جبری انخلا: مزاحمتی یادداشتوں کو منقطع کرنے کی پالیسیاں
تحریر: شبیر بلوچ (سابقہ چیئرمین: بساک)
دی بلوچستان پوسٹ
بلوچ قوم اپنی مادرِ وطن سے مہر و وفا اور عشق کی بے مثال داستان، تاریخی یادداشتوں کے تحفظ اور حسن و خوبصورتی کے تحفظ کے حوالے سے ایک مثالی قوم کی حیثیت رکھتی ہے۔ مست توکلی اور نتھا کے حوالے سے مشہور ہے کہ جب فرنگی سامراج بلوچستان پر حملہ آور ہوئے تو انہوں نے اپنی ذاتی مہر و محبت کو وقتی طور پر ترک کر کے وطن سے مہر و وفا نہ صرف قائم رکھی بلکہ نتھا ماران کی وادیوں میں شہید بھی ہوئے۔ اس کے علاوہ مذہبی شاعر نبی و رسول کی ثنا و تعریف سے دستبردار نہیں ہوئے لیکن جب مادرِ زمین کو چھیننا چاہا تو جوانسال بگٹی جیسے مذہبی شاعر نے بھی اپنی تخلیقات کے ذریعے قوم کو آگاہ کیا۔
اسی طرح دنیا میں مختلف اقوام اپنی ثقافتی رسم و روایت، ثقافتی بندھن، نفسیاتی رشتوں اور احساسات کے خدوخال کو اسی سماجی انداز میں اپنی تاریخی وابستگی کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ بلوچ قوم کی خوبصورتی، دانشمندی اور قوم دوستی کی حقیقی دانائی کا عالم یہ ہے کہ جہاں مختلف علاقائی زبانیں اور مذہبی عقائد موجود ہیں، جہاں الگ قبائلی، سیاسی، سماجی اور ذرائع معاش بھی مشترک نہیں، اور سب سے بڑی ستم ظریفی یہ کہ نوآبادیاتی نظام کے اندر منتشر حالات کے باوجود وہ ظالم طاقت کے اختیار و اقتدار کو چیلنج کر رہی ہے۔ یہی چیلنج ایک قومی شناخت کے مضبوط ہونے کی علامت ہے۔ یہ تمام تر قربانیاں، یا قومی باؤنڈنگ فورس، مادرِ وطن بلوچستان میں پیوست ہیں۔ مادرِ وطن کی محبت کی خوشبو میں “وزنِ عمل” موجود ہے یعنی کہ یقین اور مزاحمت کا درس دے کر قومی یکجائی کو نئی روح پھونکنا اس مٹی کا سدا بہار رسم و روایت ہے۔
کہنے کو یہ آسان ہے کہ ہم دو صدیوں سے غلام ہیں، لیکن غلامانہ زندگی میں شناخت، سیاست، معاش، تعلیم اور سماجی کیفیتِ نفسیاتی فکر پر حملہ کیا گیا۔ قومی فکر کو مفلوج کرنے، ہائبرڈ کلچر کے نظام میں قومی احساس کو مسخ کرنے اور بطور قوم نفسیاتی ساخت و شناخت کی جنگ میں ہم اب تک فاتح تو نہیں ہوئے، لیکن کم از کم جدوجہد جاری ہے۔ ایک قومی فکر کے وارث بلوچ کسی ماتمی غم یا یاد کے بجائے ایک بھرپور مزاحمت کا حصہ ہیں، کیونکہ قومی سلامتی کو زندہ رکھنے کا فلسفہ ہمیں قومی وراثت میں ملا ہے۔ مادرِ وطن کی محبت، قربانیوں پر مبنی احساسات ہیں، جو قومی شناخت میں دفاعی ڈھال کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
یہ کالم ماضی کی داستانوں کی محض اعزازی رہنمائی نہیں، بلکہ تاریخی جڑوں کو مزاحمت کے ساتھ جوڑنے اور آنے والی نسلوں کو یہ سبق دینے کے لیے ہے کہ حال ماضی کا آئینہ ہے اور مستقبل اُس کی روشنی ہے۔ جبری قبضے سے جبری انخلاء کے اس جاری سفر میں جسمانی نسل کشی کی نئی لہر، زمین کشی کی منصوبہ بندی، نئے نقشے، سرمایہ دارانہ معاہدات، سفارتی تعلقات اور سیکیورٹی کے نام پر پورے بلوچستان میں ریاستی مفادات کی مہمات درحقیقت ترقی کے نام پر اپنے معاشی مفادات کو پورا کرنا اور مقامی لوگوں کو بے دخل کرنا، اور بھٹو کی شاطرانہ پالیسیوں کا تسلسل ہیں۔ اِن پالیسیوں کا مقصد بلوچوں کو اپنی سرزمین میں جلاوطنی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور کرنا ہے، تاکہ مادرِ وطن کی انمول مہر کی داستان کو متاثر کیا جا سکے۔ ریاستی نوآبادیاتی طاقت، زمینوں پر قبضہ، زمینوں کی خرید و فروخت اور غربت و سادہ بیانیے کے ذریعے خیالات کو ٹریپ کرنا دراصل زمین کی محبت کے فلسفے پر حملہ ہے۔ یہ جو سیٹلر ازم کی وسیع تر تیاری ہے اور ایک قسم کا فوجی محاصرہ بھی ہے، جس کا رخ لوگوں کے ذہنوں پر خاموشی سے وار کرتا ہے۔
ذہنوں پر محاصرے سے آزادی، مزاحمتی رویہ اور حالات کا نئی کروٹ لینا کوئی اچانک واقعہ یا معجزہ نہیں، بلکہ پیش گوئی اور علمی دانش کا ایک پیمانہ ہے۔ ہمارے پاس مزاحمت کا راستہ اس وقت سخت امتحان کے مراحل میں داخل ہو رہا ہے۔ اس وقت گل زمین ہمارے ایمان، حوصلوں، ہمت و دانائی اور قربانی کی سطح کا امتحان لے رہی ہے۔ عوامی تحریکوں کی انتہائی اہم خاصیت عوام کی پُرجوش پیش قدمی ہے، اور اِس کا فطری نتیجہ آزمائشوں سے گزر کر مستحکم ہونا ہے۔ بلوچ قوم ایک تباہ کن صورتحال سے دوچار ہے، جہاں دشمن کی یلغار اور ظلم کے ہتھکنڈوں کو مزاحمت، سیاسی و تاریخی تعلیم و تربیت، ثقافتی عوامل اور قومی طاقت سے چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ اگر ممکن ہو تو دشمن کے جبری انخلاء کے منصوبے سے انکار کے بغیر ہم اپنے قومی مقصد کو پورا نہیں کر سکیں گے۔
جبری انخلاء کی اس صورتحال کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ہم پر اب کالے بادل منڈلا رہے ہیں۔ ہماری عوامی مزاحمت اور مادرِ وطن کی محافظ خود بلوچ عوام ہیں۔ تاریخی تربیت کے اِس عمل میں ہماری ماؤں نے اپنی زمین کے لیے محبت کے بیج بوئے، جن کا مقصد نسل در نسل مزاحمت، وطن کی بحالی اور اُس انقلاب کو تکمیل تک پہنچانا ہے جو دلوں میں قومی عظمت اور وطن کی محبت کو مزید ابھار سکے۔ سیاسی شعور، متبادل تعلیم، ثقافتی روشنی کی فراہمی، زبان، تاریخ اور جغرافیہ بھی ایک درس ہیں۔ قومی ہیروز کی داستانوں کو سینہ بہ سینہ آگے بڑھانا گل زمین کی محبت ہے۔ قومی تاریخ میں کہانیاں، لٹریچر کی تشکیل، حمل جیئند، میر محراب خان اور بلوچ خان نوشیروانی کی کہانیاں قربانیوں کے عظیم نظریے کو واضح کرتی ہیں کہ اگر قوم بے بسی اور لاچاری میں مبتلا ہو تو اُس کے لیے کوئی بچ نہیں پائے گا۔ ایسے حالات میں مزاحمت کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
گوادر میں آبادکاری، جبری انخلاء، زمینوں کی خرید و فروخت کے منصوبے، ہائبرڈ کلچر کی تشکیل، سی پیک منصوبہ، زمین کشی اور معاشی مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے تمام تر ساحلی علاقے فوجی محاصرے میں ہیں۔ اورماڑہ پورے فوجی کینٹ میں تبدیل ہو چکا ہے، جہاں مقامی آبادی کو جلد بے دخل کیا جائے گا۔ گوادر کو بھی اسی طرح اقلیت میں مبتلا کیا گیا ہے۔ کلمت اور پسنی میں نئی نیول ایئربیس کے منصوبے زیرِ عمل ہیں۔ پاکستانی فوج ایک طرف سفاکیت و جبر کے ذریعے بلوچ نسل کشی کر رہی ہے، تو دوسری جانب نیوی جیسے ملٹری ادارے دل جیتنے کی پالیسی کے ذریعے زمین کشی اور سافٹ پاور بن چکے ہیں۔ اگر زمین سے ہمیں منتقل کیا جا رہا ہے، جو سائلنٹ جینوسائیڈ کے سائے تلے ایک خطرناک وبا ہے، اور اِس کے لیے قانون و آئین مزاحمت کاروں کی سہولت کاری کے نام پر کاؤنٹر حکمت عملی کے اقدامات ہیں، جہاں چین، امریکہ، سعودی عرب اور ترکی جیسی ریاستوں کو ہماری زمینیں سستے داموں فروخت کی جا رہی ہیں۔ آج سردشت، شادی کور، کلانچ، نوشکی، قلات اور مستونگ سمیت کئی جگہوں سے مقامی آبادیوں کو نکالنے کے ساتھ عالمی جنگوں کے تناظر میں اِن اہم مقامات کو عالمی طاقتوں کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ اور ممکنہ مزاحمت سے بچنے کے لیے اِس طرز سے یادداشت کا خاتمہ اور زمین کی مہر کو بطور عبرت ایک عذاب منوانا ہے۔ وسائل کی حوالگی کے پیش نظر جغرافیائی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو ہماری زرخیز زمین میں یہ گنجائش ہے کہ ہم ریکور کر سکیں، لیکن پھر بھی ہم اِسے برداشت نہیں کر سکے۔ پسنی ایئربیس کے پروجیکٹ کے تناظر میں مقامی آبادی کی بے دخلی ہم سے پیش گوئی اور آگاہی کی حد تک محدود رہنے کا تقاضا نہیں کرتی، بلکہ ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ ہم اپنے مزاحمتی صفوں کو مضبوط کریں۔ ہم تماشائی کے بجائے ایک اہم کھلاڑی بنیں۔
سی پیک کے ابتدائی دنوں میں سیاسی بیانیے کے تحت ترقی، خوشحالی، میگا سٹی اور انفراسٹرکچر کے شور سے اُس وقت بھی بلوچ قوم آگاہ تھی کہ ترقی کے نام پر مکران، کیچ، شاپک، ہوشاپ سمیت گرد و نواح کے علاقوں کو جبری منتقلی اور مشکے و آواران میں سیکیورٹی حالات کی خرابی کے نام پر پوری آبادی کو منتشر کیا گیا، جہاں آج بھی لوگ در بدر مختلف جگہوں میں منتشر ہیں۔
یلغار کا وطیرہ اُس وقت بھی وہی تھا اور آج بھی وہی ہے۔ ریاست طاقت کے ساتھ ایک بیانیہ قائم کرتی ہے اور بعد ازاں تشدد کے ذریعے اپنے پروجیکٹ کی تکمیل کرتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم آج کہاں کھڑے ہیں؟ انتہائی قربانی کے بعد جلاوطنی کی زندگی گزارنے کے بعد ایک سوال یہاں پیدا ہوتا ہے کہ صرف ماضی کے واقعات کی نشاندہی کر کے ڈیٹا یکجا کرنا کافی نہیں۔ اور اگر ہمیں مضبوط اعصاب کی تیاری کرنی ہے، تو ہمیں یہاں از سرِ نو تشکیل نہیں کرنا، بلکہ پہلے سے موجود قومی وراثت میں ملی ہوئی مزاحمتی کلچر کو ثابت قدمی کے دامن سے مضبوط ہاتھوں سے تھامنا ہوگا، تاکہ بلوچستان کا مستقبل واضح ہو سکے۔ بلوچ قوم کے پاس اہم ترین موضوعات ہونے چاہئیں۔ بعض اوقات یہ کہا جاتا ہے کہ عالمی گہما گہمی کے حالات کو عوام نہیں سمجھ پاتی۔ سیاسی و انقلابی طبقے یا مصنف قوم کو خطرناک طوفانی بادلوں کے منڈلانے سے آگاہ کرتے ہیں؛ اگر عوام اِس حوالے سے آگاہ نہ ہو، تو ہمارے لیے تباہ کن ہے۔
کوہ سلیمان میں جہاں بمباری اور دیگر استحصالی منصوبوں سے علاقہ منتشر ہو چکا ہے، ریاست یہی چاہتی ہے کہ بلوچ آبادی اِس طرح منتشر ہو جائے کہ اپنے دل و دماغ میں اِس بیانیے کو جگہ دے کہ ہماری قومی آبادی کم ہے۔ بلوچ قوم کی آبادی کم نہیں، بلکہ جبری منتقلی اور جبری انخلاء کی وجہ سے در بدر اور منتشر حالت میں قومی مرکزیت سے کٹی ہوئی ہے۔ آج ایسے حالات بن چکے ہیں کہ سیکیورٹی کے نام پر منصوبے ہیں۔ ہمارے ساحل و وسائل اور زمین کے بعد ہمارے ہواؤں کو بھی بیچا جا رہا ہے۔ مختلف علاقوں میں آبادی اِس طرح متاثر ہو رہی ہے کہ زمین کی ریت سے نکلی ہوا بھی متاثر شدہ ہے۔ بلوچ کے اپنے گل زمین سے محبت و خلوص کو کمزور ثابت کرنے کے لیے یہ تمام تر منصوبے آگے لائے جا رہے ہیں، لیکن ہماری تاریخی وراثت مزاحمتی فکر کو مزید مضبوط کر رہی ہے۔
ساحلی علاقوں میں دشمن کے منصوبوں کے حوالے سے بلوچ سماج پر تجزیہ کیا جائے تو ہمیں ہر علاقے میں دشمن کے منصوبے دیکھنے کو ملتے ہیں، جہاں خاص طور پر ساحلی علاقے بھی اِس استحصال زدہ ریاستی پروجیکٹ اور جبر سے پاک نہیں۔ سی پیک کے ابتدائی زمانے، 2004 کے بعد 2010 میں گوادر کی زمین کو بیچنے کی ایک مہم شروع کی گئی، جس میں اورماڑہ سے لے کر جمیڑی تک کے علاقہ مکینوں کو اپنی زمین بیچنے پر مجبور کیا گیا۔ زمینوں کو خریدنے والے فوج کے ریٹائرڈ جرنیل اور کرنل تھے۔ اِس خرید و فروخت کا بنیادی مقصد بلوچوں کو اپنی زمین سے نکال کر غیر مقامی لوگوں کو جگہ فراہم کرنا تھا، جو کہ سی پیک معاہدے کا اہم حصہ تھا۔ ساحلی علاقوں میں بڑے نیول بیس، فوجی اڈے اور ایئرپورٹ بنانے کا مقصد بلوچوں کی زمینوں پر قبضہ کر کے سرکار کے حوالے کرنا ہے۔ یعنی اورماڑہ ایئرپورٹ، پسنی ایئرپورٹ، گوادر ایئرپورٹ اور جیونی ایئرپورٹ میں کمرشل جہازوں کے بجائے صرف نیوی اور ملٹری آمد و رفت ہوتی ہے۔ اِس کے علاوہ بلوچ عوام کو تعلیم سے دور رکھنے کے لیے مالی صورتحال کو وسیلہ بنایا گیا، جس کی ایک اہم مثال کنٹونمنٹ بارڈر ہیں، جس کی وجہ سے ساحلی علاقوں میں تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے اور حتیٰ کہ سیکنڈری تعلیم بھی مکمل نہیں کی جا پاتی۔
جغرافیائی تبدیلی کی وجہ سے بلوچ عوام متاثر ہیں، جس کی مثال گوادر اور اورماڑہ میں بڑے حد تک دیکھنے کو ملتی ہے۔ گوادر میں پدی زر اور دیمی زر کے سڑک سمیت نیو ٹاؤن، پورٹ اور جی پی اے کمپلیکس اِس طرح ڈیزائن کیا گیا کہ بلوچ آبادی متاثر ہو سکے۔ پانی کے راستے بند ہونے سے آبادی میں واٹر لیول 80 فٹ سے 20 فٹ نیچے آ گیا ہے۔ اِس کی وجہ سے لوگوں کے گھر متاثر ہو رہے ہیں۔ ڈیموگرافک انجینئرنگ کے طریقہ کار کو استعمال کرتے ہوئے گوادر پورٹ کے نزدیک علاقوں کو بے دخل کیا جا رہا ہے اور آہستہ آہستہ پرانے گوادر کے لوگوں کو بھی باہر کیا جا رہا ہے۔ یہ تمام تر پالیسیاں سافٹ پالیسی کے ذریعے استعمال کی جا رہی ہیں۔ اورماڑہ بھی اسی طرح ایک ملٹری زون میں تبدیل ہو چکا ہے، جو دو حصوں میں منقسم ہے۔ ایک طرف غیر مقامی ہیں، جن کے لیے تمام تر سہولیات میسر ہیں، مگر دوسری جانب مقامی لوگ کیڑے مکوڑوں کی طرح ہیں۔ اورماڑہ میں سیٹلر ازم بھی اپنے انتہا پر ہے، یعنی غیر مقامی لوگوں کی تعداد اِس قدر ہے کہ اُنہوں نے مقامی لوگوں کی سماجی ساخت، ثقافت و زبان کو وسیع پیمانے پر متاثر کیا ہے۔
اِس کے علاوہ ایک بڑی پالیسی ذہنی اور جسمانی عیاشی کی نارملائزیشن ہے۔ بلوچیت پر حملہ، سیکٹرز کی وجہ سے سماجی جراثیم میں اضافہ، گھروں کی چار دیواری کو پامال کرنا، شراب اور دیگر نشہ اِس قدر عام ہو چکے ہیں کہ کوئی بھی شخص غیر اخلاقی سرگرمیوں میں شامل ہو کر اسے افضل سمجھتا ہے۔ یہاں حیرانی کی بات یہ ہے کہ اِنہیں منع کرنے والا کوئی نہیں۔ یعنی ایک خاندان یہ جانتے ہوئے بھی خاموش ہے کہ اُس کا بیٹا رات کو گھر پر نہیں ہے۔ ایک والد یہ جانتے ہوئے کہ اُس کا بیٹا کل نشے کی حالت میں گھر آیا تھا، مگر پھر بھی کچھ نہیں کر سکتا۔ جغرافیائی تبدیلی کا ایک اہم نکتہ سوسائٹی کلچر کی وسعت ہے۔ اورماڑہ سے لے کر جمیڑی تک بے شمار ہاؤسنگ سوسائٹیز وجود میں آئی ہیں۔ پلیری کے قریب گلف سٹی بن رہا ہے، اِس لیے پلیری کے نزدیک علاقوں کے خواتین، مرد اور بچے مختلف سماجی و غیر اخلاقی سرگرمیوں کا حصہ بن رہے ہیں، جس کی وجہ سے ہمارے عوام کی ذہنیت یکسر بدل رہی ہے۔
اِس ساری صورتحال کو صرف معاشی ترقی یا سیکیورٹی کے تناظر میں دیکھنا ادھورا تجزیہ ہے۔ یہ دراصل سیٹلر نوآبادیاتی منطق، ڈیموگرافک انجینئرنگ، وسائل کی لوٹ مار اور شناخت کی سیاست کا ایک مشترکہ نظام ہے۔ نوآبادیاتی طاقت پہلے زمین لیتی ہے، پھر پانی، پھر ہوا، اور آخر میں یادداشتیں۔ جب یادداشت چھین لی جائے تو قوم کو اُس کی جڑوں سے کاٹا جا سکتا ہے۔ اِسی لیے زبان، ادب، موسیقی، لوک کہانیاں، مہمان نوازی، لباس اور تاریخی شعور محض ثقافتی زیور نہیں، بلکہ قومی دفاع کے مضبوط ترین ہتھیار ہیں۔ بلوچستان کا مستقبل اُس وقت تک محفوظ نہیں ہو سکتا جب تک سیاسی تعلیم، تاریخی آگاہی، قانونی مزاحمت، سماجی انصاف اور نوجوانوں کی فکری تربیت کو تحریک کا مرکزی حصہ نہ بنایا جائے۔
سیاسی تعبیر کے طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ جہاں ریاست طاقت کے ذریعے بیانیہ تراشتی ہے، وہیں قوم کو اپنا متبادل بیانیہ تاریخ، زبان، ثقافت اور انصاف کی زبان میں تراشنا ہوگا۔ مزاحمت صرف ہتھیار کا نام نہیں؛ مزاحمت تعلیم ہے، شعور ہے، تنظیم ہے، عوامی جدوجہد ہے، ثقافتی تحفظ ہے، اور نسل نو کی سیاسی تربیت ہے۔ اگر ماضی کا آئینہ حال ہے اور مستقبل اُس کی روشنی، تو پھر حال کا فرض ہے کہ وہ ماضی کی قربانیوں کو بھلا نہ دے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک واضح، باوقار اور آزاد مستقبل کی راہ ہموار کرے۔
جبری بے دخلیوں کا معاملہ نہ آج شروع ہوا ہے اور نہ یہیں ختم ہوتا ہے۔ دیگر نوآبادیاتی ریاستوں کی طرح پاکستان کا بھی یہ وتیرہ رہا ہے کہ وہ بلوچ علاقوں میں زبردستی داخل ہو کر بلوچوں کو ان کی اپنی سرزمین سے بے دخل کرتا رہا ہے۔ ایسی ہی ایک مثال 2013 میں قلات کے علاقے نیمرغ کی ہے، جہاں ریاستی ایما پر ڈیتھ اسکواڈ اور ریاستی ایجنسیوں کو متحرک کر کے علاقے کا امن و امان تادمِ تحریر خراب کر دیا گیا۔ قلات کے علاقے نیمرغ کی چھوٹی سی بستی کاریز قمبرانی اور گرد و نواح میں کم از کم 300 گھرانے آباد تھے۔ لوگوں کی زمینداری، مال و مویشی اور ذرائع معاش کو بے دردی سے یرغمال بنا کر 300 گھرانوں کی بستیوں کو جبری بے دخلی پر مجبور کیا گیا۔ ان علاقوں میں کاریز قمبرانی کے 18 گھر، پرہ شہر کے 25 اور مینگل آباد کے کئی گھر شامل تھے۔ 2013 میں جبری بے دخلی کی اس لہر میں قلات کے نیمرغ، محمد تاوہ، پندران اور خضدار کے توتک زہری و دیگر علاقے شامل تھے۔ اس نے ہزاروں لوگوں کا معاشی استحصال کیا، انہیں بے گھر کیا اور دوسرے علاقوں میں ان کی سیاسی، قبائلی حیثیت اور علاقائی پہچان کو مسخ کر دیا۔ جو لوگ اپنے علاقوں میں بادشاہی زندگی گزار رہے تھے، وہ دوسرے علاقوں میں مزدوری کر کے بے نام زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے۔ لوگوں کی زمینوں پر غیر قبائل اور خاص طور پر ڈیتھ اسکواڈ مسلط کیے گئے، جس کے بھاری نقصانات علاقہ مکینوں کو بھگتنے پڑے۔
علاوہ ازیں، بلوچوں کی سرشت میں زمین کے لیے لڑ کر مرنا شامل ہے، چنانچہ انہوں نے لڑ کر اپنی زمینوں کی حفاظت کی، جس سے علاقوں میں قبائلی جھگڑے اور خانہ جنگی پیدا ہوئی اور ہزاروں لوگ اپنے ہی بلوچ بھائیوں اور قبائلیوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ ان سب اقدامات کو ریاستی سطح پر کچھ سیاسی افسانوں کے ذریعے جواز بخشا جاتا ہے، جیسے سیکیورٹی، دہشت گردی کے خاتمے، ترقی، قومی مفاد، غیر ملکی سرمایہ کاری اور اسٹریٹجک منصوبے۔ یہ بیانیے دراصل سیاسی افسانے ہیں، کیونکہ زمین پر آباد لوگوں، ان کے کھیتوں، کاریزوں، مویشیوں اور قبائلی زندگی کو ”خالی“، ”غیر ترقی یافتہ“ یا ”خطرہ“ قرار دے کر بے دخلی کو ناگزیر ثابت کیا جاتا ہے۔ حالانکہ ان علاقوں میں لوگوں کی جڑیں صدیوں پرانی ہوتی ہیں۔
زامران کے علاقے دشتک میں ایک جگہ جو اسپیت گڈھ کے نام سے جانی جاتی ہے، وہاں باقاعدہ فوج کی جانب سے عوام کو جبری بے دخل کیا گیا۔ اس سے چند سال قبل کلبر کے علاقے کلگ میں بھی عوام کو جبری انخلاء کا شکار کیا گیا، جس کے بعد عوام تمپ، بالیچہ اور نظر آباد سمیت دوسرے علاقوں میں آباد ہوئے۔ یہ دو کیسز براہِ راست ریاستی فوج کی دھمکیوں کی وجہ سے ہونے والے جبری انخلاء کی مثالیں ہیں، مگر اس کے علاوہ بھی بہت سے کیسز ہیں جہاں ایسے حالات پیدا کیے گئے کہ لوگوں کو مجبوراً اپنی زمین چھوڑنی پڑی۔ ان علاقوں کے اندرونی راستوں پر فوجی چیک پوسٹوں پر لوگوں کو تذلیل کا نشانہ بنایا گیا، جس میں خواتین اور مریضوں کو بھی نہ بخشا گیا۔ مغرب کے بعد نہ کسی کو داخل ہونے دیا گیا اور نہ ہی کسی کو باہر جانے دیا گیا۔ حتیٰ کہ عید کی خوشی کے دن بھی اپنے رشتہ داروں کے ہاں جانا محال ہو گیا تھا۔
اسی طرح 2013 میں ہی آواران، مشکے، کولواہ اور جاؤ سمیت کئی علاقوں میں جبری بے دخلی کے قصے ملتے ہیں، جہاں قدرتی آفت کے آتے ہی ریاست کی جانب سے وہاں کے لوگوں کو جبری انخلاء پر مجبور کیا گیا۔ جو علاقے شہر سے دور تھے، انہیں شہر کی طرف لایا گیا، اور جو شہروں میں تھے، انہیں علاقہ چھوڑنے کی دھمکی دی گئی۔ وہ لوگ انہی دنوں سے لے کر آج تک بلوچستان کے دوسرے شہروں میں در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ اس جبری انخلاء سے کئی لوگ غریب سے بدتر ہو گئے، کیونکہ کچھ لوگوں کا ذریعہ معاش مال و مویشی تھا اور کچھ کی زرعی زمینیں۔ جب اپنا ہی گھر نہ رہا تو ذریعہ معاش کہاں سے آتا؟ اور تمام کام ریاست نے اپنی فورسز سمیت ڈیتھ اسکواڈ کے ذریعے کروائے۔ لوگوں کے ایک ایک گھر جا کر کہا گیا کہ گھر خالی کریں اور یہاں سے نکل جائیں۔ یہ تمام اعمال سیکیورٹی کے نام پر کروائے گئے، مگر نہ تو سیکیورٹی بہتر ہوئی اور نہ ہی امن آیا، البتہ لوگ اپنے آباؤ اجداد کی زمینوں سے محروم ہو گئے۔ جو لوگ اپنے آباؤ اجداد کے گھروں سے محروم رہے، وہ زمین کی دوستی اور محبت سے محروم رہیں گے؛ وہ زمین جہاں ہم پیدا ہوئے، جس نے پناہ دی، جس نے پرورش کی اور ایک انسان ہونے کے ساتھ بلوچ بنایا، لیکن اب ریاست بلوچوں کو ان کی ثقافتی، تہذیبی، معاشی اور سماجی یادداشتوں کو منقطع کرنے کی پالیسیوں پر کاربند ہے۔ یہ پالیسیاں اس لیے اپنا رہا ہے تاکہ بلوچ ثقافت میں موجود مزاحمتی مادے کو منتشر کر سکے، کیونکہ جبری انخلاء کی مرکزی سوچ یہی ہے کہ بلوچوں کی باہمی مزاحمتی سوچ اور مشترکہ یادداشت و روایات کو جڑ سے اکھاڑ دے۔
جائزہ: جبری انخلاء کا خلاصہ
اب بلوچستان میں ایک بار پھر بڑے زور و شور سے جبری انخلاء شروع کیا جا رہا ہے، جہاں سردشت، شادی کور اور اس کے مضافات میں یہ عمل شروع کیا گیا ہے، وہیں قلات، نوشکی اور مستونگ میں بھی اس کی تیاری ہو رہی ہے۔ جیسا کہ اس پر بات ہوئی کہ یہ سیکیورٹی کے نام پر کیا جا رہا ہے، لیکن یہ سیکیورٹی سے زیادہ انسانی نفسیات سے جڑا ہوا ہے۔ کیونکہ زمین سے دستبرداری ایک تاریخی درد ہے جو نسل در نسل ہمیں جھنجھوڑتا رہے گا۔ غسان کنفانی کی تصنیف ”دھوپ میں کھڑے لوگ“ ہماری اس یاد کو تازہ کرتی ہے کہ زمین سے لاتعلقی ایک ایسے لاعلاج مرض میں مبتلا کرتی ہے کہ انسان زندہ ہو کر بھی کچھ نہیں کر پاتا۔ غسان کنفانی کی مثال آج بلوچ سرزمین پر نافذ ہوتی ہے، جہاں محض بلوچستان کی زمین ہوگی لیکن بلوچ نہیں ہوں گے۔ اسی لیے جنگ اس طرح کرو کہ جنگ کی تپش کو برداشت کر سکو اور زمین سے محبت کے لیے بزدلانہ موت سے دور رہ سکو۔ آج غلامی نے ہمیں مشترکہ درد کے تحت یکجا کیا ہے؛ اگر ہم اپنی یکجہتی کو مضبوط نہ کر سکے تو یہ ہمارے لیے ایک المیہ ثابت ہوگا۔
اپنے آباؤ اجداد کی جگہوں سے بے دخلی دراصل انسان سے اس کی اپنی زمین سے محبت ختم کرانے کا ایک وسیلہ ہے۔ جو انسان اپنی زمین سے دور ہو جائے، اس کی محبت مرکزیت کے بجائے منتشر ہو جاتی ہے۔ زمین سے بے دخلی محض جگہ کا تبدیل ہونا نہیں ہے، بلکہ اس کی سیاسی و معاشی وابستگی، نفسیاتی پہلو، تعلیمی نظام سمیت حساسیت اور احساسات کی تبدیلی بھی ہے۔ ایسی کئی مثالیں ہیں کہ ایک انسان جہاں سے نکلا ہو، وہ اب اس طرز سے ہٹ کر زندگی گزارنے کے طریقے اپناتا ہے؛ اس کی سیاسی و معاشی وابستگی اجتماع سے انفرادیت کی طرف آتی ہے، اس کے احساسات انفرادی ہو جاتے ہیں، کیونکہ وہ یہاں اجنبیت کو جنم دے کر یہ مان لیتا ہے کہ اب بس اسی اجنبیت میں زندگی گزارنی ہے۔ کئی لوگ تو زندگی بسر نہیں کر پاتے، وہ اس بے دخلی کو برداشت نہیں کر پاتے، وہ تعلیم اور تربیت کو کوسوں دور چھوڑ جاتے ہیں، اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ غلامانہ طرز زندگی اپناتے ہوئے اپنی قومی شناخت، زبان کی دوستی، تاریخی سچ اور ثقافتی وراثت سمیت اجتماعی حساسیت کو بھول جاتے ہیں اور انفرادی زندگی کو اپنانے کی راہ تلاش کرتے ہیں۔ جو ہمارے ہاں ہوتا رہا ہے کہ کئی لوگ یا تو قومی اپنائیت سے بیگانہ ہو گئے ہیں یا پھر اس سے الگ ہو جانا چاہتے ہیں۔
اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ جبری بے دخلی ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک قومی المیہ ہے جو نہ صرف بلوچستان میں دیکھا جا رہا ہے بلکہ دنیا میں جہاں کہیں بھی قبضہ گیری رہی ہے، چاہے فلسطین پر اسرائیل کا قبضہ ہو، کردستان پر ترکی کا، ویتنام پر امریکہ کا، الجزائر پر فرانس کا، یا افریقہ پر نوآبادیاتی قبضہ، ہر نوآبادیاتی طاقت نے یہی وتیرہ اپنایا ہے۔
بلوچ قوم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بلوچ ضدی اور انا پرست قوم ہیں؛ تو آئیے اس ضد اور انا کو عقل کے تابع کریں، تاکہ یہی بلوچ ضد اور انا ہمیں سرزمین چھوڑنے سے روکے۔ زمین کی مٹی کو بھی آج عالمی منڈیوں میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ آج اس زمین نے ہماری پرورش کر کے ہمیں توانا کیا اور یہاں ہمارے آباؤ اجداد کی قبریں ہیں؛ اس لیے ہم اپنے آباؤ اجداد کی قبروں کو چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ اس گل زمین نے صدیوں سے ہمارے بوجھ کو اپنے اندر سمو لیا ہے، تو آج اسی گل زمین کے لیے ہر بلوچ پاسبان بنے۔
ایک بلوچ قول کے مطابق مزاحمت لازمی ہے۔ مزاحمت اس لیے نہ کرو کہ تم جنگ کا خاتمہ کر سکو، بلکہ مزاحمت اس لیے کرو کہ آنے والی نسل کے لیے جنگ کم تر کر سکو۔ اگر ہم آنے والی نسلوں کے لیے واضح پیغام یا یادداشت محفوظ نہ کر سکے تو مستقبل میں یہ جنگ ان کے لیے مزاحمت تو کرے گی، لیکن ہماری حالت ضرور ایک سوالیہ نشان ہوگی۔ دشمن کوشش کرتا ہے کہ وہ ہر انسان کو عبرت کا نشانہ بنائے جو زمین کے لیے مزاحمت کر رہا ہے، تاکہ ان کے نام سے خوف کا ماحول پیدا کیا جا سکے۔ یہ عبرت کا نشان نہیں، بلکہ بلوچ کے لیے ایک اعزاز ہے کہ اس کے احساس زمین سے جڑے ہوئے ہیں۔ زمین کو چھوڑنا ایک درد بھری کہانی ہے، اس لیے ہمیں مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے ایسے فیصلے کرنے چاہئیں۔
جبری انخلاء کا تاریخی واقعہ 1970ء کی دہائی میں کوہلو، کاہان، ترتانی سے لے کر بولان میں مریوں تک لوگوں کو ان کی آبائی جگہوں سے نکالنے کا تھا۔ اس جبری انخلاء کا مقصد مہرگڑھ کے محافظ مریوں کو اپنی سرزمین سے نکالنا تھا تاکہ مریوں کے اندر مزاحمتی مادہ ختم کیا جا سکے۔ اس منتشر پالیسی کی وجہ سے آج مری اپنے وطن میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
اس کے علاوہ 1998 میں راسکوہ کے مقام پر ایٹمی دھماکے کے سبب جبری انخلاء کا عمل جاری رہا۔ یہ صرف ایٹمی دھماکے تک محدود نہ رہا بلکہ اس میں Enforced Displacement بھی شامل تھی یعنی ایک ہی وقت میں Ecological Genocide بھی تھا۔ دوسری طرف نسل کشی اور تیسری جانب ہمیں زمین کشی کی صورت دیکھنے کو ملتی ہے۔
1970 کے دور میں ایک اور ازیت ناک واقعہ افغان مہاجرین کو شال میں بسانے کی صورت میں ملا جہاں ہمیں باقاعدہ جبری انخلاء کی صورتحال پیدا نہ ہوئی لیکن بڑی ڈیموگرافک تبدیلی کی وجہ سے بلوچوں کی زمین ان کے لیے تنگ کر دی گئی اور خاص طور پر سریاب کی آبادی کو دربدر کیا گیا۔
ہم جبری انخلاء کو ہمیشہ جسمانی نگاہ سے دیکھتے ہیں مگر سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ انسانی روح کو بھی متاثر کرتی ہے۔ بعد ازاں جبری انخلاء کے بعد انسان صرف ایک لاش کی صورت میں زندہ رہ جاتا ہے۔ اس لیے ہمیں جبری انخلاء کو ہمیشہ Nation Death کی صورت میں دیکھنا ہوگا۔
اجتماعی سزا کا تعلق صرف ایک جہدکار کے رشتہ دار کو نقصان پہنچانے تک محدود نہیں بلکہ اجتماعی سزا کا معیار سرزمین سے تعلق رکھنے اور زمین سے محبت کی صورت میں ملتا ہے۔ سرزمینِ بلوچستان میں دیار کی مہر بلوچ عوام کو بھرپور مزاحمت کا حوصلہ دیتی ہے۔ یہ ایک فطری عنصر ہے کہ زمین سے جتنی مہر ہو اتنی ہی شدت سے مزاحمتی امید بیدار ہوتی ہے۔
جبری انخلاء کو محض ایک صورت میں دیکھنا اس ازیت ناک کیفیت کو سمجھنے کے لیے ناکافی ہے۔ مختلف صورتحال اس عنصر کی غمازی کرتی ہیں کہ بعض حالات جبری انخلاء کی صورت پیدا کرتے ہیں۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































