ماہرِ ماحولیات و ترقیاتی امور اور سابق نگراں صوبائی وزیر ڈاکٹر فیض محمد کاکڑ نے اسلام آباد میں The Black Hole میں بلوچستان کے حوالے سے منعقدہ نشست میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پڑھی لکھی بلوچ خواتین کا باغیوں کے ساتھ ملنا ان کے تعلیم یافتہ ہونے کی دلیل ہے۔ کوئی جاہل اس طرح ہتھیار نہیں اٹھا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ طاقت اور بندوق کے زور پر انہیں ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کسی کے لیے وہ دہشت گرد ہیں تو کسی کے لیے ہیرو ہیں۔
یاد رہے کہ بلوچ مسلح تحریک میں خواتین کی موجودگی کا سب سے نمایاں موڑ اپریل 2022 میں سامنے آیا، جب کراچی یونیورسٹی کے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے قریب ایک فدائی حملے میں شاری بلوچ نے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔
جبکہ رواں سال بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے اپنی ایک خاتون کمانڈر، شاہناز بلوچ، کو پہلی مرتبہ منظرِ عام پر متعارف کرایا، جسے تنظیم کی جانب سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔
22 ستمبر 2026 کو تربت میں ایک پاکستانی فوجی قافلے پر حملے کی خبر سامنے آئی، جس کے بعد بلوچستان لبریشن فرنٹ نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن (KAAD) نامی ایک نئے خواتین مسلح یونٹ کے قیام کا اعلان کیا۔
جبکہ بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے آپریشن ہیروف میں متعدد خواتین جنگجو اور فدائی بھی شریک تھے۔


















































