بی ایل اے نے پانچ جانبحق سرمچاروں کی تفصیلات جاری کردیں

65

تنظیم کے آفیشل چینل “ہکل” پر جاری بیان کے مطابق جانبحق ہونے والے سرمچاروں میں رحیم اللہ محمد حسنی عرف ظفر، خیرو عرف حمل، کاکا عرف کاکا رشید، مسعود بلوچ عرف سمیع اور شاہ نذر عرف بادل شامل ہیں

بی ایل اے کے مطابق رحیم اللہ محمد حسنی عرف ظفر، جو ضلع واشک کے علاقے بسیمہ کے رہائشی تھے، 18 اگست 2024 کو تنظیم میں شامل ہوئے اور بولان کے محاذ پر سرگرم رہے، انہوں نے مختلف فوجی کارروائیوں میں حصہ لیا اور 7 جولائی 2026 کو ہرنائی میں شہید ہوئے۔

تنظیم نے انکے حوالے کہا ہے انہوں نہایت کم عرصے میں اپنی صلاحیتوں کا جوہر منواتے ہوئے تنظیم کے قابل ترین جنگجو ساتھیوں میں شمار ہونا شروع کیا، بولان کے محاذ پر مختلف اوقات میں قابض اور غیر فطری دشمن کے بلوچستان پر قبضے کو چیلنج کرتے ہوئے آپ آگ کے شعلوں کی طرح یلغار ثابت ہوئے اور ان کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔ 

انہوں نے کہا ہے ظفر ابنِ لمہ راج بی بی بنیادی طور پر بسیمہ سے تعلق رکھتے تھے، لیکن جب انہوں نے غلامی کا احساس کیا تو اسے محض احساس تک محدود نہیں رہنے دیا، بلکہ اس کے خلاف عملی شکل میں میدانِ عمل میں جاری جدوجہد میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا اور بلوچ لبریشن آرمی کے رینکس میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے ان بہادر، پروفیشنل اور قومی فکر سے لیس نوجوانوں کے قافلے کا حصہ بنے، جنہوں نے بلوچستان پر دشمن کی موجودگی کو انتہائی محدود کر دیا ہے اور قابض کی شکست کو اپنی جدوجہد اور قربانیوں سے نوشتہ دیوار بنا دیا ہے۔ 

بی ایل اے کے مطابق گزشتہ دو برس کے عرصے میں جنگی محاذ پر “آپ ایک متحرک، ہر وقت جست و حرکت میں رہنے والے اور دشمن پر سنگین نوعیت کی کاری ضرب لگانے والے ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے”۔

انکے مطابق شہید رحیم نے آخری سانس تک دشمن کا بہادری اور حکمتِ عملی سے مقابلہ کیا اور تنظیمی طاقت و برتری کو ہمیشہ دشمن پر قائم رکھا۔ “آپ نے اپنے متعلقہ ریجن میں تنظیم کے اہم اور جارحانہ آپریشنز میں اپنا بھرپور انفرادی کردار ادا کرتے ہوئے ساتھی سنگتوں کے ساتھ مل کر مشنز کی کامیابی کو ہمیشہ یقینی بنایا اور 7 جولائی 2026 کو ہرجائی میں شہید ہوئے”۔

“بلوچ قومی آزادی کی جنگ میں آپ نے جو قربانیاں دی ہیں، وہ بلوچ تاریخ کے اوراق پر ہمیشہ نقش رہیں گی اور آپ کا لہو ہمیشہ انقلابی ساتھیوں اور قوم کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھے گا”۔

تنظیم کے چینل پر جاری کردہ مزید تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ ہرنائی میں شہید ہونے والے ساتھیوں میں شامل خیرو عرف حمل ولد شاہ باز سکنہ بولان بی ایل اے کے ان جانباز، بہادر اور قربانی و ایثار کے فکر و فلسفے سے لیس ان نڈر ساتھیوں میں شامل تھے، جنہوں نے گزشتہ 10 سالہ جدوجہد کے دوران بولان کے محاذ پر تنظیم کے نہایت اہم اور دشمن پر قہر ثابت ہونے والے آپریشنز میں مرکزی ساتھیوں کے طور پر کردار ادا کیا۔ 

تنظیم کے مطابق انہوں نے ہر جنگ میں بہادری، حکمت اور ایثار کا مظاہرہ کیا اور تنظیم کے ہر اہم فوجی آپریشن میں بطور فرنٹ لائن ساتھی موجود رہے “آپ نے اپنے بھائی شہید کاکا رشید اور دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر دشمن پر ایسی کاری ضربیں لگائیں، جو بلوچ جنگی تاریخ کے اہم ابواب کے طور پر یاد رکھے جاتے ہیں”۔

تنظیم نے کہا ہے شہید خیرو عرف عمل نے صرف بندوق اٹھانے کو ہی جنگ کا مرکز نہیں سمجھا، بلکہ اسے ایک حکمتِ عملی، منظم تنظیم، فکری تربیت، سخت جسمانی ٹریننگ اور پروفیشنل دفاعی عمل کے طور پر قبول کیا، اسی تناظر میں “آپ نے خود کو صرف ایک سپاہی نہیں بلکہ اثر چھوڑنے والے جہدکار کی حیثیت سے منوایا”۔ 

“پیراسماعیل کی تاریخی جنگ میں آپ کا کردار کلیدی تھا، جہاں آپ نے دشمن کا بھرپور مقابلہ کیا اس کے علاوہ دشمن پر تاریخی قہر ثابت ہونے والے آپریشن درہ بولان فیز دوم (ریل ہائی جیکنگ) میں آپ نے فرنٹ لائن جنگجو کے طور پر کردار ادا کیا، جہاں آپ نے دیگر سرمچاروں کے ساتھ مل کر دشمن کے سینکڑوں سپاہیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا”۔ 

“درہ بولان اول (مچھ) کے دوران بھی آپ نے بہادری اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے تاریخی جارحانہ آپریشن میں دشمن کو سنگین قسم کے نقصانات پہنچائے، ان تاریخی آپریشنز کے علاوہ مشدری، جھالاواب اور کٹوکچ کی جنگوں میں بھی آپ فرنٹ لائن سرمچار کے طور پر لڑے اور دشمن کا مقابلہ کیا”۔

“آپ نے اپنی خاندانی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے، جن کے تحت خاندان نے 1973 سے بلوچ مزاحمت میں حصہ لیا، اور خاندان کے حالیہ نوجوان شہید غنی اور شہید رحیم کے فکر کو جاری رکھتے ہوئے ہرنائی، بولان کے محاذ پر حالیہ دشمن کی پیش قدمی کا مقابلہ کیا اور بہادری سے لڑتے ہوئے شہادت حاصل کی۔ آپ کی قربانیاں اور تاریخی معرکے بلوچ جنگی تاریخ میں ہمیشہ ایک مثال کے طور پر یاد رکھے جائیں گے”۔

بی ایل اے کے مطابق کاکا عرف کاکا رشید، جو خیرو عرف حمل کے بھائی تھے، 2014 میں تنظیم میں شامل ہوئے اور بولان کے محاذ پر سرگرم رہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ درہ بولان، میشدری، لونی اور دیگر کارروائیوں میں شریک رہے اور 7 جولائی کو ہرنائی میں شہید ہوئے۔

“اس عرصے کے دوران آپ جنگی محاذ پر ہر حوالے سے ایک ثابت قدم، بہادر اور دشمن کو سنگین نقصانات سے دوچار کرنے والے ساتھیوں میں شامل رہے، انہوں نے جنگی محاذ پر عملی اثرات چھوڑے اور دیگر نئے ساتھیوں کے لیے ایک تجربہ کار اور مثالی ساتھی کے طور پر محاذ پر موجود رہے”۔

تنظیم نے انکے حوالے کہا انہوں نے بی ایل اے میں صرف خاندان کی قربانیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے شمولیت اختیار نہیں کی، بلکہ اسے ایک قومی قرض سمجھ کر ذمہ داری اور شعوری بنیادوں پر جنگی محاذ کا حصہ بنے اور اپنے عمل و کردار سے ثابت کیا کہ ایک حقیقی سرمچار کا کردار عملی میدان میں کس نوعیت کا ہوتا ہے۔ 

“آپ نے بولان کے محاذ پر درہ بولان کے تاریخی جنگی معرکے میں بطور فرنٹ لائن جہدکار اپنی ذمہ داریاں نبھائیں اور دشمن پر بجلی کی طرح ٹوٹ پڑے اس کے علاوہ میشدری اور لونی کی جنگوں میں بھی آپ فرنٹ لائن سرمچار کے طور پر موجود رہے اور دشمن پر تباہی برساتے رہے”۔

تنظیم نے کہا مچھ شہر پر تنظیم کا کنٹرول ہو یا ریل ہائی جیک کے تاریخی آپریشن میں دشمن پر ٹوٹ پڑنے کا جنگی معرکہ، “آپ نے ہر وقت خود کو ایک جانباز اور ثابت قدم سرمچار کے طور پر منوایا اور اپنی محنت سے ساتھی سرمچاروں کے لیے ایک عملی مثال بنے رہے۔

بی ایل اے کے مطابق انہوں نے اس طویل عرصے میں ایک مرتبہ بھی تھکن اور کمزوری کا مظاہرہ نہیں کیا، بلکہ ان کی مسلسل ثابت قدمی، محاذ پر موجودگی اور دشمن کا بھرپور مقابلہ ساتھیوں کے لیے ایک مثالی کردار کے طور پر موجود رہا،  آخری دم تک دشمن کا بہادری سے مقابلہ کیا اور ہمیشہ کی طرح آخری سانس تک قومی آزادی کے فکر و پرچم کو بلند رکھا۔ 

بی ایل اے کے مطابق دشمن کا جوانمردی سے مقابلہ کرتے ہوئے 7 جولائی کو ہرنائی کے مقام پر انہوں نے شہادت حاصل کی ان کی قربانیاں ساتھیوں اور قوم کے لیے ایک مثالی کردار کے طور پر ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

تنظیم کی جانب سے جاری تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ مسعود بلوچ عرف سمیع، سکنہ وشبود، ضلع پنجگور، 2020 میں تنظیم کا حصہ بنے جبکہ 2023 سے پہاڑی محاذ پر سرگرم رہے۔

شہید مسعود عرف سمیع گزشتہ چھ سالوں سے بلوچ لبریشن آرمی کا حصہ تھے، جہاں انہوں نے چار سال تک شہری محاذ اور دو سال تک پہاڑی محاذ پر متحرک ہو کر دشمن کے خلاف برسر پیکار رہے۔ 

تنظیم نے کہا ہے شہری ذمہ داریوں کے دوران انہوں نے کئی مرتبہ سرمچار ساتھیوں کو دشمن کے خلاف اہم معلومات فراہم کیں، جو کئی اہم مسلح سرگرمیوں کی کامیابی کا سبب بنیں، انہوں نے شہری محاذ کے دوران ساتھی سرمچاروں کے ساتھ مل کر کئی مرتبہ دشمن پر کاری ضرب لگائیں۔ 

بی ایل اے کے مطابق جب تنظیمی احکامات کی روشنی میں انہوں نے شہر سے جنگی محاذ کو اپنا سنگر بنایا تو اپنی ثابت قدمی اور بہادرانہ کردار سے کئی مرتبہ دشمن کو شدید نقصان پہنچایا وہ مسلح جنگ کے جدید طریقہ کار اور نئے تقاضوں سے ہم آہنگ ساتھی تھے۔ 

انہوں نے کہا شہید مسعود کے لیے مسلح جدوجہد قبضہ گیر کے خلاف صرف جنگ کا نام نہیں تھی، بلکہ وہ اسے قومی ریاست کی تشکیل کا ایک اہم مرحلہ سمجھتے تھے، انہوں نے بلوچ مسلح جدوجہد کے راستے کا انتخاب ایک فکری و نظریاتی فریم ورک کے دائرے میں رہ کر کیا اور آخر تک مخلصی کے ساتھ اس سے جڑے رہے۔ 

“انہوں نے جنگی محاذ پر دشمن کی اقتصادی سرگرمیوں کو متاثر کرنے کی حالیہ جنگی حکمتِ عملی کے تحت پنجگور کے محاذ پر کئی مرتبہ قبضہ گیر سے جڑے مفادات کو نقصان پہنچایا، جبکہ متعلقہ ریجن میں ڈیتھ اسکواڈ اور دشمن کے اہلکاروں کے خلاف اہم فوجی سرگرمیوں میں وہ ہمیشہ پیش پیش رہے”۔

بی ایل اے نے کہا وہ تنظیم کے ان بہادر اور جانباز سرمچاروں میں شمار ہوتے تھے جو قبضہ گیر کے اہلکاروں کا ہر میدان اور ہر محاذ پر مقابلہ کرنے اور انہیں شکست دینے کی صلاحیت رکھتے تھے، اور کئی مرتبہ انہوں نے دشمن سے آمنے سامنے کی لڑائی بھی لڑی تھی، وہ ساتھیوں کے درمیان ایک بہادر جنگجو اور سرمچار کے طور پر جانے جاتے تھے۔ 

بی ایل اے نے انکے حولے بتایا ہے کہ شہید مسعود قومی آزادی کے فکر و نظریے سے مضبوط تعلق رکھنے والے سرمچار تھے اور آخر تک انہوں نے اس فکر کی آبیاری کی، انہوں نے تنظیم کے زیرِ کنٹرول شاہراہ پر دشمن کی پیش قدمی کو ناکام بناتے ہوئے دوبدو لڑائی میں شہادت پائی انہوں نے آخر تک اس سوگند کی پاسداری کی جو انہوں نے تنظیم میں شمولیت کے وقت لی تھی کہ وہ آخری سانس تک وطن کا دفاع کریں گے انکی قربانیاں بلوچ قومی آزادی کی تاریخ میں سنہرے الفاظ میں یاد رکھی جائیں گی۔

بی ایل اے کے میڈیا پر جاری کردہ تفصیلات میں مزید کہا گیا ہے کہ اسی طرح شاہ نذر عرف بادل، سکنہ پروم، ضلع پنجگور، 2023 میں بطور شہری گوریلا تنظیم سے وابستہ ہوئے اور بعد ازاں شورپارود کے پہاڑی محاذ پر منتقل ہوئے اور 13 جولائی کو شہید ہوئے، شورپارود کے محاذ پر انہوں نے کئی اہم مواقع پر دشمن کو کاری ضربیں لگائیں اور ساتھیوں کے درمیان اپنی جفاکشی اور محنت کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔ 

تنظیم کے مطابق وہ ان محنتی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے جو تھکن، جسمانی کمزوری یا کوتاہی جیسے رویوں سے ناآشنا تھے۔ یہی مضبوط اعصاب کا رویہ انہیں منفرد بناتا تھا۔ 

“اپنی محنت اور جفاکش طبیعت کے علاوہ وہ جنگی محاذ پر ایک متحرک سرمچار تھے۔ آپریشن درہ بولان اول کے تاریخی آپریشن میں انہوں نے دشمن کے خلاف اہم معرکوں میں حصہ لیا، جبکہ آپریشن ہیروف اول میں بھی انہوں نے اپنی انفرادی ذمہ داریاں بخوبی نبھائیں”۔

تنظیم نے کہا ہے ان تاریخی آپریشنز کے علاوہ بھی انہوں نے کئی چھوٹی بڑی فوجی کارروائیوں میں دشمن کو نشانہ بنا کر نقصان پہنچایا، شورپارود کے بعد انہوں نے پنجگور کے محاذ پر مورچہ سنبھالا اور پنجگور شہر و گرد و نواح میں فوجی کارروائیوں میں بھرپور کردار ادا کیا تنظیم کی طرف سے جو بھی ذمہ داریاں انہیں سونپی جاتیں، وہ انہیں احسن طریقے سے نبھانے کی صلاحیت رکھنے والے ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے، اور ان کا یہ انقلابی رویہ آخر تک ان کی سرگرمیوں میں نمایاں رہا۔

بی ایل اے کے مطابق شہید شاہ نذر نے قومی ریاست کی بحالی کے لیے گزشتہ تین سال تک مسلسل جدوجہد کی، اور بالآخر اپنا لہو بہا کر خود کو بلوچ قومی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر کردیا۔ 

“انہوں نے سرزمین کی آزادی کے لیے خود کو قربان کر کے اپنے لہو سے دیگر سینکڑوں نوجوانوں کو یہ پیغام دیا کہ وہ قومی آزادی کی اس عظیم جدوجہد میں شامل ہو کر اپنی قومی ذمہ داریاں پوری کریں۔ ان کی قربانیاں بلوچ قومی تاریخ کا ہمیشہ حصہ رہیں گی”۔