کوئٹہ سے نرسنگ کی طالبہ کی جبری گمشدگی، اہل خانہ کی پریس کانفرنس

20

ضلع کیچ سے تعلق رکھنے والی نرسنگ کی طالبہ خدیجہ بنت پیر جان کی گرفتاری اور گمشدگی پر اہل خانہ نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اہل خانہ نے کہاکہ خدیجہ پیر جان، جو بی ایس نرسنگ کے ساتویں سمسٹر کی طالبہ ہیں اور ان کے فائنل امتحانات 28 اپریل سے متوقع ہیں، کو 21 اپریل 2026 کی شب کوئٹہ میں بولان میڈیکل نرسنگ گرلز ہاسٹل پر کارروائی کے دوران حراست میں لیا گیا۔

اہل خانہ کے مطابق کارروائی میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور دیگر اداروں کے اہلکار شامل تھے جنہوں نے بغیر کسی واضح وجہ کے طالبہ کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ گرفتاری کے دوران ان پر تشدد بھی کیا گیا جس سے ہاسٹل میں موجود دیگر طالبات میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

انہوں نے کہا کہ خدیجہ پیر جان اس سے قبل 14 مارچ 2026 کو سی ٹی ڈی کی طلبی پر تربت میں پیش ہو چکی تھیں جہاں تفتیش کے بعد انہیں کلیئر قرار دیا گیا تھا۔ اہل خانہ کا مؤقف ہے کہ اس کے باوجود دوبارہ کارروائی سمجھ سے بالاتر ہے۔

اہل خانہ نے ان پر لگائے گئے حکومتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خدیجہ نہ ماضی میں اور نہ حال میں کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث رہی ہیں۔

اہل خانہ نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ انہیں خدیجہ کی موجودہ حالت یا مقام کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اطلاع فراہم نہیں کی گئی۔

متاثرہ خاندان نے مطالبہ کیا ہے کہ خدیجہ پیر جان کو فوری طور پر بازیاب کر کے عدالت میں پیش کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں قانون کے مطابق منصفانہ ٹرائل کا حق دیا جائے، بصورت دیگر انہیں رہا کیا جائے۔