جب عدل کو کفن پہنایا جائے
تحریر: نمیران جان
دی بلوچستان پوسٹ
جب ریاست انصاف کی محافظ بننے کے بجائے ظلم میں شریکِ جرم بن جائے تو معاشرے کا ہر ستون ہل جاتا ہے۔ قانون کتابوں میں زندہ رہتا ہے اور گلیوں میں خون بولتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب عدل کو کفن پہنا دیا جاتا ہے اور ریاست اپنے وجود کے جواز سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے۔
بلوچستان میں ریاست کا کام تحفظ دینا تھا لیکن یہاں ریاست نے تحفظ کے بدلے خاموشی بیچی۔ یہاں قانون کی حکمرانی کے دعوے ہیں اور زمین پر ڈیتھ اسکواڈز کی حکمرانی۔ جب ریاست خود سودے کرنے لگے تو پھر ہر معاہدہ ٹوٹتا ہے، اور ہر عہد جنازہ بن جاتا ہے۔
9 فروری 2025 خضدار۔ ایک باپ اپنی بیٹی کو بچانے کے لیے ریاست کے دروازے پر دستخط شدہ کاغذ لے کر گیا تھا۔ ریاست نے کاغذ رکھ لیا اور باپ کو جنازہ دے دیا۔ اسی دن بلوچستان میں اعلان ہوا: “یہاں عدل مر چکا ہے۔”
خضدار کی بی بی اسماء جتک اس ناکام ریاست کی زندہ مثال ہیں۔ اسماء نے ریاست کے دروازے کھٹکھٹائے۔ فریاد کی: “مجھے اور میرے گھر والوں کو ظہور جمالزئی جیسے درندوں اور ان کے ڈیتھ اسکواڈز سے بچا لو۔” ریاست نے جواب میں خاموشی دی۔ اسی منظم خاموشی کی قیمت اسماء کے والد عنایت اللہ جتک نے 4 اگست 2026 کو اپنے خون سے ادا کی۔
اغوا کے بعد خاندان نے ضلعی انتظامیہ کے سامنے 4 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ رکھا: ملزم ظہور احمد جمالزئی کی فوری گرفتاری، متاثرہ خاندان کی سیکیورٹی اور جان و مال کے تحفظ کی ضمانت، متاثرہ خاندان کو حراساں کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی، اور واقعے کی شفاف تحقیقات۔
انتظامیہ نے 9 فروری 2025 کو کاغذ پر دستخط کیے۔ “پوائنٹ 1 اور 2 ہم یقینی بنائیں گے” کا وعدہ کیا۔ وہ وعدہ آج تک کاغذ کی قید میں ہے۔ اکاؤنٹیبیلیٹی کو دفن کر دیا گیا۔ اور نتیجہ؟ ایک اور جنازہ۔
یہاں مسئلہ ایک فرد کا قتل نہیں۔ یہ وجودیت کا بحران ہے۔ قاتل کو یہ جسارت کہاں سے ملی کہ وہ ریاست کی موجودگی میں، قانون کی ناک کے نیچے خون بہائے؟ جواب بلوچستان کی سیاسی حقیقت میں ہے، ریاست کی اسٹرکچرل کمپلیسٹی۔ جب ڈیتھ اسکواڈز کو ریاستی سرپرستی ملے، جب سردار نظام اور مسلح گروہوں کو “امن کے ٹھیکیدار” بنا کر ریاستی چھتری دی جائے، تو ظلم محض جرم نہیں رہتا۔ وہ پالیسی بن جاتا ہے۔ وہ گورننس کا متبادل بن جاتا ہے۔ فلسفی ہانا آرنڈٹ نے اسے “برائی کی عاملیت” کہا تھا۔ بلوچستان میں یہ “برائی کی ادارہ جاتی حیثیت” بن چکی ہے۔
آج بلوچستان ایک زندہ تضاد ہے۔ آئین کتابوں میں مقدس ہے اور زمین پر بے توقیر۔ انصاف کا تقدس پامال ہے اور بندوق کی دھمکی کا راج ہے۔ ریاست ظالم سے لڑنے کے بجائے اس سے سودے کر رہی ہے۔ وہ مجرموں کو کنٹرول کرنے کے بجائے ان کے ساتھ پاور شیئرنگ کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ریاست کی سوورینٹی سوالوں کے گھیرے میں ہے۔ فلسفہ ہمیں بتاتا ہے کہ سوورینٹی کا مطلب ہی یہ ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کو اندرونی اور بیرونی خطرات سے بچا سکے۔
ہم انصاف انہی ایوانوں سے مانگ رہے ہیں جنہوں نے 9 فروری 2025 کو دستخط کر کے عہد توڑا۔ جنہوں نے ضمیر کو تجارت اور قانون کو سودا بنا دیا۔ ان سے انصاف مانگنا زخم پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ جب ریاست ایک بیٹی کی چیخ نہیں سن سکتی، جب وہ ایک چارٹر کی پاسداری نہیں کرا سکتی، تو وہ ناکام ریاست ہے۔ اور ناکام ریاست کو اختیار سونپنا اجتماعی خودکشی ہے۔
یہ جنگ اب صرف اسماء کی نہیں رہی۔ یہ ہر اس گھر کی جنگ ہے جو آج رات چین سے سونا چاہتا ہے۔ جب تک ڈیتھ اسکواڈز کو لگام نہیں دی جائے گی، جب تک سردار نظام اور مسلح ملیشیاؤں کی سرپرستی ختم نہیں ہوگی، تب تک بلوچستان میں کوئی بھی محفوظ نہیں۔
سوال اب یہ نہیں کہ “انصاف کب ملے گا؟” سوال یہ ہے: “کیا ریاست اب بھی ریاست رہنا چاہتی ہے؟” کیونکہ جس دن عدل کو کفن پہنا دیا جائے، اس دن ریاست بھی اپنے جنازے کا انتظار کرنے لگتی ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































