شہید کاکا رشید اور خیرو بلوچ، اجتماعی شعور کے دو استعارے
تحریر: حمّل بلوچ ( کمالان)
دی بلوچستان پوسٹ
بولان بلوچ اجتماعی شعور میں محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں، بلکہ ایک تاریخی احساس، ایک تہذیبی استعارہ اور ایک زندہ یادداشت کی حیثیت رکھتا ہے۔ کبھی یہ جدوجہد کی علامت بن کر سامنے آتا ہے، کبھی بلوچ شعرا کے ہاں ’’بلوچی دفتر‘‘ بن جاتا ہے، اور کبھی تاریخ ساز سرزمینوں سے اس کا تقابل کرتے ہوئے اسے ایک منفرد مقام دیا جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ بولان کی معنویت ان تمام تشبیہوں، تحریروں اور تاریخی حوالوں سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اسے محض پڑھا نہیں جا سکتا، اسے محسوس کرنا پڑتا ہے۔
بولان کو محسوس کرنے کے لیے اس کی سرد، یخ بستہ ہواؤں میں کھلے آسمان کے نیچے کچھ دیر ٹھہرنا پڑتا ہے۔ وہاں پہاڑ صرف پتھر نہیں رہتے، ہوائیں صرف ہوائیں نہیں رہتیں اور خاموشی صرف خاموشی نہیں رہتی؛ سب کچھ ایک اجتماعی حافظے میں تبدیل ہوتا محسوس ہوتا ہے۔ انہی وادیوں میں گزرے ہوئے لوگوں کے قدموں کے نشان، ان کی جدوجہد کی کہانیاں اور ان کے ادھورے خواب ایک ایسی زبان اختیار کرتے ہیں جسے الفاظ سے زیادہ احساس سمجھتا ہے۔
بولان کی ایک اور خاصیت یہ ہے کہ یہ شہیدوں کی یاد، بہادر سپوتوں کی پناہ گاہ اور کئی ایسے خاندانوں کی سرزمین رہا ہے جن کی تاریخ اس خطے کی اجتماعی تاریخ سے جڑی ہوئی ہے۔ انہی ناموں میں کاکا رشید اور خیرو بلوچ بھی شامل ہیں۔ دو بھائی، جن کی داستان محض دو افراد کی داستان نہیں بلکہ ایک ایسے عہد کی تصویر ہے جس میں ذاتی دکھ اور اجتماعی المیہ ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے ہیں۔
شاید بولان کی ہواؤں نے ہی ان دونوں بھائیوں کے اندر وہ سوال پیدا کیے ہوں گے جو انسان کو اپنی ذات سے آگے دیکھنے پر مجبور کرتے ہیں۔ انسان جب اپنے دکھ کو صرف ذاتی دکھ نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے اپنے عہد کے اجتماعی تجربے کا حصہ سمجھنے لگتا ہے تو اس کی زندگی کے معنی بھی بدلنے لگتے ہیں۔ کاکا رشید اور خیرو کی داستان کو اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔
ماضی کی طرف پلٹ کر دیکھیں تو 2008 میں بلوچ طلبہ کے درمیان بلند ہونے والے ’’نہ جھکنے، نہ بکنے والے‘‘ جیسے نعروں کی معنویت آج زیادہ گہری محسوس ہوتی ہے۔ بولان کے علاقے سانگان میں پیش آنے والے واقعات، گھروں کی تباہی، خاندانوں کے دکھ اور عزیزوں کی ہلاکتیں محض چند واقعات نہیں تھے؛ وہ ایسے تجربات تھے جو متاثرہ لوگوں کے اجتماعی شعور میں اپنی جگہ بناتے گئے۔
ایسے حالات میں انسان کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے دکھ کے ساتھ کیا کرے؟ کیا اسے صرف ذاتی المیے کی صورت میں اپنے اندر دفن کر دے، یا اسے اپنے عہد کو سمجھنے اور اس کے خلاف آواز اٹھانے کا ذریعہ بنائے؟ تاریخ بتاتی ہے کہ ظلم کا تجربہ ہمیشہ صرف خاموشی پیدا نہیں کرتا؛ بعض اوقات وہ انسان کے اندر سوال، شعور اور مزاحمت کی ایک نئی کیفیت بھی پیدا کرتا ہے۔
کاکا رشید اور خیرو کی داستان اسی انسانی کیفیت کو سمجھنے کا ایک موقع فراہم کرتی ہے۔ اپنے خاندان کے دکھ، اپنے گاؤں کی تباہی اور مسلسل بے یقینی کے باوجود ان دونوں نے اپنی زندگی کا راستہ تبدیل نہیں کیا۔ 2014 اور 2016 میں، یکے بعد دیگرے، دونوں بلوچ تنظیمی جدوجہد کا حصہ بنے اور بالآخر ایک ہی محاذ پر اپنی زندگیوں کا اختتام کیا۔
ایک ہی ماں کے دو بیٹوں کا یوں تاریخ کا حصہ بن جانا صرف ایک جذباتی واقعہ نہیں؛ یہ اس بنیادی سوال کو بھی جنم دیتا ہے کہ انسان اپنی ذات اور اپنے اجتماعی تصورِ زندگی کے درمیان حد کہاں قائم کرتا ہے۔ جب کوئی شخص اپنے وجود کو کسی بڑے مقصد سے وابستہ کر دیتا ہے تو اس کے لیے ذاتی خوشی، دکھ، خوف اور نقصان کے معنی بھی بدل جاتے ہیں۔ لیکن اس تبدیلی کی انسانی قیمت ہمیشہ بہت بھاری ہوتی ہے، اور اس قیمت کو سب سے زیادہ وہ لوگ ادا کرتے ہیں جو پیچھے رہ جاتے ہیں۔
ہم اکثر شہید ہونے والے شخص کی داستان بیان کرتے ہیں، اس کی زندگی، اس کے نظریات اور اس کے سفر کو الفاظ دیتے ہیں؛ مگر اس ماں کے اندر اترنے کی کوشش کم ہی کرتے ہیں جس کے لیے تاریخ کے دو نام دراصل اس کے دو بیٹے ہوتے ہیں۔ جنہیں دنیا کسی مقصد، کسی تحریک یا کسی عہد کے حوالے سے یاد کرتی ہے، وہ ماں کے لیے آج بھی وہی بچے ہوتے ہیں جنہیں اس نے اپنی آغوش میں پالا تھا۔
ایک ماں کے لیے دو بیٹوں کا ایک ساتھ دنیا سے چلے جانا کسی فلسفے سے کم نہیں، بلکہ شاید ہر فلسفے سے بڑا سوال ہے۔ اس کے سامنے قربانی، جدوجہد، تاریخ اور نظریہ سب اپنی جگہ موجود ہوتے ہیں، مگر ان سب کے درمیان ماں کا دکھ اپنی ایک الگ زبان رکھتا ہے؛ ایسی زبان جسے نہ سیاسی نعرہ مکمل طور پر بیان کر سکتا ہے، نہ شاعری، نہ تاریخ۔
شاید اسی لیے شہیدوں کی فکر اور قربانی کو الفاظ میں بیان کرنا نسبتاً آسان ہے، مگر اس فکر کی انسانی قیمت کو محسوس کرنا کہیں زیادہ مشکل۔ صفحات بھر دینا آسان ہے، مگر اس راستے پر چلنے والوں کے خوف، تنہائی، امید، محرومی اور ان کے پیچھے رہ جانے والوں کے دکھ کو سمجھنا آسان نہیں۔
کاکا رشید اور خیرو بلوچ کی داستان بھی اسی انسانی پیچیدگی کا ایک باب ہے۔ یہ صرف دو بھائیوں کے ایک ساتھ تاریخ کا حصہ بننے کی داستان نہیں؛ یہ اس سوال کی داستان بھی ہے کہ انسان اپنے عہد کے دکھ کو کس طرح اپنے وجود کا حصہ بنا لیتا ہے، اور پھر اس کے فیصلوں کی قیمت صرف وہ خود نہیں بلکہ اس کا پورا خاندان ادا کرتا ہے۔
ایک ہی ماں کے دو لختِ جگر، دو الگ وقتوں میں اپنے راستے پر نکلے، مگر انجام میں ایک ہی تاریخ کا حصہ بن گئے۔ ان کے نام اب صرف دو افراد کے نام نہیں رہے؛ وہ ایک ایسے اجتماعی حافظے کا حصہ ہیں جس میں بولان کی وادیاں، پہاڑ، خاموش ہوائیں، اجڑے ہوئے گھر اور ایک ماں کی خاموش آنکھیں سب ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔
شاید یہی تاریخ کا سب سے پیچیدہ پہلو ہے کہ انسان چلا جاتا ہے، مگر اس کے جانے کے بعد اس کے فیصلے، اس کے سوال اور اس سے وابستہ لوگوں کے دکھ باقی رہتے ہیں۔ وقت گزر جاتا ہے، مگر بعض واقعات وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتے؛ وہ اجتماعی شعور میں نئی معنویت کے ساتھ زندہ رہتے ہیں۔
اور بولان شاید اسی لیے صرف ایک وادی نہیں، ایک حافظہ ہے، ایک سوال ہے۔ ایک ایسی خاموش کتاب ہے جس کے بعض صفحات خون، بعض آنسو اور بعض خوابوں سے لکھے گئے ہیں جس میں کاکا رشید اور خیرو عظیم کرداروں کی صورت میں ابدی اجتماعی شعور کا حصہ ہیں جنہیں انسان تو بھول سکتے ہیں مگر تاریخ کبھی نہیں بھول پائے گا۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































