کوئٹہ پریس کلب کے سامنے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا احتجاجی کیمپ 6351ویں روز بھی جاری رہا۔
اس دوران منظور بلوچ، بجار خان اور سوریش بگٹی نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کرکے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا۔
اس موقع پر وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جبری گمشدگیاں اور لاپتہ افراد کا ماورائے عدالت قتل آئینِ پاکستان، ملکی قوانین اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، لاپتہ افراد کو ماورائے عدالت کارروائیوں کا نشانہ بنانے کے بجائے قانون کے مطابق عدالتوں میں پیش کیا جائے اور تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے۔
دریں اثنا، بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر سے پاکستانی فورسز نے دشت شولیگ کے رہائشی نوجوان اکرم بلوچ ولد حاجی مراد محمد کو حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کردیا۔















































