شمعِ لال جان، روشنی پھیلاتا رہے گا
تحریر: مہران بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
آج ایک ایسے دوست کے بارے میں لکھنے بیٹھا ہوں جس کے بارے میں کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ یوں لکھنا پڑے گا۔ قلم ہاتھ میں ہے، یادیں سامنے ہیں، مگر لفظ ہیں کہ ساتھ دینے سے انکاری ہیں۔ شاید کچھ رشتے لفظوں سے بڑے ہوتے ہیں اور کچھ جدائیاں ایسی کہ جنہیں لکھنے کے لیے زبان نہیں، حوصلہ چاہیے۔
کہتے ہیں درد کو لفظوں میں ڈھال دینے سے دل کا بوجھ کچھ ہلکا ہوجاتا ہے، مگر آج مجھے یہ بات سچ نہیں لگتی۔ آج ہر لفظ لکھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میں اپنے زخم کو خود ہی دوبارہ چھیڑ رہا ہوں۔ بعض درد بیان کرنا مشکل نہیں ہوتے، انہیں بیان کرنا خود درد سے زیادہ اذیت ناک ہوتا ہے۔
آج میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ بلوچستان کی وادیوں میں سفر کر رہا تھا۔ پہاڑ، وادیاں اور وہی مانوس راستے ہمارے ساتھ تھے، مگر آج کا سفر باقی سفروں جیسا نہیں لگ رہا تھا۔ نیٹ ورک نہیں تھا، ا اور بلوچستان میں آج کیا گزر رہی تھی، اس کی کوئی خبر ہم تک نہیں پہنچ رہی تھی۔ اپنا کام مکمل کرکے ہم اوتاق کی طرف لوٹ رہے تھے۔
سفر تو زندگی کا معمول بن چکے ہیں، مگر اس روز سفر شروع ہوتے ہی دل پر ایک انجانی سی بے چینی اتر آئی تھی۔ وجہ معلوم نہیں تھی۔ بس اندر کہیں ایک عجیب سا احساس مسلسل دستک دے رہا تھا جیسے کچھ ہونے والا ہو، یا شاید کچھ ایسا ہوچکا ہو جس کی خبر ابھی ہمیں نہ ملی ہو
راستے میں کچھ دور گئے تو ایک چھوٹا سا علاقہ آیا۔ دوستوں میں سے کسی نے کہا، ”یہاں نیٹ ورک آتا ہے۔“ یہ سنتے ہی میں نے جلدی جلدی موبائل نکالا۔ دل پہلے ہی بے چین تھا۔ جلدی سے ڈیٹا آن کیا تاکہ اوتاک کے دوستوں سے رابطہ کروں اور باقی اوتاک کے سنگتوں سمیت حالات سے باخبر ہوتا چلوں۔
مجھے کیا معلوم تھا کہ نیٹ ورک کے وہ چند سگنل میرے لیے ایک ایسی خبر لے کر کھڑے ہیں، جس کے بعد یہ سفر، یہ دن اور شاید زندگی کی بہت سی یادیں پہلے جیسی نہیں رہیں گی۔
ڈیٹا آن ہوتے ہی دیکھا کہ ایک دوست کے کئی پیغامات اور زیادہ کالز آئی ہوئی تھیں۔ سب سے پہلے اسی کی چیٹ کھولی۔ اس نے ایک خبر بھیجی تھی جس میں دو دوستوں کی شہادت کی اطلاع تھی۔ ساتھ ایک تصویر تھی، جس میں دونوں دوستوں کے بے جان جسم دکھائی دے رہے تھے۔
تصویر کھولتے ہی میری آنکھیں نم ہوگئیں اور بے اختیار ہونٹوں پر صرف دو الفاظ آئے: ”اڑے لعلو!“
وہ چہرہ جو ہر وقت میری یادوں اور خیالوں میں رہتا تھا، آج تصویر میں میرے سامنے تھا۔ چراغ جیسا وہ چہرہ آج بھی روشن محسوس ہو رہا تھا۔ اس کے جسم پر موجود زخم اس آخری لمحے کی سختی کی گواہی دے رہے تھے۔
فدائی سربلند کا رشتہ دار، ساربان کا ہم سفر، سنگتوں کی جان اور میرا لختِ جگر، لعل خان، آج ہم سے جدا ہوگیا۔ لعل نے بہت کم عمر اور بہت کم وقت میں اپنے نظریے, اپنی محنت و شفقت سے اپنے وطن سے وابستگی کے باعث اپنے ساتھیوں کے درمیان ایک پہچان بنائی۔ آزادی کی اس جنگ میں اس نے بہت ہی کم وقت میں خود کو ثابت کیا پھر ایک ڈاکٹر سے ایک کمانڈ بنا،
لال خان کی کہانی محض چند تاریخوں، مقامات اور واقعات کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسے تعلیم یافتہ نوجوان کی داستان ہے جس نے اپنے نظریات اور فیصلوں کی قیمت اپنی پوری زندگی سے ادا کی۔ جو مشکل حالات میں بھی اپنے اختیار کیے ہوئے راستے پر قائم رہا۔ پروم کی گلیوں سے بولان میڈیکل کالج کے تعلیمی کمروں اور پھر بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں تک، لال خان کا سفر بھی اب ایک ایسی ہی یاد بن چکا ہے
آج میرے پاس اس کے لیے بہت کچھ لکھنے کو ہے، مگر شاید کچھ جدائیاں ایسی ہوتی ہیں جن کے سامنے الفاظ واقعی ہار جاتے ہیں۔
کچھ لوگ زندگی سے چلے جاتے ہیں، مگر یادوں سے نہیں جاتے۔ ان کی آواز، ان کی ہنسی، ان کے ساتھ گزارے ہوئے لمحے اور ان کا چہرہ انسان کے اندر کہیں ہمیشہ کے لیے محفوظ رہ جاتا ہے۔
لعل، تمہاری خبر مجھے ایک سفر کے درمیان ملی تھی، مگر تمہاری یاد کا سفر شاید کبھی ختم نہ ہو۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































