سوراب میں جیٹ طیاروں کی بمباری ریاستی سفاکیت ہے۔ الطاف حسین

30

متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین نے بلوچستان کے علاقے سوراب میں 11 اگست کو پاکستانی جیٹ طیاروں کی بمباری کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’سفاکیت، سراسر ظلم اور بربریت‘‘ قرار دیا ہے۔

الطاف حسین نے اپنے بیان میں کہا کہ سوراب میں جیٹ طیاروں سے کی جانے والی بمباری کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ ان کے مطابق بمباری میں 30 سے زائد بچوں، خواتین اور بزرگ جانبحق ہوئے، تاہم اس واقعے کے حوالے سے قوم کو یہ بتایا جارہا ہے کہ عسکریت پسند بم تیار کررہے تھے اور اسی دوران دھماکہ ہوا۔

انہوں نے پاکستانی حکام کے مؤقف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر حکام کو پہلے سے معلوم تھا کہ وہاں دھماکہ ہونے والا ہے تو پھر فضائی کارروائی کیوں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مقامی لوگوں کے مطابق گھروں پر متعدد دھماکے ہوئے، جس سے ان کے بقول وہاں بمباری کیے جانے کا واضح اشارہ ملتا ہے۔

الطاف حسین نے افغانستان میں ایک اسپتال پر ہونے والے فضائی حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی پاکستانی حکام نے اسے دہشت گردوں کے ٹھکانے اور اسلحہ کی فیکٹری قرار دیا تھا، تاہم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تحقیقات نے اس مؤقف کو غلط قرار دیا۔

انہوں نے پاکستانی حکمرانوں اور عسکری اداروں سے بلوچستان، کشمیر اور خیبرپختونخوا میں شہریوں کے خلاف کارروائیاں بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ظلم کے نتیجے میں نفرت اور مزاحمت میں اضافہ ہوگا۔

الطاف حسین نے پنجاب کے عوام سے بھی اپیل کی کہ بلوچوں کو ملک دشمن قرار دے کر ان کے خلاف تشدد کی حمایت نہ کریں۔ انہوں نے بلوچستان کے پاکستان سے الحاق کی تاریخ پر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ عوام ’’ناجائز قبضے‘‘ کے خلاف مزاحمت کررہے ہیں۔

انہوں نے پاکستان کے عوام سے بلوچستان، کشمیر اور خیبرپختونخوا میں ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھانے کی اپیل کی اور کہا کہ جشن آزادی کے موقع پر ایک طرف لوگوں کو لاشیں دی جارہی ہیں جبکہ دوسری جانب جشن کی محافل منعقد کی جارہی ہیں۔

الطاف حسین نے سوراب بمباری میں ہلاک ہونے والے افراد سے اظہار یکجہتی کے لیے پاکستان بھر کے عوام سے چند گھنٹوں کے لیے ٹیلی ویژن بند رکھنے کی اپیل بھی کی۔

انہوں نے کہا کہ کراچی سے خیبر، بلوچستان سے کشمیر، ہزارہ اور گلگت بلتستان تک عوام شام 7 سے 9 بجے تک ٹیلی ویژن بند رکھیں یا گھروں کی لائٹس بند کرکے پرامن بلیک آؤٹ کریں۔

انہوں نے کہا کہ مظلوم بلوچوں، پختونوں، کشمیریوں اور دیگر متاثرہ افراد کو اپنا ہم وطن سمجھا جائے اور ان کے دکھ میں شریک ہوا جائے۔

الطاف حسین نے تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور ان کی جماعت کے خلاف کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حقوق کی آواز بلند کرنے والوں کو غدار اور ملک دشمن قرار دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر تحریک انصاف یا کوئی دوسری جماعت پرامن احتجاج کا پروگرام دیتی ہے تو ایم کیو ایم اس کا غیر مشروط ساتھ دے گی۔

انہوں نے پاکستانی عسکری اداروں سے مطالبہ کیا کہ ملک کے مظلوم عوام پر ظلم و ستم کا سلسلہ بند کیا جائے۔ ان کے مطابق موجودہ دور میں سوشل میڈیا کے باعث کسی بھی واقعے سے متعلق سرکاری بیانیے کو چھپانا ممکن نہیں۔

الطاف حسین نے سوراب بمباری میں ہلاک ہونے والے بچوں، خواتین اور مردوں کے لیے دعا کرتے ہوئے ان کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا۔