کوئٹہ: جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج جاری

26

جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ آج 6212ویں روز میں داخل ہوگیا۔

اس دوران مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے جبری گمشدگیوں کے خاتمے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔

آج احتجاجی کیمپ میں جبری لاپتہ شاہد احمد کرد اور نور محمد کرد کے اہلِ خانہ بھی موجود تھے۔ انہوں نے اپنے پیاروں کی باحفاظت بازیابی کے لیے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کئی ماہ گزر جانے کے باوجود انہیں اپنے عزیزوں کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں، جس کے باعث خاندان شدید ذہنی اذیت اور بے چینی کا شکار ہے۔

اس موقع پر وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے شاہد احمد کرد، نور محمد کرد اور دیگر تمام لاپتہ افراد کی فوری بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جبری گمشدگیاں انسانی حقوق اور آئین کی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وی بی ایم پی کی پرامن، جمہوری اور آئینی جدوجہد جبری گمشدگیوں کے خاتمے اور تمام لاپتہ افراد کی بازیابی تک جاری رہے گی۔

انہوں نے حکومت، متعلقہ اداروں اور انصاف کی فراہمی کے لیے قائم اداروں سے مطالبہ کیا کہ لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کی پریشانیوں کا احساس کرتے ہوئے ان کے پیاروں کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے اور اگر کسی فرد پر کوئی الزام ہے تو اسے قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے۔