بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رکن صوبائی اسمبلی فضل قادر مندوخیل نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان سے متصل پاکستانی علاقوں میں ہزاروں سابق افغان فوجی لائے گئے ہیں، تاہم صوبائی حکومت نے اس دعوے کے ثبوت طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے کوئی مصدقہ معلومات یا شواہد موجود نہیں۔
ضلع ژوب سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی فضل قادر مندوخیل نے امن و امان سے متعلق ایک قرار داد پر بحث کے دوران یہ دعویٰ کیا۔ مذکورہ قرار داد عوامی نیشنل پارٹی کے رکن اسمبلی انجینیئر زمراک خان اچکزئی نے پیش کی تھی، جس میں بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔
بحث میں حصہ لیتے ہوئے فضل قادر مندوخیل نے صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر تشویش ظاہر کی اور دعویٰ کیا کہ سابق افغان صدر اشرف غنی کے دور کے ہزاروں افغان فوجی ان کے علاقے میں لائے گئے ہیں۔ انھوں نے حکومت سے سوال کیا کہ ان افراد کو وہاں کیوں منتقل کیا گیا ہے۔
قرارداد پر حکومت اور اپوزیشن کے اراکین نے اظہار خیال کیا، تاہم اجلاس کے دوران صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے اس دعوے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
بعد ازاں اسمبلی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ اگر کسی کے پاس سابق افغان فوجیوں کی موجودگی سے متعلق معلومات ہیں تو انھیں اس کے شواہد بھی پیش کرنے چاہییں۔
خیال رہے بلوچستان میں سابق فورسز کی بڑی تعداد میں موجودگی اور انہیں مسلح گروہوں کی شکل میں منظم کرنے کے دعوؤں میں اضافہ ہوا ہے۔
گذشتہ دنوں ایران کے نیم سرکاری میڈیا ادارہ تسنیم نیوز نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ پاکستان کے فوجی اور انٹیلی جینس ادارے بلوچستان میں بلوچ علیحدگی پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے حکومت کی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کو استعمال کرتے ہیں، اور افغانستان کے سابق سکیورٹی اہلکاروں کی ایک تعداد بھی ان گروہوں میں شامل ہو چکی ہے۔
چھ اگست کو شائع ہونے والی اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بلوچستان میں نام نہاد “لشکر” (ڈیتھ اسکواڈز) پاکستان کے سکیورٹی اداروں کی حمایت سے سرگرم ہیں اور فوج، سرحدی فورسز اور ملک کے انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ مل کر سکیورٹی آپریشنز اور شورش سے نمٹنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ گروہ پراکسی فورسز کے طور پر کام کرتے ہیں اور ریاستی ڈھانچے میں باضابطہ طور پر شامل ہوئے بغیر پاکستان کی بعض سکیورٹی کارروائیوں میں حصہ لیتے ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنماء ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان کے متعدد علاقوں کے مقامی لوگوں نے پاکستانی فوجی بربریت میں ایسے افراد کو دیکھا ہے جو سابق افغان فوج سے تعلق رکھتے تھے اور اب پاکستانی فورسز کے ساتھ سرگرم ہیں۔ زہری سمیت بعض علاقوں میں ہونے والی فوجی بربریت میں بھی سابق افغان فوج کے اہلکار باقاعدہ شامل تھے۔ اسی طرح مستونگ کے عام عوام شکایت کر رہے ہیں کہ افغان فوج کے سابق اہلکاروں نے پاکستانی فوج کی آشیرباد سے ایک اسکول پر قبضہ کیا ہے اور وہاں اپنا کیمپ قائم کیا ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ نے کہا کہ یہ عمل بلوچ عوام میں شدید نفرت، غم اور تشویش پیدا کر رہی ہیں۔



















































