شبیر بلوچ کو دس سال تک جبری گمشدگی کا شکار بنانا پاکستانی جنگی جرائم ہیں۔ بی ایس او آزاد

12

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی ترجمان شولان بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچ طلباء رہنما اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے سابقہ ترجمان شبیر بلوچ کو 4 اکتوبر 2016 کو کیچ کے علاقے گورکوپ سے قابض پاکستانی سیکورٹی اداروں نے غیرقانونی طور پر گرفتار کرکے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا، آج ان کی جبری گمشدگی کو دس سال مکمل ہوچکے ہیں مگر ان کے بارے میں تاحال کوئی معلومات سامنے نہیں لائے گئے۔ وہ ایک پرامن سیاسی رہنما ہے جو گورکوپ میں اپنے رشتہ داروں کے گھر پر تھے کہ انہیں ان کے اہل خانہ کے سامنے سیکورٹی اداروں نے جبری گمشدگی کا شکار بنایا جو تمام انسانی اور سیاسی حقوق کی پامالی ہے۔

ترجمان نے کہا ہے کہ شبیر بلوچ ایک پرامن سیاسی طلباء رہنما ہے اور بلوچستان میں سیاسی سرگرمیوں کا حصہ ہوکر اپنی بنیادی اور سیاسی حق، آزادی کے لیے جدوجہد کررہے تھے۔ پرامن اور سیاسی طریقے سے اپنی آزادی کے لیے جدوجہد کرنا ایک جائزعمل ہے جس کا حق پیدائشی ہر انسان کو ملا ہے۔ جبکہ اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی ادارے اپنے عالمی قوانین میں واضح کرتے ہیں کہ ہر قوم کو آزادی کا حق ہے اور اپنی آزادی کے لیے عالمی قوانین کے تحت سیاسی جدوجہد کرنا ہر فرد کی بنیادی سیاسی حق ہے۔ انہی عالمی قوانین پر عمل پیرا ہوکر تنظیم مقبوضہ بلوچستان میں پاکستانی قبضے کے خلاف سیاسی جدوجہد کررہا ہے۔

ترجمان کے مطابق بی ایس او آزاد ایک پرامن سیاسی تنظیم ہونےکے باوجود ہمیشہ قابض پاکستانی ریاست کی جانب سے جبر کا نشانا بنتا آیا ہے جہاں تنظیم کے کارکنان سمیت مرکزی رہنما جبری گمشدگی کا شکار ہوئے ہیں۔ تنظیم کے کئی کارکنان اور رہنما سیاسی جدوجہد کے پاداش میں پاکستانی ریاست نے جبری گمشدگی کے بعد ان کے مسخ شدہ لاشیں ویرانوں میں پھینکے ہیں۔ جبکہ سابقہ چیئرپرسن زاہد بلوچ، وائس چیئرپرسن زاکر مجید، جوائنٹ ڈپٹی جنرل سیکریٹری اسد بلوچ سمیت انفارمیشن سکریٹری شبیر بلوچ کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنا کر ان کو سالوں سے نامعلوم ٹارچر سیلوں میں رکھا گیا ہے۔ یہ تمام تِر غیر قانونی اور جابرانہ اعمال تنظیم سمیت بلوچ قومی تحریک کو کمزور کرنے کے نوآدیادتی ہتھکنڈے ہیں تاکہ مقبوضہ بلوچستان میں جائز عوامی قوتوں کو ختم کرنے قابض اپنا قبضہ برقرار رکھ سکے۔

مزید کہا ہے کہ شبیر بلوچ کی باحفاظت بازیابی کے لیے تنظیم سمیت ان کی اہل خانہ دس سالوں سے احتجاج، دھرنوں، عالمی قانونی طریقہ کار سمیت دیگر سیاسی طریقوں سے آواز اٹھاتے آرہے ہیں۔ مگر اہل خانہ کو انصاف ملنے کے بجائے ریاستی اداروں کے جانب سے انہیں دھمکیوں اور ہراسانی کا سامنا رہا ہے۔ پرامن سیاسی جدوجہد کے پاداش میں ان کی جبری گمشدگی پر تنظیم ہمیشہ قابض کو جواب دہ کرے گا۔

بیان کے آخر میں ترجمان نے کہا ہے کہ دنیا میں جہاں بھی سیاسی جدوجہد ہوتے ہیں تو انہیں تسلیم کرکے ان سے عالمی قوانین کے تحت برتاؤ کیا جاتا ہے مگر پاکستانی ریاست تمام تِر عالمی قوانین کو بالائے طاق رکھ کر بلوچستان میں سیاسی کارکنان کی جبری گمشدگی اور نامعلوم ٹارچر سیلوں میں قید رکھنے میں ملوث ہے۔ تنظیم کے سابقہ ترجمان شبیر بلوچ کو دس سال تک جبری گمشدگی کا شکار بنانا پاکستانی جنگی جرائم ہیں۔ عالمی اداروں کو بلامشروط قابض پاکستانی ریاست کو جوبدہ کرکے شبیر بلوچ سمیت تمام جبری گمشدہ بلوچ افراد کی بازیابی کے لیے اپنی زمہ داری ادا کرنا چاہیے۔