بلیدہ میں اسکول پر فائرنگ، مکران بھر کے نجی تعلیمی ادارے 6 اکتوبر کو بند رکھنے کا اعلان

26

پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن کیچ اور تمام اسکولوں کے سربراہان کا واقعے پر پریس کانفرنس، تعلیمی اداروں کے تحفظ اور ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن کیچ کے رہنماؤں اور اسکولوں کے سربراہان نے تربت پریس کلب میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلیدہ میناز میں رژن اسکول کے سی سی ٹی وی کیمروں پر فائرنگ اور انہیں نقصان پہنچانے کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے 6 اکتوبر کو مکران بھر کے تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رژن اسکول بلیدہ کے ڈائریکٹر ظہور احمد، ایسوسی ایشن کے صدر سدھیر لقمان، نائب صدر حاجی کریم بخش، جنرل سیکرٹری مشتاق محمود. ڈیلٹا اسکول کے سربراہ مراد اسماعیل، زاھد حسین، محراب تاج، یار محمد ساکم، اسد بلیدی، صدام بلوچ، یاسر دلمراد، باقر علی، عبدالخالق و دیگر نے خبردار کیا کہ تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے کے واقعات نہ روکے گئے تو احتجاج کا دائرہ بلوچستان بھر میں پھیلایا جائے گا۔

رژن اسکول بلیدہ کے ڈائریکٹر ظہور احمد نے پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن کیچ کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ جمعہ کے روز بلیدہ کے علاقے میناز میں مبینہ طور پر آٹھ مسلح نقاب پوش افراد اسکول کے گیٹ سے پھلانگ کر اندر داخل ہوئے اور فائرنگ کرکے وہاں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کو نقصان پہنچایا، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

انہوں نے کہا کہ بلیدہ میں تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں، اس سے قبل ساچ اسکول، گلبانگ اسکول، سنج اسکول میناز اور کلکشان اسکول کے ساتھ بھی اس نوعیت کے واقعات پیش آچکے ہیں۔ ان کے بقول، تعلیمی اداروں کو مسلسل نشانہ بنانا محض اتفاق نہیں بلکہ ایک تشویش ناک سلسلہ ہے، جس کا مقصد علم و تعلیم کی سرگرمیوں کو متاثر کرنا ہے۔

پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے کہا کہ مکران بھر میں تقریباً 40 فیصد طلبہ و طالبات نجی تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم ہیں۔ ایسے واقعات سے نہ صرف طلبہ کی تعلیم متاثر ہوتی ہے بلکہ والدین، اساتذہ اور مقامی آبادی بھی ذہنی اذیت اور خوف کا شکار ہوتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ اسکول مالکان ایسے ہتھکنڈوں کے ذریعے علم و آگہی کے فروغ کی جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا نوٹس لے کر تعلیمی اداروں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور واقعے میں ملوث عناصر کی نشاندہی کرکے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے مشترکہ طور پر اعلان کیا کہ واقعے کے خلاف 6 اکتوبر کو مکران بھر کے تعلیمی ادارے بند رکھے جائیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ نہ روکا گیا تو احتجاج کا دائرہ صوبے بھر میں وسیع کیا جائے گا۔

رہنماؤں نے کہا کہ یہ معاملہ کسی ایک اسکول تک محدود نہیں بلکہ مکران کے تعلیمی اداروں اور طلبہ کے مستقبل کا مسئلہ ہے، جس پر متعلقہ حکام کو فوری توجہ دینی چاہیے۔