک سرمچار تھے، جو اپنے فوجی اہداف کے حصول کے لیے ہر حد تک جانے کو تیار رہتے تھے۔
ترجمان نے بیان میں کہا کہ شہید محمد حسین شاہوانی نے تاریخ میں غلامی کی زندگی کا داغ لے کر جینے کے بجائے غلامی کے خلاف اجتماعی فکر کی روشنی میں مستقل آزادی اور خوشحالی کے لیے جدوجہد کے فلسفے پر اپنا سفر جاری رکھا، اور اسی فکر کے ساتھ بلوچ تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔ تاریخ ایسے بہادر وارثوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔
جیئند بلوچ نے بیان میں کہا کہ بی ایل اے ان کارروائیوں کے دوران مادرِ وطن کی مٹی کو اپنے لہو سے سینچنے والے جانباز سرمچاروں، شاہ کرم ملازئی عرف ساچان، گہرام بلوچ عرف کمبر اور عاصم شاہوانی عرف رودین کو ان کی عظیم قربانی پر سرخ سلام پیش کرتی ہے۔ ان شہدا نے غلامی کی زنجیریں توڑنے اور بلوچ قومی بقا کی خاطر میدانِ جنگ میں دشمن کی برتر قوت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر آزادی کی شمع کو روشن رکھا۔ ان کا بہتا ہوا خون اس عہد کی تجدید ہے کہ بلوچ قومی تحریک اب اس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں موت کا خوف وطن کی محبت کے سامنے ہیچ ہوچکا ہے۔ بی ایل اے اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ شہدا کا لہو رائیگاں نہیں جائے گا اور ان کے ادھورے مشن کو بلوچستان کی مکمل آزادی اور غاصب دشمن کے حتمی انخلاء تک منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ ان عظیم بلوچ بیٹوں کی قربانیاں بلوچ تاریخ کے ماتھے کا جھومر اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی۔


















































