میران — خاموشی میں چھپی ایک داستان – احسان بلوچ

33

میران — خاموشی میں چھپی ایک داستان

تحریر: احسان بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

کچھ انسان اپنی شخصیت کا تعارف اپنے الفاظ سے نہیں، بلکہ اپنے کردار، اپنے رویّے اور اپنی زندگی کے انتخاب سے کرواتے ہیں۔ وہ زیادہ بولتے نہیں، اپنی ذات کو نمایاں نہیں کرتے، مگر جب ان کی زندگی کو قریب سے دیکھا جائے تو احساس ہوتا ہے کہ ان کی خاموشی کے پیچھے کتنے گہرے خیالات، کتنے مضبوط احساسات اور کتنی بڑی ذمہ داریاں پوشیدہ تھیں۔ میران بھی انہی لوگوں میں سے ایک تھا؛ ایک خاموش طبع انسان، جس کی شخصیت میں سادگی، محنت، خلوص اور اپنی سرزمین سے گہری وابستگی نمایاں تھی۔

میران کی خاموشی کو اس کی شخصیت کی محض ایک عادت سمجھنا شاید اس کے کردار کو پوری طرح نہ سمجھنے کے مترادف ہے۔ وہ کم گو ضرور تھا، لیکن اپنے فرائض اور تعلقات کے معاملے میں سنجیدہ تھا۔ اس کی شخصیت کا اصل تعارف اس کی باتوں سے زیادہ اس کے رویّے سے ہوتا تھا۔ وہ ان لوگوں میں سے تھا جو اپنی ذات کے بجائے اپنے کام کو اہمیت دیتے ہیں، جو اپنے بارے میں زیادہ کچھ کہنے کے بجائے اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں یقین رکھتے ہیں۔ اس کی خاموش طبیعت کے ساتھ ایک محنتی اور ذمہ دار انسان موجود تھا، جو اپنے سپرد کیے گئے کام کو کبھی محض ایک بوجھ نہیں سمجھتا تھا۔

میران کی شخصیت کا ایک اور نمایاں پہلو اس کی اپنے ساتھیوں کے لیے بے لوث فکر تھی۔ وہ اپنے دوستوں کی پرواہ کرتا تھا، ان کے حالات کو سمجھتا تھا اور ان کی ضرورتوں کو اہمیت دیتا تھا۔ اس کے لیے دوستی محض ایک تعلق کا نام نہیں تھی، بلکہ ایک ایسی ذمہ داری تھی جس میں دوسروں کا خیال رکھنا، ان کے ساتھ کھڑا ہونا اور ان کی مشکلات کو سمجھنا شامل تھا۔ وہ اپنے ساتھیوں کی فکر اپنی ذات سے بڑھ کر کرتا تھا۔ ایسے لوگ زندگی میں خاموشی سے اپنا کردار ادا کرتے ہیں، مگر ان کی موجودگی دوسروں کے لیے ایک ایسا سہارا بن جاتی ہے جس کی قدر اکثر ان کے چلے جانے کے بعد مزید شدت سے محسوس ہوتی ہے۔

میران ہمارے کیمپ کا سب سے سینئر ساتھی اور کمانڈر بھی تھا۔ اس حیثیت سے وہ محض ایک ذمہ دار شخص نہیں، بلکہ اپنے ساتھیوں کے لیے سیکھنے اور سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ تھا۔ وہ ہمیں مختلف باتیں سمجھاتا، اپنے تجربات سے آگاہ کرتا اور بہت سی ایسی چیزیں سکھاتا جن کی اہمیت وقت گزرنے کے ساتھ مزید محسوس ہوتی ہے۔ اس کی محنت، اپنے کام سے دلچسپی اور ذمہ داریوں کے ساتھ اس کی وابستگی اس کی شخصیت کے وہ پہلو تھے جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے ذمہ داری صرف ایک عہدہ یا ایک نام نہیں تھی، بلکہ ایک ایسی امانت تھی جسے وہ سنجیدگی سے نبھانے کی کوشش کرتا تھا۔

لیکن میران کو سمجھنے کے لیے صرف اس کی خاموش طبیعت، محنت اور ذمہ داری کا ذکر کافی نہیں۔ اس کی شخصیت کا سب سے گہرا پہلو اپنی سرزمین سے اس کی محبت تھی۔ اس کے لیے وطن محض نقشے پر کھینچی ہوئی سرحدوں یا زمین کے کسی ٹکڑے کا نام نہیں تھا۔ اس کی نگاہ میں اس سرزمین کے پہاڑ، اس کے جنگل، اس کی مٹی اور اس سے وابستہ ہر منظر ایک خاص اہمیت رکھتا تھا۔ یہ وہ وابستگی تھی جسے چند جملوں میں بیان کرنا آسان نہیں۔ اس کے نزدیک اپنی سرزمین سے تعلق محض جذباتی اظہار تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس کی سوچ اور زندگی کے انتخاب میں بھی اس کی جھلک دکھائی دیتی تھی۔

میران کی شخصیت میں ایک عجیب تضاد دکھائی دیتا تھا: ایک طرف اس کی خاموشی اور سادگی، اور دوسری طرف اپنی سرزمین کے بارے میں اس کے گہرے احساسات۔ وہ اپنی ذات کے بارے میں زیادہ اظہار نہیں کرتا تھا، مگر اپنی ذمہ داریوں اور اپنے نظریات کو سنجیدگی سے لیتا تھا۔ شاید بعض انسانوں کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے ان کے بولے ہوئے الفاظ سے زیادہ ان کے طرزِ زندگی کو دیکھنا پڑتا ہے۔ میران بھی ایسا ہی انسان تھا، جس کے کردار، محنت اور اپنے فرائض سے وابستگی میں اس کی سوچ کی جھلک ملتی تھی۔

پھر ایک دن اس کی شہادت کی خبر نے اس حقیقت سے دوچار کر دیا کہ بعض جدائیاں محض کسی ایک شخص کی غیر موجودگی کا نام نہیں ہوتیں، بلکہ اپنے ساتھ بہت سی یادیں، سیکھے ہوئے سبق اور زندگی کے مانوس لمحے بھی لے جاتی ہیں۔ میران کے جانے کے بعد جو خلا محسوس ہوتا ہے، اسے صرف ایک دوست کی جدائی کہہ کر بیان نہیں کیا جا سکتا۔ وہ ایک سینئر ساتھی تھا، ایک رہنما تھا، ایک ایسا شخص تھا جس سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ اس کی سکھائی ہوئی باتیں، اس کی نصیحتیں، اس کے ساتھ ہونے والی گفتگو اور وہ معمولی سے معمولی لمحے بھی یاد آتے ہیں جن کی اہمیت شاید اس وقت اتنی شدت سے محسوس نہیں ہوتی تھی۔

کسی انسان کی جدائی کے بعد اس کی یادیں مختلف صورتوں میں لوٹتی ہیں۔ کبھی اس کی کوئی بات ذہن میں تازہ ہو جاتی ہے، کبھی اس کا سمجھانے کا انداز یاد آتا ہے، اور کبھی کسی معمولی واقعے سے اس کی موجودگی کا احساس دوبارہ جاگ اٹھتا ہے۔ میران کی یاد بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ اس کی سکھائی ہوئی باتیں اور اس کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات اب ماضی کا حصہ ہیں، مگر ان کی اہمیت ختم نہیں ہوئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ احساس مزید گہرا ہوتا ہے کہ بعض لوگ اپنی زندگی میں دوسروں کو بہت کچھ دے جاتے ہیں، اور ان کے جانے کے بعد بھی ان کی باتیں اور ان کے اثرات باقی رہتے ہیں۔

اس جدائی کا ایک تلخ پہلو یہ بھی ہے کہ حالات انسان کو اپنے غم کے ساتھ ٹھہرنے کی مہلت نہیں دیتے۔ دل میں یادوں کا ایک ہجوم ہوتا ہے، بہت سی باتیں یاد آتی ہیں، مگر زندگی کی ذمہ داریاں اپنی جگہ موجود رہتی ہیں۔ کبھی دل چاہتا ہے کہ گزرے ہوئے لمحوں کو یاد کیا جائے، ان باتوں کو دوبارہ سوچا جائے جو کبھی ایک معمول کا حصہ تھیں، مگر حالات انسان کو مسلسل آگے بڑھنے پر مجبور کرتے ہیں۔ یوں بعض دکھ انسان کے اندر خاموشی سے موجود رہتے ہیں؛ وہ ہر وقت الفاظ میں ظاہر نہیں ہوتے، لیکن ان کی موجودگی ختم بھی نہیں ہوتی۔

میران کی شہادت کے بعد اس کی یاد کو زندہ رکھنے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس کی شخصیت کو صرف اس کی موت کے حوالے سے نہ دیکھا جائے، بلکہ اس انسان کو بھی یاد رکھا جائے جو وہ اپنی زندگی میں تھا۔ اس کی خاموش طبیعت، اس کی محنت، اپنے ساتھیوں کے لیے اس کی فکر، ذمہ داریوں سے اس کی وابستگی اور اپنی سرزمین سے اس کی محبت—یہ سب اس کی شخصیت کے ایسے پہلو ہیں جو اس کی یاد کو معنی دیتے ہیں۔ کسی انسان کو یاد کرنا صرف اس کے بچھڑنے کا دکھ بیان کرنا نہیں، بلکہ اس کی زندگی، اس کے کردار اور اس سے حاصل ہونے والے اسباق کو سمجھنا بھی ہے۔

میران آج ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن اس کی یاد ان باتوں میں باقی ہے جو اس نے ہمیں سکھائیں، ان تجربات میں باقی ہے جو اس نے ہمارے ساتھ بانٹے، اور ان لمحوں میں باقی ہے جو اب ماضی کا حصہ بن چکے ہیں۔ اس کی خاموشی، اس کی محنت اور اپنے ساتھیوں کے لیے اس کی بے لوث فکر اس کی شخصیت کا وہ تعارف ہیں جو وقت کے ساتھ مٹ نہیں جاتے۔

میران کی زندگی ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ انسان کی پہچان صرف اس کے کہے ہوئے الفاظ سے نہیں ہوتی؛ اس کی اصل پہچان اس کے کردار، اس کی ذمہ داریوں اور ان لوگوں کی زندگیوں میں چھوڑے گئے اثرات سے بھی ہوتی ہے۔ کچھ لوگ دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، مگر ان کی باتیں، ان کے سکھائے ہوئے سبق اور ان کی یادیں ان لوگوں کے ساتھ باقی رہتی ہیں جنہوں نے انہیں قریب سے جانا ہو۔ میران بھی انہی یادوں میں زندہ ہے—ایک خاموش انسان کی صورت میں، جس کی شخصیت میں خلوص تھا، جس کے کردار میں محنت تھی، اور جس کے دل میں اپنی سرزمین کے لیے ایک گہری وابستگی تھی۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔