افیون کی حکمتِ عملی: استعمار اور انقلاب مخالف حربے کے طور پر ایک آلہ – قدیر بلوچ

10

افیون کی حکمتِ عملی: استعمار اور انقلاب مخالف حربے کے طور پر ایک آلہ

تحریر: قدیر بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

تاریخی طور پر، افیون محض ایک تجارتی شے نہیں رہی؛ بلکہ یہ ریاست چلانے اور سماجی انجینئرنگ کا ایک طاقتور آلہ رہی ہے۔ استعماری قوتوں کے لیے، افیون کی ترویج “بائیو پولیٹیکل کنٹرول” کا ایک سوچا سمجھا حربہ ہے، جسے مزاحمت کو کچلنے، شاہی ڈھانچے کی مالی معاونت کرنے اور انقلابی جوش و خروش کو ٹھنڈا کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ کسی قوم کی جسمانی، معاشی اور اخلاقی بنیادوں پر حملہ کر کے، سلطنتوں نے ایک کیمیائی مادے کو انقلاب مخالف ہتھیار میں بدل دیا۔ مشل فوکو کے نظریات کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ “بائیو پاور” کی وہ شکل ہے جہاں ریاست فرد کے جسم اور اس کے اعصاب پر قابض ہو کر اسے سیاسی طور پر ناکارہ اور انسانی جسموں کو فرمانبردار (Docile Bodies) بنا دیتی ہے۔ اسی طرح کسی بھی استعمار کے لیے افیون کا سب سے فوری فائدہ ایک بے چین آبادی کو جسمانی اور ذہنی طور پر مفلوج کرنے کی صلاحیت ہے۔ ایک انقلاب کے لیے اعلیٰ درجے کی ہم آہنگی، جسمانی قوت اور فکری صفائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ افیون کے پھیلاؤ کی حوصلہ افزائی کر کے، نوآبادیاتی انتظامیہ مؤثر طریقے سے انقلابی لہر کو “مسکن” (sedate) دے سکتی تھی۔ فرانز فینن کے مطابق، استعمار مفتوحہ قوم کے شعور کو مسخ کرنے کے لیے ایسے ہی ذرائع استعمال کرتا ہے تاکہ محکوم اپنی پہچان اور غصہ بھول کر داخلی خلفشار میں گم ہو جائے۔

حکومت کی افیون پر اجارہ داری: ڈاکٹر ساجد محمود اعوان اس عمل کو ایک “کیمیکل نوآبادیات” کے طور پر دیکھتے ہیں، جہاں شعور کو منجمد کرنا ریاست کی بقا بن جاتا ہے۔ انقلاب کو روکنا ایک مہنگا عمل ہے۔ نوآبادیاتی طاقتیں اکثر مقامی آبادی کو ایک مجبور اور عادی مارکیٹ میں تبدیل کر کے قبضے کے مالی مسائل حل کرتی تھیں۔ اس سے مفتوحہ عوام کو اپنی ہی محکومی کی قیمت ادا کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔

برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے چین (چنگ خاندان) کے ساتھ تعلقات اس کی سب سے بڑی تاریخی مثال ہیں۔ اپنی کتاب The Opium War میں، جولیا لوول اس بات کی تحقیق کرتی ہیں کہ یہ تجارت محض منافع کے لیے نہیں تھی، بلکہ برطانوی سلطنت کے ڈھانچے کو برقرار رکھنے کے لیے تھی۔ برطانیہ نے چین کے ساتھ اپنے تجارتی خسارے کو ختم کرنے کے لیے افیون کا استعمال کیا، جس سے چین کے چاندی کے ذخائر ختم ہو گئے۔ جب چینی ریاست نے اپنی خود مختاری کی کوشش کی، جو کہ قومی صحت کے لیے ایک طرح کا انقلاب تھا، تو برطانوی طاقت نے جنگ چھیڑ دی۔ انڈیا میں افیون کی پیداوار استحصال کی اس عالمی مشین کا ایک حصہ تھی جس نے مفتوحہ عوام سے ان کا اختیار اور دولت بیک وقت چھین لی۔

ایک کامیاب انقلاب کا دارومدار “سماجی سرمائے” یعنی کمیونٹی کے اندر اعتماد اور تعلقات پر ہوتا ہے۔ افیون ان تعلقات کے لیے ایک تیزاب کا کام کرتی ہے۔ ڈچوں نے افیون کی تقسیم کا کام مقامی ایجنٹوں کے سپرد کر رکھا تھا، جس سے عادی آبادی کا غصہ استعمار کے بجائے ان کے اپنے ہی معاشرے کے افراد کی طرف مڑ گیا (جس کی مثال ہمیں حالیہ واقعات سے ملتی ہے)۔ اس نے سماجی اتحاد کو پارہ پارہ کر دیا اور ایک متحد قوم پرست محاذ بننا مشکل بنا دیا۔ جیسا کہ ایک اور محقق ایڈورڈ رشم لکھتے ہیں کہ افیون کی تجارت نے ایک ایسا “طفیلی تعلق” پیدا کیا جس نے جاوانی معاشرے کے روایتی ڈھانچے کو کھوکھلا کر دیا، جس سے وہ ڈچ تسلط کو چیلنج کرنے کے قابل نہ رہے۔

ڈاکٹر اقبال احمد اکثر اس جانب اشارہ کرتے تھے کہ جب ریاست عوامی فلاح میں ناکام ہو جائے تو وہ “وار لارڈزم” اور منشیات کی معیشت کو پروان چڑھاتی ہے تاکہ سیاسی مزاحمت کی جگہ مجرمانہ معیشت لے لیں۔ یہ ریاست کا وہ وطیرہ ہے جو ایک مخصوص ڈسکورس کو جنم دیتا ہے۔ افیون کا بطور انقلاب مخالف حربہ استعمال پروپیگنڈے کے میدان تک بھی پھیلا ہوا تھا۔ جان بوجھ کر منشیات پھیلانے کے بعد، استعماری طاقتوں نے اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سماجی بگاڑ کو اپنی موجودگی کے جواز کے طور پر استعمال کیا۔ نوم چومسکی نے اکثر اشارہ کیا ہے کہ “تہذیبی مشن” دراصل شکاری رویے کا ایک نقاب تھا۔ نوآبادیاتی تناظر میں، استعمار پہلے افیون فراہم کرتا اور پھر عادی آبادی کی “بدحالی” کو اس بات کے ثبوت کے طور پر پیش کرتا کہ وہ “خود مختار حکومت کے نااہل” ہیں۔ اس منطق نے قوم پرست رہنماؤں کو اخلاقی طور پر کمزور کرنے کا کام کیا۔

آج کے دور میں اس کی بدترین مثال بلوچستان کے علاقوں نوشکی اور چاغی کے مختلف مقامات جیسے پدگ، ژلو، شہہ سالار، امین آباد، برابچہ اور خاران کے علاقوں ایٹک، شاہوگیڑی یا واشک کے علاقہ ارماگئے میں ملتی ہے، جہاں سینکڑوں ایکڑ پر افیون کاشت کی جاتی ہے۔ بظاہر قبضہ گیر ریاست اور اس کے ادارے تو کہتے ہیں کہ ہم اس کی روک تھام کے لیے بہت کچھ کر رہے ہیں، لیکن یہ فصلیں اور ان کی بلا روک ٹوک ترسیل اسی پرانی استعماری حکمت عملی کا تسلسل معلوم ہوتی ہیں جو سرحدی علاقوں کو سیاسی شعور سے محروم رکھنے کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہے۔

سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو وہ نفسیاتی معذوری ہے جس نے ہمارے معاشرے کو جکڑ لیا ہے۔ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت افیون کو ہماری ثقافت اور نفسیات کا ایسا حصہ بنا دیا گیا ہے کہ اپنی تمام تر تباہ کاریوں کے باوجود ہمارے لوگ اسے ایک “شان” اور رتبے کی علامت سمجھتے ہیں۔ یہ وہی نفسیاتی مفلوج پن ہے جس کا ذکر فینن نے کیا تھا کہ محکوم اپنی ہی تباہی کے آلات کو فخر سے سینے سے لگا لیتا ہے۔ جب زہر کو عزت کا نشان بنا دیا جائے، تو پھر کسی انقلاب یا تبدیلی کی امید دم توڑ دیتی ہے، کیونکہ دشمن اب سرحدوں پر نہیں بلکہ فرد کے اپنے خون اور سوچ کے اندر بیٹھ کر اسے شکست دے رہا ہوتا ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔