پہلے اپنا گھر سنبھالیں، پھر دنیا کے معاملات حل کریں۔ اختر مینگل

60

بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی شاید نیویارک میں کوئی ایس ایچ او ڈھونڈنے گئے ہیں جو ہماری مرمت کر سکے۔ شاید ہمارے اپنے ایس ایچ او اتنے قابل نہیں رہے کہ انہیں باہر سے مدد لانا پڑ رہی ہے۔

تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سردار اختر مینگل نے مزید کہا کہ اتنے بڑے واقعات ہونے کے باوجود دھرنے پر بیٹھے لوگوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔ ان لوگوں سے اپنا گھر تو سنبھالا نہیں جاتا، لیکن بین الاقوامی معاملات حل کرنے نکل پڑے ہیں۔ میرے خیال میں یہ ان قوموں کی بھی بدقسمتی ہے جنہوں نے ایسے لوگوں کو اپنا منصف منتخب کیا ہے۔ ان سے کوئی پوچھے کہ پہلے اپنا گھر سنبھالیں، پھر دنیا کے معاملات حل کرنے کی بات کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم اسلام آباد یا لاہور آتے ہیں اور یہی باتیں جب ہم کرتے ہیں تو انہیں بہت تکلیف پہنچتی ہے۔ ہماری یہ باتیں انہیں چبھتی ہیں۔ تو آپ اندازہ کریں، جب ہماری باتیں انہیں چبھتی ہیں تو ان کی گولیوں کا ہم پر کیا اثر ہوتا ہوگا؟ ہمارے بچوں کے سینوں اور ان کی کھوپڑیوں پر جو گولیاں ماری جاتی ہیں، کیا ان کا درد ہمیں محسوس نہیں ہوتا؟ بلوچستان میں کوئی ایسا دن نہیں گزرتا کہ کسی نہ کسی علاقے میں جھگڑے نہ ہو رہے ہوں۔ کوئی ایسا وقت نہیں گزرتا کہ لوگوں کو نہ اٹھایا جاتا ہو۔

انہوں نے کہا کہ ہم بھی انسان ہیں، لوہا بھی گھس جاتا ہے، ہماری ہڈیاں لوہے کی بنی ہوئی نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان، مہرنگ بلوچ، علی وزیر، ایمان مزاری اور کئی دیگر افراد کو 17، 17 سال کی سزائیں دی گئی ہیں، جبکہ سب سے بڑا جرم آئین توڑنا اور ملک توڑنا ہے۔ مجھے کسی ایک شخص کا نام لکھ کر بتائیں، چاہے وہ باوردی ہو یا بے وردی، جس نے آئین کی خلاف ورزی کی ہو اور اسے ایک دن کی بھی سزا ملی ہو۔ میں 25 سال کی بات نہیں کر رہا، صرف ایک دن کی سزا بتا دیں۔ جن لوگوں نے ملک توڑا، ان میں سے کسی ایک کو سزا ہوئی ہے؟ کیا عمران خان نے ملک توڑا؟ کیا مہرنگ بلوچ نے ملک توڑا یا آئین توڑا؟ کیا ایمان مزاری نے آئین توڑا؟

انہوں نے تو آپ کے بنائے ہوئے آئین، اس کے تحت چلنے والے قانون اور انہی عدالتوں میں اپنی فریادیں پیش کی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی لوگوں کو پابندِ سلاسل نہیں کیا جاتا۔ اگر ریاست واقعی بلوچستان، کشمیر اور ملک کے مسائل حل کرنا چاہتی ہے تو اسے سنجیدگی اور دلچسپی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اگر اسے اسی طرح چلانا چاہتے ہیں تو چلاتے رہیں، مگر یہ زیادہ دیر تک نہیں چلے گا۔ اس وقت تو بس اسے گھسیٹا جا رہا ہے۔