کوئٹہ: جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج جاری، جہانزیب محمد حسنی کی والدہ اور بیٹی کی شرکت

21

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ چیئرمین نصراللہ بلوچ کی قیادت میں 6225ویں روز بھی جاری رہا۔

آج جبری طور پر لاپتہ جہانزیب محمد حسنی کی والدہ اور بیٹی نے احتجاجی کیمپ میں شرکت کرکے ان کی عدم بازیابی کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اور جہانزیب محمد حسنی کی باحفاظت بازیابی کی اپیل کی۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ جہانزیب محمد حسنی کو 3 مئی 2016 کو پاکستانی فورسز نے ان کے گھر، کلی قمبرانی کوئٹہ سے اہلخانہ کے سامنے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کردیا۔ اس واقعے کو کئی سال گزر چکے ہیں، مگر آج تک ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انصاف کے حصول کے لیے انہوں نے عدالتوں، لاپتہ افراد کمیشن اور مختلف حکومتی اداروں کے دروازے کھٹکھٹائے ہیں، جبکہ اپنے پیارے کی بازیابی کے لیے پرامن احتجاج بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ اس کے باوجود ان کی فریاد نہیں سنی جا رہی، جس کے باعث پورا خاندان شدید ذہنی کرب، بے چینی اور اذیت کا سامنا کر رہا ہے۔

وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ جہانزیب محمد حسنی سمیت تمام جبری طور پر لاپتہ افراد کی باحفاظت بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں آئین و قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جبری گمشدگیوں کے مکمل خاتمے اور اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔