دالبندین میں چیک پوسٹ پر فائرنگ، 28 سالہ یاسین بلوچ جاں بحق۔ بی وائی سی

36

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جاری بیان کے مطابق 28 سالہ یاسین ولد محمد غوث جو پیشے کے اعتبار سے کسان تھے، دالبندین ظہور کالونی کے رہائشی تھے۔ انہیں 5 اکتوبر کو پاکستانی فوج نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔

بیان کے مطابق یاسین اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے۔ ان کے والدین پہلے ہی وفات پا چکے تھے اور یاسین اپنے خاندان کے واحد کفیل تھے۔ وہ اپنی بہنوں کی ذمہ داری اٹھائے ہوئے تھے کہ فوجی اہلکاروں نے ایک چیک پوسٹ سے گزرتے ہوئے ان پر فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں ان کے ساتھی سمی بھی زخمی ہوئے۔

بی وائی سی بیان کے مطابق یاسین اپنی بہنوں کے لیے واحد سہارا تھے۔ ان کا خاندان اپنی بقا کے لیے انہی پر انحصار کرتا تھا۔ ان کی ہلاکت کے بعد ان کی دو بہنیں اس بھائی سے محروم ہو گئیں جو ان کے گھر کی ذمہ داری اٹھائے ہوئے تھا۔

مزید کہا ہے کہ شہریوں کے خلاف طاقت کا مسلسل استعمال بلوچستان میں بگڑتی ہوئی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے، جہاں لوگ فورسز کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں نقل و حرکت کے دوران بھی تشدد کا سامنا کر رہے ہیں۔ چیک پوسٹیں سکیورٹی کے لیے قائم کی جاتی ہیں، لیکن بلوچ خاندانوں کے لیے یہ ایسی جگہیں بن چکی ہیں جہاں انہیں تذلیل، ہراسانی اور قتل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بی وائی سی نے کہا کہ فوجی طاقت کے بے لگام استعمال نے ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جس میں کوئی بھی بلوچ اپنے ہی گھر اور سرزمین پر خود کو محفوظ محسوس نہیں کر سکتا۔

بی وائی سی نے کہا ہے کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی برادری کو بلوچستان میں بڑھتے ہوئے تشدد کا نوٹس لینا چاہیے، ایک آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرنا چاہیے، اور بلوچستان میں ہونے والی مبینہ نسل کشی کے لیے پاکستان کو جواب دہ ٹھہرانا چاہیے۔