کوئٹہ: فورسز کے طاقت کے استعمال کے بعد احتجاج مزید پھیل گیا، بائی پاس بند، ٹریفک معطل

51

کوئٹہ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی قیادت ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی بلوچ کو عمر قید کی سزا کے خلاف احتجاجی سلسلہ بدستور جاری ہے، جبکہ صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق برما ہوٹل، سریاب میں لواحقین کی جانب سے ایک پُرامن احتجاج کا آغاز کیا گیا تھا، جس کا مقصد گرفتار رہنماؤں کی رہائی اور ان کے خلاف جاری کارروائیوں کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔

تاہم مظاہرین کے مطابق پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے طاقت کے استعمال اور شیلنگ کے بعد صورتحال بگڑ گئی۔

اس کارروائی کے ردِعمل میں احتجاج مزید پھیل گیا اور مظاہرین نے بائی پاس کو بھی بند کر دیا۔ اس کے باعث مشرقی بائی پاس پر ٹریفک کی روانی مکمل طور پر معطل ہے، جبکہ فورسز کی بڑی نفری کو علاقے میں تعینات کیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل بشیر چوک بھی احتجاج کے باعث بند کیا جا چکا ہے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک گرفتار افراد کو بلاشرط رہا نہیں کیا جاتا احتجاج جاری رہے گا اور اس کا دائرہ مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔

مظاہرین نے کوئٹہ کے عوام، انسانی حقوق کی تنظیموں، وکلا، سیاسی کارکنوں اور سول سوسائٹی سے اپیل کی ہے کہ وہ دھرنے میں شامل ہو کر یکجہتی کا اظہار کریں اور انصاف، بنیادی حقوق اور قانون کی بالادستی کے لیے آواز بلند کریں۔