بلوچستان: مختلف علاقوں میں تجارتی گاڑیاں تحویل میں لینے، پل تباہ کرنے اور فورسز پر حملوں کے واقعات

33

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تجارتی گاڑیوں کو تحویل میں لینے، پل کو بھاری مشینری سے تباہ کرنے اور پاکستانی فورسز پر حملوں کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق چاغی، کوئٹہ-تفتان تجارتی روٹ پر قافلے میں شامل دو مال بردار تجارتی گاڑیوں کو چہتر کے علاقے میں مسلح افراد نے اپنی تحویل میں لے لیا۔ تاہم کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

دوسری جانب قلات کے علاقے منگچر میں سورو کے مقام پر پاکستانی فورسز کے پیدل اہلکاروں پر مسلح حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں فورسز کو جانی نقصان اٹھانے کی اطلاعات ہیں۔

دریں اثنا، بیسمہ-خاران روٹ پر دورگ پل کو بھاری مشینری کے ذریعے توڑ دیا گیا، جس کے باعث ہزاروں مال بردار اور مسافر گاڑیاں پھنس گئی ہیں۔

گوادر کی تحصیل پسنی سے موصولہ اطلاعات کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے ڈوسی کے مقام پر ڈیوٹی کے دوران کوسٹل ہائی وے پولیس کے اہلکار فیصل ستار کو مبینہ طور پر اغوا کر لیا۔

ذرائع کے مطابق یہ واقعہ گزشتہ شام پیش آیا، جہاں دو کرولا گاڑیوں میں سوار مسلح افراد نے اہلکار سے موبائل فون لینے اور چیکنگ کرنے کے بعد اسے اپنے ساتھ لے گئے۔ فیصل ستار کا تعلق پسنی سے بتایا جاتا ہے۔

ان حملوں کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے۔ تاہم بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے کوئٹہ-تفتان روٹ سمیت دیگر اہم شاہراہوں کو اپنے کنٹرول میں لینے کا اعلان کیا جا چکا ہے، جو تاحال جاری ہے۔