سانحہ شال – درشہوار بلوچ

1

سانحہ شال

تحریر : درشہوار بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

مجھے پڑھنے کا بہت شوق تھا لیکن نوشکی میں خاص تعلیم نا ہونے کی وجہ سے میری پڑھائی نہیں ہوسکتی تھی پھر میں نے ارادہ کیا کہ میں کوئٹہ جاکر پڑھوں گی لیکن وہاں ہاسٹل میں اکیلی تھی اس لئے میں جا نہیں سکتی تھی ایک دن میرے اسکول کے دوست اسماء نے مجھے میسیج کیا کہ درشہوار میری بہن نے کہا تھا کہ آپ کوئٹہ جانا چاہتی ہے لیکن اکیلی ہے اس لئے نہیں جاسکتی۔

میں نے کہا ہاں اسماء میں چاہتی ہوں کہ اچھے سے پڑھو لیکن نوشکی میں خاص تعلیم نہیں ہے اور کوئٹہ میں اکیلی ہوں بس اس لئے پڑھائی نہیں ہوسکتی ہے۔

اسماء نے کہا اچھا لیکن درشہوار میں بھی جانا چاہتی ہوں میں ابھی اکیلی ہو اس لئے نہیں جاسکتی اگر آپ چاہوں تو ہم دونوں ایک ساتھ ہاسٹل میں جائنگے۔

اسماء کی یہ میسیج دیکھ کر میں بہت خوش ہوئی اور ابو سے کہا کہ میں اور ماسٹر گلزار کی بیٹی ایک ساتھ جائنگے ہاسٹل تو ابو نے کہا ہاں یہ بہت اچھا ہے اس کا ابو میرا اچھا دوست بھی ہے پھر آپ دونوں ایک ساتھ رہوں گے تو ہم دونوں بے فکر رہنگے۔

کچھ دن بعد ہم دونوں کوئٹہ گئے وہاں جاتے ہی ہم نے ہاسٹل میں اپنا داخلہ کرایا۔ کوئٹہ میرے لیے ایک نئی جگہ تھی، ایک نیا شہر اور ایک نئی زندگی، لیکن میرے ذہن میں ان سب چیزوں سے بڑھ کر صرف ایک ہی بات تھی کہ مجھے پڑھنا ہے اور ڈاکٹر بننا ہے۔ ہماری زندگی بس پڑھائی تک محدود ہو گئی تھی۔ کلاسز، لائبریری، کمرہ اور پھر دوبارہ کتابیں۔

لائبریری میں اکثر بہت سے طالب علموں کے ہاتھوں ہم بی ایس او کی کتابیں دیکھتے تھے، جو وہ لوگ اکثر پڑھتے رہتے تھے۔ کبھی کبھی وہ آپس میں سیاست کے بارے میں بھی بات کرتے تھے۔ ہم ان کی باتیں سنتے ضرور تھے، لیکن کبھی ان کی طرف خاص توجہ نہیں دی۔ ان کی باتیں ہمارے لیے ہمیشہ عام سی باتیں تھیں۔ ہم سنتے اور پھر اپنی کتابوں میں مصروف ہو جاتے۔ کیونکہ میری اور اسماء کی دنیا بہت چھوٹی تھی، جس میں صرف کتابیں، امتحان، میڈیکل کا سیٹ اور ڈاکٹر بننے کا خواب تھا۔

کچھ دن بعد جولائی کا مہینہ آیا۔ ان دنوں ایک طرف گرمی کی شدت بہت زیادہ تھی، تو دوسری طرف اس شہر میں سیاست کا میدان بھی گرم تھا۔ شہر کا ماحول جیسے بدل رہا تھا۔ ہر طرف سیاسی سرگرمیوں کی باتیں سنائی دیتی تھیں۔

اس وقت بی وائی سی کی طرف سے اکثر شال میں احتجاج اور ریلیاں نکالی جاتی تھیں۔

جولائی کی انہی دنوں میں میں اور اسماء لائبریری میں بیٹھے تھے کہ اچانک نعروں کی آواز ہماری کانوں تک پہنچی اور لائبریری میں موجود سب لوگوں کی نظر لائبریری میں موجود کھڑکی پر پڑی تو کچھ سٹوڈنٹ کھڑکی سے نیچے دیکھنے کے لئے گئے انہوں نے جب دیکھا تو ایک دوسرے سے بات کرنے لگے کہ آج تو لاپتہ افراد کے لئے ریلی نکالی گئی ہے اور احتجاج والے یہاں سے گزر رہے ہے۔ ان کی آواز سنتے ہی اسماء نے مجھ سے کہا۔

درشہوار میں نے سنا ہے کہ آج کل بلوچ عورتیں اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر سیاست کررہے ہے لاپتہ افراد اور بلوچستان کے حقوق کے لیے اکثر احتجاج کرتے ہے۔ اور دیکھو ان نعروں میں بھی عورتوں کی آواز ہے۔

میں نے کہا ہاں واقعی اسماء آوازیں تو عورتوں کی ہے لیکن خیر چھوڑ ہمیں ان سے کیا کام۔

اسماء نے مجھ سے کہا چلو ہم دونوں بھی چلتے ہے اور دیکھتے ہے یہ لوگ کس طرح سے احتجاج کرتے ہے۔

میں نے کہا نہیں پاگل اپنا کتاب کھولو اور پڑھو ہم یہاں احتجاج دیکھنے نہیں پڑھنے کے لئے آئے ہیں۔

اسماء نے پھر سے کہا یار زندگی میں کبھی کتابوں سے ہٹ کر بھی کچھ کرنا پڑھتا ہے چلو نہ آج جاکر دیکھتے ہے۔ جلدی سے اپنی کتاب بند کرو اور چلو۔

میں نے کہا نہیں اسماء اگر ہمارے گھر والوں کو پتہ چلا کہ ہم پڑھنے کے بجائے احتجاجوں میں جاتے ہے تو بہت ناراض ہونگے ہم سے۔

لیکن اسماء نے میری ایک نہ سنی اور ضد پکڑی تھی کہ مجھے ہر حال میں جانا ہے اور مجھے بھی زبردستی سے اپنے ساتھ لے گئی۔

خیر جب ہم لائبریری سے نکل کر گلی میں پہنچے تو واقعی عورتیں لاپتہ افراد کی تصویریں اٹھا کر سب سے آگے تھے اور مرد ان کے پیچے۔ اور پورے گلی میں نعروں کی آوازیں تھے۔ میں اور اسماء پہلی بار احتجاج میں شریک ہوئے تھے اس لئے ہم نعروں کے جواب نہیں جانتے تھے بس خاموشی سے ایک کنارے سے ان کے ساتھ جارہے تھے تھوڑا دور جاکر بلوچستان اسمبلی پہنچ گیا اور وہی پر سب لوگ اچانک رک گئے۔ اور اسمبلی کے سامنے والے چوک میں بیٹھ گئے جہاں سامنے عدالت عالیہ تھا اور پیچھے بلوچستان اسمبلی اور اسمبلی کے بلکل ساتھ ایف سی کا چوکی تھا۔
ایہی پر میں اسماء سے پوچھا
اسماء اب یہ لوگ یہاں کیوں بیٹھ گئے
اسماء بولنے لگی شاید اب یہ یہاں پر بیٹھ کر تقریریں کرنگے اور لاپتہ افراد کے لئے بات کرینگے۔
میں نے کہا اچھا۔
اسماء کہنے لگی درشہوار وہاں دیکھو اس ماں کو کتنی بوڑھی ہے لیکن پھر بھی احتجاج کرتا ہے۔
میں نے کہا ہاں واقعی اس کی جسم بھی بہت کمزور لگ رہی ہے لیکن وہ آخر احتجاج کیوں کرتی ہے اور بھی تو لوگ ہے احتجاج کرنے کے لئے۔
اسماء کہنے لگی پاگل وہ میری اور آپ کی طرح کسی شوق سے نہیں آیا ہے دیکھو تو سہی اس کی ہاتھ میں اس کے بیٹے کے تصویر ہے اس کے بیٹے کو لاپتہ کیا گیا ہے۔ اور دیکھو تو اس کے بیٹھے کو دس سال ہورہا ہے جو لاپتہ ہے۔

اسماء کے یہ الفاظ سنتے ہی میں حیران سی رہ گئی اور یہی سوچوں میں گئی کہ آخر اس کا بیٹا کون سا جرم کیا ہے کہ دس سال گزرنے کے باوجود اس کی سزا ابھی تک ختم نہیں ہورہا ہے اور اس کا ماں بوڑھی حالت میں بھی اس کے لئے عدالتوں کے سامنے انصاف مانگنے آتی ہے لیکن پھر بھی اسے انصاف نہیں ملتا۔

اتنے میں تقریریں شروع ہوئے بلکل آگے ایک ماہناز نام کی لڑکی تھی جس کی ہاتھ میں مائیک تھا اور ماہناز سب لاپتہ افراد کے خاندانوں کو ایک ایک کرکے تقریر کے لئے بلا رہا تھا تقریروں کا سلسلہ شروع ہوتے ہی جیسے میری سانس بند ہوگی کیونکہ اس احتجاج میں صرف وہ ایک ماں نہیں تھی بلکہ بلوچستان کے بہت سے ایسے مائیں موجود تھے جن کے بیٹے دس دس اور پندرہ پندرہ سالوں سے لاپتہ تھے۔ ان کے دکھ ان کے الفاظ سے زیادہ ان کے آنکھوں سے ظاہر ہورہے تھے۔ وہ مائیک اٹھاتے ہی رونے لگے اور بہت سے مائیں بے ہوش ہوئے۔ میں اور اسماء اس منظر کو دیکھ رہے تھے اس لمحے ان ماؤں کو دیکھ کر ہم بھی رونے لگے اور میرے ذہین میں بہت سے سوالات پیدا ہوئے۔
ہمارے ساتھ بیٹھی ہوئی لڑکی سے میں نے فوراً سوال کیا
دیکھو! لوگوں کو لاپتہ کیوں کیا جاتا ہے ؟
تو اس لڑکی نے جواب دیا کہ سنگت ہم یہی سوال اس ریاست سے پوچھ رہے ہے کہ آپ ہمارے لوگوں کو لاپتہ کیوں کررہے ہوں لیکن ریاست ہماری اس سوال سے خوف کھاتی ہے ہمارے سوالوں کا جواب دینے کہ بجائے ہمارے باقی لوگوں کو اٹھا کر لاپتہ کررہا ہے۔
میں اور اسماء اس لڑکی کی باتوں کو غور سے سن رہے تھے

میں پھر سے بولنے لگی ان لوگوں نے آخر کون سا جرم کیا ہے؟ کہ اتنے سال گزرنے کے باوجود بھی انہیں ابھی تک رہا نہیں کیا جارہا ہے۔
تو وہ لڑکی اپنے آنسوؤں کو ہاتھوں سے صاف کرتے ہوئے بولنے لگی
سنگت ان کا جرم ایہی ہے کہ انہوں نے اپنے وطن اور قوم سے حقیقی محبت کی ہے اور انہوں نے ظالم اور ظلم دونوں سے نفرت کی ہے اور ظلم کبھی برداشت نہیں کئے اور اپنے قوم کے درد کو اپنا درد سمجھا بس ان کا گناہ صرف ایہی ہے اور کچھ نہیں۔

اس لڑکی کی باتیں سنتے ہی اسماء نے غصے میں کہا یہ کیسی ریاست ہے جو لوگوں کو ناحق دس دس سالوں سے قید خانوں میں بند کرتی ہے ہم بھی تو اپنے وطن اور قوم سے محبت کرتے ہے کیا ہمیں بھی یہ اسی طرح اٹھا کر لے جائے گا؟
تو اس لڑکی نے کہا ہاں سنگت یہ ریاست نہیں ہے ناپاک درندے ہے جو کسی کو بھی اٹھا کر لے جاسکتے اور جب ان کا دل چاہے تو ان کی مسخ شدہ لاشیں بھی پھینکے گے۔

اس کی باتیں سنتے ہی میں نے کہا نہیں سنگت ہم تو عورتیں ہے اور وہ عورتوں کو کیسے لے جاسکتا ہے؟
میری باتیں سنتے ہی وہ لڑکی ہنسنے لگی اور مجھ سے کہا گودی لگتا ہے آپ نے کبھی اپنے گھر کے علاؤہ اپنے اردگرد اور قوم پر کبھی نظر ہی نہیں ڈالی ہے۔ اور اپنے قوم پر بنجابی کی ظلم اور زیادتیاں سے کبھی واقف ہی نہیں ہوں۔

میں نے جواب دیا ہاں سنگت مجھے کبھی اندازہ ہی نہیں ہوا ہے کہ یہاں پر کیا ہورہا ہے اور کیا نہیں میں نے تو پہلی بار کسی احتجاج میں شریک ہوئی ہوں اور یہاں پر پہلی بار ان ماؤں ، بہنوں اور بچوں کے ساتھ ناانصافی کو دیکھ رہی ہوں اور پاکستان کے ظلم کے بارے میں سن رہی ہوں۔

اتنے میں اسماء بولنے لگی کہ سنگت آپ اسے چھوڑے آپ یہ بتا دے کہ واقعی یہ ریاست عورتوں کو بھی لاپتہ کرتا ہے ؟

وہ لڑکی بولنے لگی ہاں سنگت اس ریاست نے بہت سے عورتوں کو لاپتہ بھی کیا ہے ان پر طرح طرح کے ظلم بھی کیا ہے اور بہت سے عورتوں کو خودکشی پر مجبور کیا ہے اس نے یہ درندگی آج نہیں بلکہ کئی سالوں سے کرتی آرہی ہے۔ اس نے زرینہ مری کو بھی لاپتہ کیا تھا لیکن اب کئی سال گزر چکے ہے لیکن ابھی تک اس کے حوالے سے کوئی خبر نہیں ہے کہ وہ زندہ بھی ہے یا نہیں۔

اس لڑکی کی یہ باتیں سنتی ہی مجھے اس ریاست سے پہلی مرتبہ بے انتہا نفرت محسوس ہوئی اور بلوچستان کی مٹی سے محبت۔
شام کو جب میں اور اسماء ایک ساتھ بیٹے تھے تو اسماء خود سے آہستہ آہستہ کچھ بول رہی تھی اس کی آواز مجھے صاف سنائی نہیں دے رہی تھی بس اتنا معلوم ہورہا تھا کہ وہ کچھ بول رہی ہے۔ جب میں نے اس سے پوچھا کیا بول رہی ہوں خود سے ؟
اسماء نے مایوس انداز میں کہا کچھ نہیں۔
میں ہنس کر بولی پاگل خود سے پتہ نہیں کیا کیا بول رہی ہو۔
اسماء نے روتے ہوئے مجھ سے کہا ہاں آج احتجاج میں موجود بے بس ماؤں کو دیکھ کر پاگل ہوچکی ہوں۔

اسماء کے یہ الفاظ سنتے ہی میری بھی آنکھوں کے سامنے ان ماؤں کی بے بسی اور کانوں میں اس بہنوں کی رونے کی آواز سنائی دی۔
اور ہم دونوں نے ایک دوسرے سے باتیں شروع کئے میں نے کہا واقعی اسماء جب انسان اپنے زات سے نکل کر دنیا کو جب دیکھتا ہے تب انسان کو احساس ہوتا ہے کہ دنیا میں کیسے کیسے ظلم ہورہے ہے۔
اسماء کہنے لگی ہاں درشہوار آج مجھے احساس ہوا کہ ہمارے زمین پر کیا کیا ہورہا ہے اتنے سال تو ہم بے خبر ہی رہے ہے۔
میں نے کہا ہاں واقعی اسماء مجھے بھی آج ہی احساس ہوا۔

اسماء پھر سے کہنے لگی دیکھو ہم اپنے قوم کے لئے ان ماؤں کے لئے اور کچھ نہیں کرسکتے کم سے کم یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے ساتھ احتجاج کرئے ان کے ہمراہ ہوں۔
میں نے کہا ہاں اسماء یہ تو کرسکتے ہے ہم۔ میں اور اسماء باتیں کرتے کرتے نیند میں چلے گئے۔

پھر یہی پر میں نے دیکھا کہ میں کسی باغ میں کھڑی ہو اور اردگرد میں صرف پہاڑ ہے اور باغ کے نزدیک ایک بڑا سا چار دیواری ہے جس کے اندر بہت سے بیلڈنگ اور مورچے ہے اور دور میں صرف ایک چھوٹے سے شہر کے لائٹوں کی روشنی نظر آرہی ہے۔ ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی اور میں آسمان کی طرف چاند اور ستاروں کو دیکھ رہی تھی ایہی پر اچانک چار دیواری کی اندر سے زور زور کی آوازیں آنے شروع ہوئے ان آوازوں نے خاموشی کو توڑ کر خوفناک شور پیدا کیا۔

میں باغ سے نکل کر اس چار دیواری کی طرف جانے لگی اور میں دیوار کے پاس پہنچ گئی۔ اس چار دیواری کی دیواروں پر دور دور درمیان سے ایک ایک انٹ گر چکے تھے جس سے چار دیواری کا اندر صاف نظر آرہی تھی۔ جب میں نے کان لگا کر سننا شروع کیا تب مجھے معلوم ہوا کہ اندر کسی کو مار رہے ہے اور وہ درد سے رو چینخ رہا ہے۔ یہ آواز سنتے ہی میں نے دیکھنا شروع کیا۔ جب میں نے اندر دیکھا تو مجھے دو نوجوان نظر آرہے تھے جن کی ہاتھ اور پاؤں باندھے ہوئے تھے اور ان کو چار واردی والے لوگ زور زور سے مار رہے تھے اتنے میں آواز آیا کہ بس کرو ، ان کے ہاتھ پاؤں کھولو اور جاکر میرے لئے کرسی لیکر لاؤ اتنے میں ان نوجوانوں کے بلکل سامنے ایک کرسی رکھ دی گئی اور اس کرسی پر ایک مسلح فوجی بیٹھ گیا اور ان نوجوانوں سے سوال پوچھنے لگا بتاؤ کس تنظیم سے تعلق رکھتے ہوں ورنہ اس سے بھی برے سلوک کرنگے آپ لوگوں سے۔

ان نوجوانوں نے جواب دیا ہم نے کسی بھی تنظیم سے کبھی تعلق نہیں رکھے ہے۔ آپ لوگوں نے ہمیں ناحق قید کر رکھا ہے۔

فوجی نے پھر سے غصے میں کہا سچ سچ بتا دوں
لیکن ان نوجوانوں کے جواب وہی تھے
پھر سے سوال کیا کتنے فوجی مارے ہے ؟
انہوں نے جواب دیا ہم نے کبھی کسی جانور کو بھی قتل نہیں کیا ہے پھر انسانوں کو کیسے قتل کرسکتے ہے ہم نے کسی کو نہیں مارا ہے۔
پھر سے سوال کیا کون سے جگے پر ٹرینگ کیا ہے اور کس کس کو جانتے ہوں؟
انہوں نے کہا ہم نے کوئی ٹرینگ نہیں کی ہے اور نا ہی کسی کو جانتے ہے ہم تو صرف اپنے ہی روزگار کرتے تھے۔
یہ فوجی غصے میں بولنے لگا دہشتگرد ہو آپ لوگ اور جھوٹ بول رہے ہوں۔
اور اپنے سپاہیوں سے کہا کہ شوٹ کرو ان دہشتگردوں کو۔
سپاہیوں نے کہا جی کرنل صاحب۔

اتنے میں کرنل چلا گیا اور وہی چار سپاہی پھر سے ان دونوں نوجوانوں کے ہاتھ اور پاؤں باندھے اور ان کے جسم کو بار بار کرنٹ دیے اور جب وہ دونوں تشدد سے بے ہوش ہوئے تو انہوں نے اپنے بندوقوں کو بلٹ کیا اور بندوق ان نوجوانوں کی سر پر رکھ دیے اور ایہی پر فائرنگ کی آواز آئی اور میں زور سے بولنے لگی نہیں مارو انہیں۔ اور اچانک اسماء کی آواز میری کانوں میں آئی کیا ہوا درشہوار اٹھو آپ خواب دیکھ رہی ہوں اور اس کی آواز سے میری آنکھ کھول گئی۔ میں بولنے لگی اللہ کا شکر ہے یہ خواب تھا۔
اسماء پوچھنے لگی کیا ہوا اپ کو کیسا خواب دیکھا اتنا خوف زدہ کیوں ہوں آپ۔
میں اسماء کو اپنا خواب بتایا وہ بھی یہ خواب سن کر سوچ میں پڑ گئی۔

کچھ دیر بعد ہم دونوں لائبریری گئے وہاں ہم نے پہلی مرتبہ بائیولوجی کی کتاب کی جگہ سیاسی کتابیں ڈھونڈنے لگے تاکہ ہمیں وہ کتابیں ملے اور ہم پڑھ سکے۔ کتاب نہ ملنے پر ہم نے پھر سے اپنے باقی کتاب کھولے اور پڑھنے کے لئے بیٹھ گئے۔ اتنے میں اسماء مجھے آہستہ سے آواز دی۔
درشہوار!
میں نے اس کی طرف دیکھا تو اس نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ جلدی سے یہاں آؤ۔
جب میں اسماء کے پاس گئی تو اس نے کہا یار ایک خبر آئی ہے کہ سریاب سے ریلی نکالی جائے گئی لاپتہ ظہیر بلوچ کی رہائی کے لئے۔
یہ سنتے ہی میں نے کہا ہاں اسماء آج ہم ہر حال میں اس ریلی میں شریک ہونگے۔
اسماء نے کہا ہاں ضرور جائنگے۔ لیکن درشہوار کس کے ساتھ جائے۔ ہم نے تو کبھی اکیلے اتنے دور نہیں گئے ہے۔
میں نے کہا یار کوئی مسلئہ نہیں پہنچ جائنگے۔

جب دو بج گئے تو ہم دونوں لائبریری سے نکل کر سریاب کی طرف روانہ ہوئے خیر آخر ہم دونوں سریاب روڈ کی دھرنے میں پہنچ گئے۔ جب ہم وہاں پہنچے تو اس دھرنے میں اور بھی لوگ موجود تھے آہستہ آہستہ اور بھی رش ہوتا گیا اور ہر ماں کے ہاتھ میں ایک نوجوان بیٹے کی تصویر تھی۔ لیکن یہاں پر عجیب چیز یہ تھی کہ اس کے نزدیک بہت سے پولیس موجود تھے جن کے ایک ہاتھ میں بندوقیں تھے اور دوسرے ہاتھ میں ڈھنڈے تھے۔
اسماء دیکھو آج یہاں پولیس کیوں آئی ہے؟
اسماء کہنے لگی شاید سیکورٹی کے لئے آیا ہے۔
اور میں نادانی سے کہا اچھا۔
کچھ دیر بعد آواز آئی کہ آپ لوگ اٹھے اور روڈ کے دوسرے طرف سب کھڑے ہو جائے وہی سے ریلی شروع کرینگے جب سب لوگ روڈ کے دوسرے طرف گئے تو اسی لمحے میری نظر ایک ایسی ماں پر پڑی جس کی چپل اور کپڑے کئی جگہوں سے پھٹے ہوئے تھے، آنکھوں میں انتطار اور اس کے ہاتھ میں ایک تصویر تھا میں اس ماں کے بلکل ساتھ کھڑی تھی تو میں نے پوچھا۔
لمہ آپ کہا سے آئی ہوں؟
اس ماں نے جواب دیا گودی میں قلات سے آئی ہوں میرا بیٹھا 12 سالوں سے لاپتہ ہے۔
لمہ کیا آپ کے اور بیٹے ہے؟
ہاں ایک اور بیٹھا ہے وہ نشے میں مبتلا ہے اور ایک بیٹا 12 سالوں سے قید میں بند ہے اور میں روڈوں پر درپدر ہوں۔
لمہ آپ آج قلات سے صرف اسی ریلی کے لئے آئے ہوں؟
ہاں گودی جب بھی کوئی احتجاج ہوتا ہے تو میں قلات سے صبح لوکلوں میں سوار ہوکر کوئٹہ آتی ہوں۔ شاید میرا بیٹھا بازیاب ہوں آج بھی میں اسی امید میں ہوں کہ شاید واپسی میں میرا بیٹا میرے ساتھ گھر جائے۔

اس ماں کے ہر لفظ نے مجھے احساس دلا دیا کہ بلوچ کے لئے کس طرح اس کی خود کی زمین اس تنگ کردی گئی ہے وہ بلوچستان جس سے پورا پاکستان چل رہا ہے اس کے خود کے بچے بھوکے سوتے ہے اور اس کے مائیں پھٹے ہوئے چپلوں کے ساتھ روڈوں پر اپنے بچوں کے لئے انصاف مانگ رہے ہے۔ ایک بار پھر ماں نے آواز دی۔
گودی!
اس کی اس آواز میں درد تھا۔
میں نے گودی لفظ سنتے ہی کہا جی لمہ!
وہ ماں کہنے لگی گودی آپ کو پتہ ہے۔ میں نے اپنی پوری زندگی بہت مشکل سے گزاری ہے میری جوانی غریبی میں گزر گئی اور بوڑھاپہ بیٹے کے انتظار میں۔ اور یہ انتظار ایک نہ ختم ہونے والی انتظار ہے۔
ایہی پر وہ ماں زور زور سے رونے لگی میں نے اسے تسلی دی کہ اماں نہیں رو آپ کا بیٹا انشاء اللہ ضرور ایک دن بازیاب ہوگا۔

وہ ماں کہنے لگی گودی میںں خود کو بارہ سالوں سے اسی طرح سے تسلی دیتی ہوں کہ میرا بیٹا واپس ضرور آئے گا لیکن آج تک میرا بیٹا نہیں آیا میں شام کو اپنا دروازہ کھولا چھوڑتا ہوں کہ شاید میرا بیٹا آجائے لیکن دروزہ کھولا رہنے کی وجہ سے میرا چار دیواری کتوں سے بر جاتا ہے لیکن میرا بیٹا نہیں آتا ہے میں اسلام آباد تک مارچ کرکے گئی ہوں کہ شاید میرا بیٹا بازیاب ہوں لیکن میں واپس بے امید ہی آئی۔
وہ ماں اپنے درد بھرے داستان بیان کررہی تھی اور میں اس داستان کو سن رہی تھی اور آنکھے نم تھے۔ اچانک ایک شور پیدا ہوا جب ہم دونوں نے سامنے دیکھا تو لوگ ریلی کے لئے بنائے گئے لائنوں کو تھوڑ کر ادھر اُدھر بھاگ رہے ہے اور ہر طرف دھاوا تھا۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ لوگ کیوں بھاگ رہے ہے میں اسماء اور یہ ماں روڈ کے درمیان کھڑے تھے اور ہمارے بلکل سامنے پولیس اور روڈ کے کنارے میں عوام۔ اچانک ہمیں آواز آئی کہ سنگتوں روڈ کے درمیان سے ہٹوں پولیس شیلنگ کررہا ہے ایہی پر ہماری آنکھوں میں جلن پیدا ہوا اور سانس بند ہوگئی۔ اتنے میں پولیس بھی آگے بڑھ رہی تھی جن کے ہاتھوں میں بندوقوں کے ساتھ ڈھنڈے بھی تھے وہ آگے آتے ہی لوگوں کو مارنا شروع کیا جب عوام نے ہمت نہیں آرہی تو وہ عورتوں کے دوپٹے کھنچے اور انہیں دکے دئے۔

پھر ایک لمحے کے لئے پولیس بیچھے گیا اور شیلنگ بند کی جب واپس سب لوگ روڈ پر جمع ہوئے تو ایہی پر بہت سے مائیں بے ہوش پڑے تھے۔ لوگوں نے جاکر پانی لائے اور ان ماؤں کو پلائے تو کچھ دیر بعد جب ان ماؤں کے انکھ کھولے تو وہ کہنے لگے ہمارے بچوں کے تصویریں کہا ہے یہ وہ لمحہ تھا جب ہر انسان کا روح بھی چینخ رہا تھا۔
اس لمحے ہمیں سمجھ بھی نہیں آرہا تھا کہ ہمارے ساتھ کیا ہورہا ہے۔ اور کیوں ہورہا ہے۔
پھر اس ہجوم کے درمیان سے ایک لڑکے کی آواز آئی بلوچوں! ہمت نہیں ہارنا آج پاکستان نے کھولے عام بلوچوں پر ظلم کیا اور اپنے نفرت کا اظہار کیا کہ وہ بلوچوں کو کبھی برداشت نہیں کرسکتا۔ اور بلوچوں ! مضبوط رہنا اور آج اپنے آنکھے کھولو اور اپنے دشمنوں کا نفرت دیکھو جو وہ آپ سے کررہے ہے۔
اور پھر سب لوگ واپس دھرنے کی طرف گئے اور وہی پر بیٹھ گئے ہر ماں ایک بار پھر بے امید ہوکر واپس آکر دھرنے میں بیٹھ گئی اتنے میں لوگوں کا بہت رش ہوا اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ اس دھرنے میں جمع ہوئے۔
میرے ساتھ بیٹھے ہوئے ساتھی سے میں نے پوچھا سنگت پولیس شیلنگ کیوں کررہا ہے؟
سنگت بولنے لگی ریاست کو بلوچ سے ہمیشہ ڈر لگتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے میں نے ستر سالوں سے بلوچوں پر ظلم کیا ہے اور اب بلوچ مجھ سے سوال کرنے آئے گا۔ اس لئے وہ بلوچ کو خاموش کرانا چاہتا ہے لیکن ہمیں خاموش نہیں بلکہ اپنے سوالات میں اور اضافہ کرنا ہے اور اپنے حق کے لئے آواز بلند کرنا ہے۔
نہیں سنگت آخر ریاست کو اتنا غصہ کس بات کا ہمارے ہاتھوں میں کوئی بندوق تو نہیں تھا جو وہ ہمیں مار رہا ہے ان ماؤں اور بہنوں کے ہاتھوں میں تو صرف تصویریں ہی تھی۔
ساتھ بیٹھے ہوئے دوسرے لڑکی نے جواب دیا سنگت یہ ریاست بہت بزدل ریاست ہے اسے ہمارے لوگوں کے تصویروں سے بھی ڈر لگتا ہے۔

ریاست کی درندگی کو دیکھ کر میں حیران سی تھی کیونکہ کبھی میری گمان میں بھی نہیں تھا کہ ریاست بلوچوں کے ساتھ اس طرح بھی کرسکتا ہے کیونکہ میں نے کبھی دشمن کے نفرت کا اندازہ ہی نہیں لگایا تھا میں اس لمحے ایسا محسوس کررہا تھا جیسے میں کوئی خواب دیکھ رہا ہوں۔

جب بہت سے لوگ اس دھرنے میں جمع ہوئے تو پھر سے سب لوگ اٹھ گئے اور پھر سے ریلی نکالی گئی۔ ہم سریاب روڈ سے ریڈزون کی طرف روانہ ہوئے سریاب روڈ سے لیکر جی پی او چوک تک پولیس اس ریلی کا پیچھا کرتا گیا اس ریلی میں سریاب میں ہونے والے پولیس کے ظلم اور زیادتیاں کی وجہ سے ہر نوجوان کے دل میں جذبہ اور ہمت اور بڑھ گیا تھا وہ پہلے سے زیادہ پرجوش نظر آرہے تھے۔

جب ریلی جی پی او چوک پہنچی تو پولیس نے ایک بار پھر اس ریلی کو روک لی اور پولیس نے ایک بڑی تعداد میں ریلی کو چاروں طرف سے گھیرے میں لے لیا سب لوگوں نے یہاں پر بہت نعرہ بازی کئے لیکن پولیس کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا جب ریلی میں شریک بی وائی سی کے ساتھیوں نے کہا کہ ہمیں یہاں نہیں روکنا ہے آگے سب ریڈزون کی طرف بڑھے جب ہم سب ریڈزون کی طرف بڑھنا شروع کیا۔ تو پولیس نے ایک بار پر پوری طاقت کے ساتھ ہم پر شیلنگ کا سلسلہ شروع کیا جب کچھ عورتیں آگے بڑھے تو ان کو پولیس نے گرفتار کیا۔ ہر طرف دھاوا ہی دھاوا تھا کچھ نظر نہیں آرہا تھا میری انکھیں جلن کی وجہ سے نہیں کھل رہے تھے اور سانس بلکل رک گئی تھی اور سینے میں بہت تیز جلن محسوس ہورہی تھی اور دل کے دھڑکنے بہت تیز ہوگے اور میں ایہی دیوار کے پاس گر گئی مجھے صرف لوگوں کی آوازیں سنائی دیں رہے تھے جن میں کچھ چیخ رہے تھے اور کچھ لوگ زور سے پولیس کو بددعائیں دے رہے تھے اور کچھ لوگ بلوچستان کی آزادی کے دعا کررہے تھے۔ اور میں نیم بےہوشی کی حالت میں پڑی تھی اچانک مجھے محسوس ہوا کہ کوئی مجھے پانی پلانے کی کوشش کررہا ہے۔ اور مجھے سے کہے رہا ہے۔ “سنگت آنکھیں کھولو” آہستہ آہستہ میں ہوش میں آئی اور جب میں نے آنکھیں کھولی تو ویسا ہی ہر طرف دھاوا تھا اور سڑک کے کنارے پر بہت سے میری طرح نیم بے ہوش پڑھے ہوئے تھے اور میرے پاس ایک بلوچ ماں اور دو نوجوان کھڑے تھے اور مجھ سے کہنے لگے سنگت اٹھو اور پانی پیہو۔ لیکن میں رونے لگی تو ماں نے مجھ سے کہا گودی کیوں رو رہے ہوں مضبوط بنو اور یہاں سے چلو دیکھو تو سہی پھر سے شیلنگ کررہا ہے۔

میں کہنے لگی اماں سریاب روڈ پر جب اس نے ہمیں مارا تو اس وقت میں پہلی بار اس ریاست کی ظلم کو دیکھ رہی تھی اور مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ واقعی کوئی ہمیں مار رہا ہے لیکن اب مجھے احساس ہورہا ہے کہ یہ کوئی خواب نہیں ہے یہ حقیقت میں ہمیں مار رہا ہے۔
تو وہ نوجوان مجھ سے کہنے لگا ہاں گودی یہ دشمن تو آج سے نہیں بلکہ ستر سالوں سے ہمیں مار رہا ہے لیکن اب ہمیں دشمن کے سامنے کمزور نہیں ہونا ہے اس کے سامنے نہیں رونا ہے۔ ہمیں ہمت کرنا ہوگا۔

اس نوجوان کی باتوں نے مجھے ہمت دی اور میں اٹھی اور اسماء کو ڈھونڈنے لگی۔ دیکھا اسماء بھی مجھ سے تھوڑا دور بے ہوش پڑی ہے اور میں جلدی سے اسماء کے پاس گئی اور اس پر پانی چڑھایا جب اسماء ہوش میں آئی تو اس کی سانس بلکل بند تھی اور آنکھے جلن کی وجہ سے بلکل سرخ تھے۔ اسماء مجھ سے کہنے لگی میں ٹھیک ہوں۔ آپ مجھے چھوڑو اور اس کے پاس جاؤ وہ بلکل بے ہوش ہے۔

جب میں دوسری طرف دیکھا تو ایک نوجوان نیم بے ہوش پڑا تھا میں جلدی سے اس کے پاس گیا تو اس کا چہرہ بلکل زرد تھا اور صرف آہستہ آہستہ سے سانس لے رہا تھا اس کی زبان سے صرف ایک ہی الفاظ نکل رہا تھا بی ایل اے زندہ آباد مجید بریگیڈ زندہ آباد۔
میں نے کہا سنگت جلدی سے کوشش کرو پانی پیؤ۔ آپ کی طبیعت بہت خراب ہے۔
وہ میری بات کا جواب نہ دیا اور واپس کہنے لگا بی ایل اے زندہ آباد۔
ہاں سنگت پہلے آپ سب لوگ ہمت کرو اور ٹھیک ہو جاؤ پھر ہم ایک ساتھ بی ایل اے زندہ آباد کا نعرہ لگائیں گے۔ لیکن ہمت کرو اور جلدی سے پانی پیؤ۔
وہ کہنے لگا سنگت اگر آج زندہ رہا تو اگلی بار دشمن کا سامنا مجھ سے احتجاجوں میں نہیں ہوگا انشاء اللہ میدان جنگ میں ہوگا۔ اور آپ سب کا بدلہ لونگا اگلی مرتبہ دشمن سے سوال نہیں پوچھوں گا بلکہ اسے جواب دونگا کہ وہ کسی بھی حالت میں ہمیں غلام نہیں رکھ سکتا۔

یہ الفاظ کہتے ہی اچانک وہ خاموش ہوئی اور اس کا چہرہ بلکل زرد پڑ گیا۔ میں اس نوجوان کا یہ حالت دیکھتے ہی رونے لگی اور باقی دوستوں کو بلوانے لگی۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔