جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج 6211 ویں روز بھی جاری، مٹھا خان مری کے لواحقین کی شرکت

1

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم دنیا کا طویل اور پُرامن احتجاجی کیمپ آج بروز بدھ تنظیم کے چیرمین نصراللہ بلوچ کے قیادت میں 6211ویں روز بھی جاری رہا۔

اس موقع پر کامریڈ منظور بلوچ نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے جبری گمشدگیوں کے خاتمے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے مطالبے کی حمایت کی۔

آج کے احتجاجی کیمپ میں جبری لاپتہ مٹھا خان مری ولد کابل خان کے بھائی مندا خان مری نے شرکت کی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے بھائی کو 18 مئی 2019 کو کوئٹہ سے مبینہ طور پر ملکی اداروں کے اہلکاروں نے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا، جس کے بعد سے ان کے اہلِ خانہ مسلسل ان کی بازیابی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

مندا خان مری نے کہا کہ وہ اپنے بھائی کی باحفاظت بازیابی کے لیے لاپتہ افراد سے متعلق قائم کمیشن، مختلف ریاستی اداروں اور حکومتی نمائندوں کے سامنے پیش ہو چکے ہیں، تاہم سات برس گزرنے کے باوجود انہیں انصاف نہیں ملا اور نہ ہی مٹھا خان مری کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مٹھا خان مری کے کم سن بچے اپنے والد کی جدائی میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جبکہ ان کی اہلیہ اور پورا خاندان شدید ذہنی کرب اور اذیت کا شکار ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مٹھا خان مری کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے اور ان کے اہلِ خانہ کی بے یقینی کا خاتمہ کیا جائے۔

وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے حکومت اور متعلقہ اداروں کے سربراہان سے اپیل کی کہ وہ انسانی ہمدردی کے بنیاد پر مٹھا خان مری سمیت تمام لاپتہ افراد کی بازیابی اور جبری گمشدگیوں کے مکمل سدباب کو یقینی بنائیں۔