آٹھ سال سے ایک دروازہ کھلنے کا انتظار
تحریر: ارشد بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
آج آٹھ سال گزر گئے ہیں، مگر آصف بلوچ اور رشید بلوچ کے گھروں میں وقت جیسے وہیں رک گیا ہے۔ آٹھ سال سے ان کے خاندان اسی امید کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں کہ شاید کسی دن دروازے پر دستک ہو اور ان کے بیٹے واپس آ جائیں۔
کہتے ہیں وقت بڑے سے بڑا زخم بھر دیتا ہے، مگر کچھ انتظار ایسے ہوتے ہیں جنہیں وقت بھی ختم نہیں کر پاتا۔ ہر صبح جب سورج طلوع ہوتا ہوگا، تو شاید ان کی ماؤں کے دل میں ایک نئی امید جنم لیتی ہوگی:
“شاید آج میرے بیٹے واپس آ جائیں…
پورا دن اسی امید میں گزر جاتا ہوگا۔ پھر شام ہوتی ہے، سورج غروب ہو جاتا ہے، مگر دروازہ نہیں کھلتا۔ امید اگلی صبح کے لیے پھر زندہ رہتی ہے۔ مگر ذرا ایک لمحے کے لیے اُس شخص کے بارے میں سوچیں جو اپنی جوان زندگی سے دور، ایک بند جگہ میں بیٹھا ہو اور اسے اپنے گھر کی یاد آتی ہو۔
وہ شاید آنکھیں بند کرکے اپنے گھر کا تصور کرتا ہو۔
ماں کی آواز یاد کرتا ہو۔
گھر کے صحن کو یاد کرتا ہو۔
اپنوں کے ساتھ بیٹھنے کے وہ معمولی سے لمحے یاد کرتا ہو جو کبھی معمولی لگتے تھے، مگر آج شاید سب سے قیمتی محسوس ہوتے ہوں۔
شاید وہ سوچتا ہو:
“امی اس وقت کہاں بیٹھی ہوں گی؟
کیا وہ اب بھی میرا انتظار کرتی ہوں گی؟
کیا میرے گھر والے آج بھی دروازے کی طرف دیکھتے ہوں گے؟
کیا میرے چھوٹے بہن بھائی مجھے یاد کرتے ہوں گے؟”
اور شاید سب سے زیادہ تکلیف دہ خیال یہ ہو:
“میرے گھر میں آج بھی میری جگہ خالی ہوگی، مگر میں وہاں نہیں ہوں گا۔
انسان جب اپنے گھر سے دور ہوتا ہے تو اسے گھر کی بڑی بڑی چیزیں نہیں، بلکہ چھوٹی چھوٹی باتیں یاد آتی ہیں۔ ماں کا ایک بار آواز دینا، گھر میں اپنوں کا شور، کسی کا پاس بیٹھنا، کھانے کی خوشبو، شام کا وقت—وہ سب لمحے جن کی قدر شاید اُس وقت محسوس نہیں ہوتی۔
اور دوسری طرف ایک ماں ہے جو شاید آج بھی ہر آہٹ پر چونک جاتی ہو۔
“شاید میرا بیٹا آیا ہے…
پھر آہٹ گزر جاتی ہے۔
دروازہ ویسا ہی بند رہتا ہے۔
اور ماں اپنے دل کو پھر یہی کہہ کر سمجھاتی ہے:
“اللہ کرے کل آ جائے…
ایک دن، دو دن، ایک مہینہ، ایک سال…
اور پھر آٹھ سال۔
آٹھ سال صرف وقت نہیں ہوتے۔
یہ ایک ماں کی دعاؤں کے آٹھ سال ہوتے ہیں، ایک خاندان کی امید کے آٹھ سال ہوتے ہیں، اور ایک ایسے انتظار کے آٹھ سال ہوتے ہیں جس کی کوئی آخری تاریخ معلوم نہیں۔
کچھ مائیں اپنے بیٹوں کی واپسی کا انتظار کرتے کرتے بوڑھی ہو جاتی ہیں، مگر اُن کی آنکھوں میں اپنے بیٹے کے لئے امید کبھی بوڑھی نہیں ہوتی۔
سورج ہر روز طلوع ہوتا ہے، امید بھی اس کے ساتھ طلوع ہوتی ہے؛ سورج ہر روز غروب ہوتا ہے، مگر انتظار ختم نہیں ہوتا۔ آٹھ سال گزر گئے، مگر ماؤں کی آنکھوں میں وہی سوال آج بھی زندہ ہے: “میرے بیٹے کب واپس آئیں گے؟؟
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































