جب ایک بہن انصاف ڈھونڈتے ڈھونڈتے انصاف کے جنازے تک پہنچی ۔ سائرہ بلوچ

8

جب ایک بہن انصاف ڈھونڈتے ڈھونڈتے انصاف کے جنازے تک پہنچی

تحریر: سائرہ بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

درد آخر ہے کیا؟ اسے کیسے ناپا جاتا ہے؟ کیا دنیا میں کوئی ایسا پیمانہ ہے جو بتا سکے کہ کسی انسان کے دل میں اٹھنے والی اذیت کی شدت کتنی ہے؟ کیا کوئی ترازو ہے جو ایک بے بس بہن کے آٹھ سالہ انتظار، آنکھوں میں ٹھہری نمی، دل میں دبی چیخوں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی ہوئی بے بسی کو تول سکے؟

ایک بہن جو گزشتہ آٹھ برسوں سے انہی سوالوں کے جواب ڈھونڈتے ہوئے در بہ در بھٹک رہی ہے۔ کبھی کسی دروازے پر امید لے کر دستک دیتی ہے، کبھی کسی چہرے میں مدد کی کرن تلاش کرتی ہے، کبھی کسی لفظ کو سہارا سمجھ کر اپنے ٹوٹتے حوصلے کو جوڑنے کی کوشش کرتی ہے۔

وہ صرف ایک امید کے سہارے زندہ ہے کہ شاید کسی دن یہ درد کم ہو جائے گا۔ شاید کسی دن وہ دروازہ کھلے گا۔ شاید کسی دن اس انتظار کا اختتام ہوگا۔ مگر وقت گزرتا گیا، سال بیتتے گئے، اور درد کم ہونے کے بجائے ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید گہرا ہوتا گیا۔ امید، جو کبھی دل میں چراغ کی طرح جلتی تھی، اب آہستہ آہستہ مدھم پڑ رہی ہے۔ اور سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ انسان امید کے ختم ہونے کا درد بھی سہتا ہے اور اس امید کے ساتھ زندہ رہنے کی اذیت بھی۔

آنکھیں آج بھی اسی دروازے پر ٹکی ہوئی ہیں کہ شاید وہ کھل جائے… شاید کوئی آئے اور کہے کہ اب مزید انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ شاید کوئی اس درد کو سمجھ لے جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ شاید کوئی اس بے بسی کو محسوس کر لے جس میں ایک بہن آٹھ سال سے قید ہے۔

مگر دروازہ نہیں کھلتا۔ انتظار ختم نہیں ہوتا اور درد کم نہیں ہوتا۔ انتظار شاید دنیا کی سب سے اذیت ناک کیفیت ہے۔ یہ انسان کو نہ پوری طرح جینے دیتا ہے، نہ مرنے دیتا ہے۔ بس ایک ایسی کیفیت میں معلق رکھتا ہے جہاں ہر گزرتا لمحہ ایک نئی اذیت بن جاتا ہے۔ جہاں صبح امید لے کر آتی ہے اور شام پھر خالی ہاتھ لوٹ جاتی ہے۔ جہاں ہر دستک دل کی دھڑکن بڑھا دیتی ہے، مگر اکثر دروازے کے دوسری طرف خاموشی ہی ملتی ہے۔ آٹھ سال کوئی معمولی مدت نہیں ہوتی۔ آٹھ سال میں موسم بدل جاتے ہیں، لوگ بدل جاتے ہیں،زندگی کے کئی باب ختم ہو کر نئے باب شروع ہو جاتے ہیں۔ مگر کچھ انتظار ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ پرانے نہیں ہوتے، بلکہ مزید بھاری ہوتے جاتے ہیں۔ ایک بہن آج بھی کھڑی ہے۔ آنکھیں دروازے پر، دل ایک امید سے بندھا ہوا، اور روح اس سوال کے بوجھ تلے دبی ہوئی، آخر اس درد کا اختتام کب ہوگا؟ وہ صرف جواب نہیں مانگ رہی، وہ صرف مدد نہیں مانگ رہی۔ وہ صرف ایک دروازہ کھلنے کی منتظر نہیں۔ وہ آٹھ سال سے اپنی زندگی کا سکون واپس مانگ رہی ہے۔ اور شاید اس درد کی سب سے بڑی شدت یہی ہے کہ اسے بیان کرنے کے لیے الفاظ کم پڑ جاتے ہیں، آنکھوں کے آنسو ختم ہو جاتے ہیں، مگر انتظار ختم نہیں ہوتا۔

31 اگست شاید دوسروں کے لیے ایک عام سا دن ہو، کیلنڈر پر درج ایک اور تاریخ، جو آتی ہے اور گزر جاتی ہے۔ مگر ہمارے لیے 31 اگست صرف ایک تاریخ نہیں، یہ وہ دن ہے جس نے آٹھ سال پہلے ہماری پوری زندگی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔اسی دن سے جیسے خوشیوں نے ہمارے آنگن کا راستہ بھلا دیا۔ اسی دن سے ہمارے گھروں کی رونقیں خاموشی میں بدل گئیں، ہنسی جیسے کسی نے ہم سے چھین لی، اور زندگی نے ہمیں ایک ایسی راہ کا مسافر بنا دیا جس کے لیے نہ ہم تیار تھے، نہ شاید ہم اس راہ کے لیے بنے تھے۔ ہماری زندگی کے مقصد بدل گئے، ہماری راہیں بدل گئیں، ہماری ترجیحات بدل گئیں۔ جو زندگی کل تک خوابوں، تعلیم، مستقبل اور خوشیوں کے گرد گھومتی تھی، وہ اچانک ایک سوال، ایک انتظار اور دو تصویروں کے گرد سمٹ کر رہ گئی۔

میں ایک ایسی لڑکی تھی جسے اسکول اور کالج کے علاوہ زندگی کی کوئی اور راہ معلوم ہی نہیں تھی۔ میرے ہاتھوں میں کتابیں ہونی چاہئیں تھیں، آنکھوں میں مستقبل کے خواب ہونے چاہئیں تھے، اور ذہن میں اپنے کیریئر اور زندگی کے منصوبے ہونے چاہئیں تھے۔مگر 31 اگست کے بعد کتابوں کی جگہ دو تصویروں نے لے لی۔وہ دو تصویریں جو آج بھی میرے ہاتھوں میں ہیں۔ وہ تصویریں جو خاموش ہیں، مگر ہر لمحہ ایک سوال کرتی ہیں۔ “ہمارا قصور کیا تھا؟” “ہمیں کہاں لے جایا گیا؟” “ہمیں واپس کب کیا جائے گا؟” اور میں ایک بہن، ان تصویروں کو سینے سے لگائے، آٹھ سال سے ان سوالوں کے جواب ڈھونڈ رہی ہوں۔ اس کے بعد احتجاجی کیمپ میری زندگی کا حصہ بن گئے۔ ریلیاں میری روزمرہ زندگی بن گئیں۔ نعرے، بینرز، پریس کانفرنسیں اور سرکاری دفاتر کے چکر وہ سب کچھ بن گئے جن کا تصور بھی کبھی میری زندگی کا حصہ نہیں تھا اور پھر کمیشن کی پیشیاں، ایسی پیشیاں جو وقت کے ساتھ ہماری زندگی کا معمول بن گئیں۔ ہر پیشی پر دل میں ایک نئی امید لے کر جاتی تھی کہ شاید آج کوئی جواب مل جائے گا، شاید آج کوئی ہماری بات سن لے گا، شاید آج ان بھائیوں کی بازیابی کے حوالے سے کوئی ایسا لفظ سننے کو ملے گا جو ہمارے دل کو سکون دے سکے۔ مگر ہر بار امید کے ساتھ جانے والی ایک اکیلی، نہتی بہن کو وہاں انصاف کے الفاظ سے زیادہ تذلیل، اذیت اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ جن جگہوں پر انصاف کی بات ہونی چاہیے تھی، وہاں ہمیں ایسے الفاظ سننے پڑے جو زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے انہیں اور گہرا کرتے گئے۔ جن اسٹیجوں کو انصاف کے لیے سجایا جاتا تھا، وہاں ہمارے لیے انصاف کم اور اذیت زیادہ تھی۔ ہم سوال لے کر جاتے تھے، مگر سوال ہی بن کر واپس آتے رہے۔ ہم امید لے کر جاتے تھے، مگر ہر بار امید کا ایک اور حصہ وہیں چھوڑ کر واپس آتے رہے۔

آٹھ سال سے ایک بہن اپنے بھائیوں کی تصویریں ہاتھ میں لیے دروازوں پر دستک دے رہی ہے۔ آٹھ سال سے ایک خاندان اپنے پیاروں کی واپسی کا منتظر ہے۔ آٹھ سال سے ہماری زندگی ایک ہی سوال کے گرد گھوم رہی ہے۔ اور سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ہمیں اب بھی معلوم نہیں کہ اس انتظار کی کوئی آخری تاریخ ہے بھی یا نہیں۔ 31 اگست ہر سال واپس آتا ہے۔ مگر ہمارے لیے یہ صرف کیلنڈر پر واپس آنے والی تاریخ نہیں۔ یہ وہ دن ہے جو ہر سال ہمارے زخم پھر سے کھول دیتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں وقت ہر درد کو کم کر دیتا ہے۔ مگر کچھ درد وقت کے ساتھ کم نہیں ہوتے، وہ انسان کے اندر گھر کر لیتے ہیں۔ اور کچھ انتظار ایسے ہوتے ہیں جن کی کوئی مدت نہیں ہوتی۔ آج بھی میرے ہاتھوں میں وہی دو تصویریں ہیں۔

آنکھوں میں وہی سوال ہے۔ دل میں وہی امید ہے۔ بس فرق اتنا ہے کہ آٹھ سال پہلے یہ امید زندہ تھی، اور آج یہ امید بھی تھک چکی ہے۔ پھر بھی ایک بہن ہونے کے ناتے میں کھڑی ہوں کیونکہ جب اپنے پیاروں کی بات ہو تو انسان تھک تو سکتا ہے، مگر انہیں بھول نہیں سکتا۔ 31 اگست شاید دنیا کے لیے ایک اور دن ہو، مگر ہمارے لیے یہ وہ دن ہے جس دن ہماری زندگی ہم سے چھین لی گئی تھی۔

ایک بہن جس نے گزشتہ آٹھ سال صرف گزارے نہیں، بلکہ سہے ہیں۔ آٹھ سال سے وہ ہر اس امید کے پیچھے بھاگتی رہی جہاں اسے ذرا سی بھی روشنی دکھائی دی۔ کبھی کسی دروازے پر امید لے کر پہنچی، کبھی کسی وعدے کو سہارا سمجھا، کبھی کسی سماعت سے انصاف کی توقع باندھی، کبھی کسی لفظ میں اپنے بھائیوں کی واپسی کی خوشخبری تلاش کی۔ مگر ہر بار، ہر جگہ، ہر دروازے سے اسے امید کے بجائے ناامیدی ملی۔ پھر بھی ایک بہن چلتی رہی۔ کیونکہ ایک بہن کے لیے اپنے بھائیوں کا انتظار کوئی معمولی انتظار نہیں ہوتا۔ یہ ایسا انتظار ہے جس میں انسان اپنی ذات، اپنی خوشیاں، اپنے خواب، اپنی زندگی سب کچھ پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ آج جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو مجھے صرف گزرے ہوئے آٹھ سال نظر نہیں آتے۔ مجھے وہ راستے نظر آتے ہیں جن پر میرے قدم گھستے رہے۔ وہ دروازے نظر آتے ہیں جن پر میں نے دستک دی۔ وہ عدالتیں نظر آتی ہیں جہاں امید لے کر گئی۔ وہ کیمپ اور ریلیاں نظر آتی ہیں جہاں اپنے بھائیوں کی تصویریں اٹھائے کھڑی رہی۔ وہ پیشیاں یاد آتی ہیں جہاں جواب کی منتظر رہی۔ وہ آنسو یاد آتے ہیں جو لوگوں سے چھپ کر بہائے۔ وہ راتیں یاد آتی ہیں جن میں نیند کے بجائے صرف سوال تھے۔ اور پھر جب میں اسی لمحے آگے دیکھتی ہوں تو میرے ہاتھوں میں آج بھی وہی میرے بھائیوں کی تصویریں ہیں۔ آٹھ سال پہلے بھی یہی تصویریں میرے ہاتھوں میں تھیں۔ اور آج بھی یہی تصویریں میرے ہاتھوں میں ہیں۔ مگر ایک فرق ضرور ہے۔ آج میرے پیچھے صرف آٹھ سال کا سفر نہیں، بلکہ ایک جنازہ ہے۔ یہ کسی انسان کا جنازہ نہیں۔ یہ انصاف کا جنازہ ہے۔ وہ انصاف جس کی امید میں ہم عدالتوں تک گئے۔ وہ انصاف جس کے لیے کمیشنوں کے دروازے کھٹکھٹائے۔ وہ انصاف جس کے لیے احتجاج کیے۔ وہ انصاف جس کے لیے مقدمات برداشت کیے۔ وہ انصاف جس کے لیے ایک بہن نے اپنی زندگی کے آٹھ قیمتی سال قربان کر دیے۔ مگر آج جب میں پیچھے دیکھتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم انصاف کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے خود اس کے جنازے کے ساتھ چلنے لگے ہیں۔ یہ صرف ایک خاندان کا المیہ نہیں۔ یہ اس نظام پر ایک سوال ہے۔ یہ اس جمہوریت پر ایک سوال ہے جس میں ایک بہن اپنے بھائیوں کی زندگی اور سلامتی کا سوال کرے اور جواب میں اسے مقدمات، دھمکیاں اور تذلیل ملے۔ یہ اس قانون پر سوال ہے جس سے ہمیں تحفظ ملنا چاہیے تھا۔ یہ ان اداروں پر سوال ہے جن سے ہمیں جواب کی امید تھی۔ اور یہ اس معاشرے پر بھی سوال ہے جو آٹھ سال سے ایک بہن کو اپنے بھائیوں کی تصویریں ہاتھ میں لیے دیکھ رہا ہے۔ کیا واقعی ہماری آواز اتنی کمزور ہے کہ آٹھ سال میں کوئی جواب نہیں مل سکا؟ کیا ایک بہن کا سوال اتنا معمولی ہے کہ اسے مسلسل نظر انداز کیا جا سکے؟ کیا ایک خاندان کا درد اتنا بے معنی ہے کہ اسے سالہا سال انتظار کی سزا دی جائے؟ ہمیں آج بھی کسی سے نفرت نہیں۔ ہم صرف سچ چاہتے ہیں۔ ہم صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ میرے بھائی کہاں ہیں؟ یہ کوئی غیر معمولی مطالبہ نہیں۔ یہ ایک بہن کا بنیادی حق ہے۔ یہ ایک خاندان کا بنیادی حق ہے۔ یہ انسان ہونے کا بنیادی حق ہے۔ اور ہاں، ہم تھکے ہیں۔

ہم ٹوٹے ہیں۔ ہم نے بہت کچھ کھویا ہے۔ ہماری امید کئی بار مرنے کے قریب پہنچی ہے۔ مگر ہم نے اسے دفن نہیں کیا کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ ظلم کی عمر کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، سچ اس سے زیادہ دیر تک زندہ رہتا ہے۔ آج ہمارے ہاتھوں میں اپنے بھائیوں کی تصویریں ہیں۔ اور ہمارے پیچھے انصاف کا جنازہ۔ مگر ہمارے سامنے اب بھی ایک راستہ ہے۔ مزاحمت کا راستہ۔ سچ کا راستہ۔ اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے کا راستہ۔ہم اس راستے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ کیونکہ ہم نے آٹھ سال انتظار کیا ہے، آٹھ سال سوال کیے ہیں، آٹھ سال دروازے کھٹکھٹائے ہیں، اور آٹھ سال اپنے پیاروں کی واپسی کی امید میں زندہ رہے ہیں۔ اب شاید ہمارا مقدمہ صرف عدالتوں کا مقدمہ نہیں رہا۔ اب یہ قوم کے ضمیر کا مقدمہ ہے۔ اور ہمیں یقین ہے کہ ایک دن یہ قوم فیصلہ کرے گی۔ فیصلہ کرے گی کہ کون سچ کے ساتھ کھڑا تھا اور کون خاموش رہا۔ فیصلہ کرے گی کہ ایک بہن کا اپنے بھائیوں کے لیے آواز اٹھانا جرم تھا یا حق۔ فیصلہ کرے گی کہ سالوں کا یہ انتظار انصاف تھا یا ظلم۔ اور فیصلہ کرے گی کہ تاریخ میں اس دور کو کس نام سے یاد کیا جائے گا۔ ہم مایوس نہیں ہیں۔ کیونکہ ہماری امید اب کسی ایک دروازے سے وابستہ نہیں۔ ہماری امید اب اپنی قوم کے ضمیر سے وابستہ ہے۔ آج بھی میرے ہاتھوں میں میرے بھائیوں کی تصویریں ہیں۔ آج بھی میری آنکھیں اسی دروازے پر لگی ہیں۔ اور آج بھی میرے دل میں وہی سوال زندہ ہے۔ میرے بھائی کہاں ہیں؟ یہ سوال تب تک زندہ رہے گا جب تک میرے بھائی واپس نہیں آتے۔ اور اگر ہماری زندگی میں اس سوال کا جواب نہ بھی ملا تو ہم یہ سوال اپنی آنے والی نسلوں کے حوالے کر جائیں گے۔ تاکہ دنیا جان سکے کہ ایک بہن سالوں تک اپنے بھائیوں کے لیے لڑتی رہی، ایک خاندان سالوں تک انتظار کرتا رہا، اور ایک قوم کے سامنے انصاف کا جنازہ گزرتا رہا۔ مگر وہ بہن خاموش نہیں ہوئی۔ وہ آج بھی کھڑی ہے۔ ہاتھوں میں اپنے بھائیوں کی تصویریں لیے، آنکھوں میں سالوں کا درد لیے، دل میں آخری امید لیے، اور زبان پر صرف ایک سوال لیے۔میرے بھائی کہاں ہیں؟


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔