فوجی ڈرون حملے میں غیر مقامی کاشتکار جانبحق ہوگیا۔
بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ سے اطلاعات کے مطابق کھڈکوچہ، شریف آباد میں پاکستانی فورسز کے ڈرون حملے میں سندھ کے علاقے لاڑکانہ کا رہائشی حبیب اللہ نامی شخص جانبحق ہوگیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حبیب اللہ کھڈکوچہ میں کاشتکاری کا کام کرتا تھا، جبکہ اسے اس وقت فوجی ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا جب وہ کاشتکاری میں مصروف تھا۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ہونے والی پاکستانی فوجی بمباری اور ڈرون حملوں میں اب تک بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تیس سے زائد شہری جانبحق ہوچکے ہیں، جن میں ایک بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔
اسی طرح گزشتہ روز خاران کے علاقے لجے میں جاری فوجی آپریشن کے دوران پاکستانی فوج کے ڈرون حملے میں ایک اور کاشتکار، سلطان محمد ولد حاجی ملک عثمان ساسولی، جانبحق ہوگئے تھے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے سوراب میں پاکستانی جیٹ طیاروں کی بمباری سے 27 کے قریب عام شہری، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے جانبحق و زخمی ہوئے تھے۔
خاران سمیت خضدار کے مختلف علاقوں، زہری اور مولہ میں بھی ڈرون حملوں میں ایک ہی خاندان کے متعدد افراد نشانہ بنے ہیں۔
بلوچستان میں فوجی ڈرون حملوں پر انسانی حقوق کے کمیشن برائے پاکستان نے بیان جاری کرتے ہوئے ان واقعات کی مذمت کرتے ہوئے پاکستانی حکومت و فورسز سے جواب طلبی کی ہے، تاہم فورسز کا دعویٰ ہے کہ حملوں کا نشانہ بلوچ مسلح تنظیموں کے ارکان اور ٹھکانے تھے۔
















































