پاکستان کا افغانستان میں اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ – حملوں میں درجنوں عام شہری ہلاک ہوئے، افغان حکام

32

پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ اتوار کی شب ’مستند انٹیلیجنس اطلاعات‘ کی بنیاد پر پاکستانی فورسز نے افغانستان کے علاقوں پکتیکا، پکتیا اور کنٹر میں جماعت الاحرار اور تحریک طالبان پاکستان سے منسلک تین اہداف کو کامیابی سے نشانہ بناتے ہوئے 25 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

تاہم افغان طالبان کے ترجمان نے اس کارروائی کو ’بزدلانہ‘ اور ’سفاکانہ‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان فوج کے فضائی حملوں میں سویلین علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افغان شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

پاکستان کا مزید کہنا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں شدت پسندوں کے ان مراکز میں موجود بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔

اتوار کی شب پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا تارڑ کی جانب سے جاری ’ایکس‘ پر پوسٹ کردہ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں شدت پسندی کے واقعات اور سنیچر کی شب کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کے بعد دو مختلف کارروائیوں میں پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں جماعت الاحرار اور فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے کیمپوں اور ٹھکانوں کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔

خیال رہے کہ پاکستانی حکام کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے لیے سرکاری سطح پر ’فتنہ الخوارج‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔

پاکستانی وزیر اطلاعات کے مطابق 28 جون (اتوار) کو ہی سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں افغان سرحد کے قریب شدت پسندوں کے ایک گروہ کے خلاف بھی انٹیلیجنس بنیادوں پر زمینی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں شدت پسند کمانڈر خان فروش عرف زبل سمیت کالعدم جماعت الاحرار سے تعلق رکھنے والے مزید تین شدت پسندوں کو ہلاک جبکہ کئی زخمی ہوئے۔

دوسری جانب افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر چند زخمی بچوں کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان پر کیے گئے فضائی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں عام شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

طالبان ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ہم جارحیت کے اس بزدلانہ فعل کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور اسے ایک جرم اور سفاکانہ فعل سمجھتے ہیں۔‘ طالبان ترجمان کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں میں پکتیکا کے علاقے جانی، پکتیا کے علاقے سمکانی اور کنڑ کے علاقے منورہ میں عام شہری آبادیوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔

’زیادہ نقصان پکتیا کے گاؤں مندی خیل میں ہوا‘

بی بی سی پشتو کے مطابق اتوار کی شب پاکستان کی جانب سے کیے گئے حملوں میں سب سے زیادہ جانی نقصان صوبہ پکتیا کے گاؤں مندی خیل میں ہوا ہے۔

طالبان حکومت کے سکیورٹی ذرائع نے بی بی سی پشتو کو بتایا کہ اس گاؤں میں تقریباً 100 افراد زخمی اور ہلاک ہوئے ہیں۔ بی بی سی پشتو کے مطابق وہ آزادنہ طور پر جانی نقصان سے متعلق اس دعوے کی تصدیق نہیں کر پائے ہیں۔

مقامی ہسپتال کے چیف فزیشن ڈاکٹر نوروز نے کہا ہے کہ حملے کے بعد 40 سے زائد زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جن میں سے شدید زخمیوں کو گردیز کے ہسپتال ریفر کر دیا گیا ہے۔

بی بی سی پشتو کے مطابق پکتیکا کے علاقے گیان میں ہونے والے حملے میں محمد امین نامی شخص کا گھر نشانہ بنا، جس کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

صوبہ کنڑ میں طالبان حکومت کے مقامی حکام نے بی بی سی کے سید عبداللہ نظامی کو بتایا کہ ضلع مرورہ کے علاقے بارول میں رات گئے ایک فضائی حملے میں ایک گھر کو بھی نشانہ بنایا گیا، تاہم علاقہ دور دراز ہونے کے باعث تاحال جانی نقصان یا تباہی کی تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔

کچھ زخمی افراد اور عینی شاہدین، جن کی ویڈیوز بی بی سی پشتو کو موصول ہوئی ہیں، نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ رات پاکستانی حملوں میں رہائشی عمارتوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔