مختلف محاذوں پر قابض پاکستان کے خلاف مزاحمت کی نئی تاریخ رقم کرنے والے سرمچاروں کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں۔ میجر گہرام بلوچ

1

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی ایل ایف مادرِ وطن کی آزادی اور بلوچ قومی بقا کے لیے مختلف محاذوں پر قابض پاکستان کے استعماری ریاستی مشینری اور مکروہ عزائم کے خلاف لڑتے ہوئے شہادت پانے والے اپنے نڈر، مخلص اور باصلاحیت سرمچاروں کو ان کی لازوال قربانیوں پر دل کی گہرائیوں سے خراجِ عقیدت اور سلام پیش کرتی ہے۔ یہ عظیم قربانیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بلوچ قوم اپنے وطن پر غاصبانہ قبضے اور ظلم و جبر کے سامنے کبھی سر تسلیم خم نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ دنوں نوشکی، قلات، خضدار اور بلیدہ سمیت بلوچستان کے طول و عرض میں مختلف محاذوں پر بی ایل ایف کے متعدد بہادر فکری سرمچاروں نے تنظیمی و عسکری امور کی انجام دہی، اور دشمن سے دو بدو معرکوں میں شہادت پاکر اپنے لہو سے  جدوجہد آزادی کے چراغ کو روشن رکھا ہے۔ تحریکِ آزادی محض ایک عسکری مزاحمت کا نام نہیں، بلکہ یہ گہرے سیاسی شعور اور فکری پختگی پر استوار ایک قومی بیداری ہے جسے ریاستی بربریت کے ذریعے کبھی دبایا نہیں جا سکتا۔ ہمارے سرمچاروں کی یہ فکری اور عسکری خدمات اور قربانیاں تحریک کا وہ گراں قدر اثاثے ہیں جن کا متبادل دشمن کے پاس موجود نہیں۔ ان کےلہو کا ایک ایک قطرہ بلوچ سماج میں قومی آزادی کی شعور اور جذبے کو مزید جلا بخشے گا۔

ترجمان نے کہا کہ مختلف معرکوں کے دوران جامِ شہادت نوش کرنے والے سرمچاروں کے کوائف، ان کے تنظیمی، سیاسی اور عسکری خدمات کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

انہوں نے کہا کہ شہید کپٹن ہاشم عرف کمبر ولد ناصر، سکنہ میناز بلیدہ 21 جون 2026 کو بلیدہ اور تربت کے درمیان گروک روڈ کے مقام پر قابض فوج کے ایک ڈرون حملے کا نشانہ بن کر شہید ہوگئے۔

ترجمان نے کہا کہ شہید کپٹن ہاشم نے 2022 میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے فلیٹ فارم سے اپنے جدوجہد کا آغاز کیا۔ باقاعدہ پہاڑی محاذ پر منتقل ہونے سے قبل وہ ایک سال تک شہری و علاقائی نیٹ ورک میں دشمن کی نقل و حرکت کی نگرانی، راشن اور فوجی ساز و سامان کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس خفیہ تنظیمی کام کے بعد وہ اپریل 2023 میں پہاڑی محاذ پر منتقل ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ اُن کے  بے پناہ عسکری و تنظیمی صلاحیتوں کی بدولت تنظیم نے انہیں کپٹن کے رینک پر فائز کیا۔ انہوں نے بلیدہ، پروم، زامران، دشت، کلبر اور سیاجی جیسے کٹھن محاذوں پر گراں قدر  جنگی اور دیگر تنظیمی خدمات سرانجام دیں۔ وہ ایک انتہائی محنتی، جفاکش، مہربان اور نڈر سرمچار تھے، جنہوں نے اپنی تکنیکی و عسکری مہارت سے کیمپ اور تنظیم کے لیے کئی اہم دفاعی و جنگی وسائل خود تیار کیے۔

ترجمان نے کہا کہ 21 جون 2026 کو شہید کپٹن ہاشم اپنے دستے کے ہمراہ کیمپ سے تنظیمی مشن اور گشت پر روانہ ہوئے تھے۔ اسی دن دوپہر 1 بجے بلیدہ اور تربت کے درمیان گروک روڈ پر قابض پاکستانی فوج نے ان پر ڈرون حملہ کیا، جس کے نتیجے میں کیپٹن ہاشم شہید ہو گئے۔ بی ایل ایف شہید کپٹن ہاشم عرف کمبر ولد ناصر، سکنہ میناز بلیدہ کو اس کی شہادت پر خراج عقیدت اور سلام پیش کرتی ہے۔ اس عظیم بہادر قومی فرزند کی قربانیاں تحریک کا لازوال اثاثہ ہیں۔ ہم ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے آزادی کی منزل تک جنگ جاری رکھنے کا عہد کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہید عبدالرحیم بھی 21 جون 2026 کو بلیدہ اور تربت کے درمیان گروک روڈ کے مقام پر قابض فوج کے ڈرون حملے کا نشانہ بن کر اپنے ساتھی کمانڈر کیپٹن ہاشم کے ہمراہ جامِ شہادت نوش کر گئے۔

ترجمان نے کہا کہ شہید عبدالرحیم نے ستمبر 2024 میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے فلیٹ فارم سے اپنے جدوجہد کا آغاز کیا۔ باقاعدہ پہاڑی محاذ پر منتقل ہونے سے قبل 6 ماہ تک وہ شہری و علاقائی نیٹ ورک میں تنظیمی امور سرانجام دیتا رہا، بالخصوص فکری و سیاسی کام میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس متحرک تنظیمی کام کے بعد، وہ باقاعدہ پہاڑی محاذ پر منتقل ہوئے۔
وہ اپنی بے پناہ فکری و عسکری صلاحیتوں کی بدولت تنظیم میں نمایاں مقام پر فائز تھے۔ وہ بلیدہ، زامران، پروم اور بالگتر جیسے کٹھن محاذوں پر گوریلا جنگ کا وسیع تجربہ رکھتے تھے اور ہمیشہ فیلڈ میں متحرک رہے۔ وہ ایک انتہائی محنتی، جفاکش، شفیق، نڈر، فکری اور نظریاتی طور پر پختہ سرمچار تھے، جنہوں نے اپنے اعلیٰ سیاسی شعور اور جنگی مہارت کی بدولت تحریک کو فکری و عسکری، دونوں محاذوں پر جلا بخشی۔

ترجمان نے کہا کہ بی ایل ایف اپنے اس مخلص اور نظریاتی سنگت شہید عبدالرحیم عرف استاد عمران ولد محمد عمر، سکنہ میناز بلیدہ کی شہادت پر انہیں سلام عویدت پیش کرتی ہے۔ ان کی قربانی قومی تحریک کا ایک عظیم سرمایہ ہے۔ تنظیم ان کے مشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہید شعیب زہری 17 مئی 2026 کو خضدار میں دشمن کے خلاف ایک کارروائی کے دوران بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔
ترجمان نے کہا کہ شہید سنگت شعیب زہری نے سال 2024 میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے فلیٹ فارم سے اپنے جدوجہد کا آغاز کیا۔ باقاعدہ عسکری محاذ پر منتقل ہونے سے قبل وہ تنظیمی صفوں میں فکری و سیاسی امور کو انتہائی تندہی سے سرانجام دیتا رہا اور قلیل عرصے میں عسکری ماحول کے تقاضوں کو سمجھا۔ اس لازمی تنظیمی کام کے بعد، وہ باقاعدہ طور پر محاذ پر منتقل ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اپنی عسکری صلاحیتوں کی بدولت انتہائی مختصر عرصے میں کئی اہم قومی ذمہ داریاں نبھا چکے تھے۔ انہوں نے خضدار اور زہری کے کٹھن محاذوں پر گوریلا کارروائیوں میں حصہ لیا اور تنظیمی نیٹ ورک کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ ایک انتہائی مخلص، جفاکش، وفادار اور نڈر سرمچار تھے، جنہوں نے انتہائی مخلصانہ انداز میں خدمات سرانجام دیں اور تنظیمی ڈسپلن پر سختی سے کاربند رہ کر دشمن کے خلاف عسکری مہمات کے دوران ہمیشہ ہراول دستے میں رہ کر کردار ادا کیا۔
17 مئی کو خضدار کے علاقے لاکھوریان میں ایک کارروائی کے دوران سرمچاروں نے پولیس اہلکاروں کو گھیرے میں لے کر انہیں ہتھیار ڈالنے کا حکم دیا، تو پولیس اہلکاروں نے ہتھیار ڈالنے کے بجائے فائرنگ شروع کر دی۔ سرمچاروں نے پوزیشیں سنبھال کر جوابی کارروائی کی۔ اس دو بدو فائرنگ کے تبادلے میں سنگت شعیب زہری بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ شہید شعیب زہری عرف فاروق ولد محمد ابراہیم، سکنہ تلاوان زہری کی شہادت پر بی ایل ایف انہیں سرخ سلام پیش کرتی ہے، اور اپنے اس سنمول ساتھی و عظیم قومی فرزند کی قربانی کو تحریک کا اثاثہ مانتے ہوئے ان کے مشن کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ شہید کفایت اللہ بادینی 14 مئی 2026 کو نوشکی کے علاقے ابڑ میں قابض فوج کے ڈرون حملے کا نشانہ بن کر جامِ شہادت نوش کر گئے۔
شہید کفایت اللہ بادینی نے اپریل 2024 میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے فلیٹ فارم سے اپنے جدوجہد کا آغاز کیا۔ باقاعدہ پہاڑی محاذ پر منتقل ہونے سے قبل اس نے تنظیمی و سیاسی ڈسپلن اور جنگی اصولوں کی بنیادی تربیت حاصل کیا۔ اس فکری تربیت کے بعد وہ باقاعدہ طور پر پہاڑی محاذ پر منتقل ہو گئے۔
وہ عسکری میدان میں ایک انتہائی جفاکش، مخلص اور جنگی اصولوں سے گہری واقفیت رکھنے والے سرمچار تھے۔ انہوں نے نوشکی اور شال کے اطراف کے کٹھن محاذوں پر گوریلا کارروائیاں سرانجام دیں اور تنظیمی فرائض تندہی سے نبھائے۔ وہ ایک انتہائی محنتی، جفاکش، تنظیم اور جنگی اصولوں سے واقف سرمچار تھے، جنہوں نے اپنی انتھک محنت، تنظیمی ڈسپلن اور اعلیٰ سیاسی شعور کی بدولت تنظیمی صفوں میں اپنے لیے ایک محترم، و پر وقار مقام پیدا کیا۔
14 مئی کو سرمچاروں کا دستہ نوشکی کے علاقے ابڑ میں تنظیمی امور کے سلسلے میں گشت پر مامور تھا، تو قابض فوج کی جانب سے ان پر ڈرون حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں سنگت کفایت اللہ شہید ہو گئے۔ بی ایل ایف شہید کفایت اللہ بادینی عرف بادل بلوچ ولد حبیب اللہ بادینی, سکنہ سریاب روڈ  شال کی شہادت پر انہیں خراج عقیدت اور سلام پیش کرتی ہے۔ اس عظیم قومی فرزند کی قربانیاں تحریک کا لازوال اثاثہ قرار ہیں۔ تنظیم ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے آزادی کی منزل تک جنگ جاری رکھنے کا عہد کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہید زکریا زہری 14 اپریل کو قلات کے علاقے ناگاؤ میں قابض فوج کے ساتھ جھڑپ میں دلیری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔
شہید سنگت زکریا زہری نے سال 2025 میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے فلیٹ فارم سے اپنے جدوجہد کا آغاز کیا۔ باقاعدہ عسکری محاذ پر منتقل ہونے سے قبل اس نے بنیادی تنظیمی اور فکری تربیت حاصل کیا۔ فکری پختگی حاصل کرنے کے بعد وہ جنگی خدمات کیلئے باقاعدہ طور پر قلات کے محاذ پر منتقل ہو گئے۔
وہ اپنی عسکری و تنظیمی صلاحیتوں کی بدولت انتہائی مختصر عرصے میں کئی اہم تنظیمی ذمہ داریاں سرانجام دے چکے تھے۔ انہوں نے قلات اور ناگاؤ کے مختلف محاذوں پر گوریلا جنگ کے دوران ہمیشہ ہراول دستے میں رہا اور گشتی ٹیموں کو فعال رکھا۔ وہ ایک انتہائی محنتی، وفادار، مخلص اور نڈر سرمچار تھے، جنہوں نے تنظیمی صفوں میں شامل ہونے کے بعد ہر عسکری ہدف پر پورا اترنے کی کوشش کی اور اپنے جفاکشی اور محنت کی وجہ سے ساتھیوں میں نمایاں مقام پایا۔
14 اپریل کو سرمچاروں کا دستہ تنظیمی امور کے سلسلے میں گشت پر تھا، تو راستے میں قابض فوج نے ناکہ بندی کر رکھی تھی۔ سرمچاروں کو دیکھتے ہی قابض فوج نے سرمچاروں پر فائرنگ شروع کر دی، جس پر سرمچاروں نے فوری پوزیشنیں سنبھالیں اور جوابی کارروائی کرتے ہوئے دشمن پر حملہ کیا۔ اس جھڑپ کے دوران سنگت زکریا زہری دلیری سے دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔ بی ایل ایف شہید زکریا زہری عرف استاد زورین بلوچ ولد مہیم خان، سکنہ زہری بلبل کی شہادت پر بی انہیں خراج عقیدت اور سلام پیش کرتی ہے، اور وطن کی آزادی تک ان کے مشن کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریش فرنٹ اپنے ان تمام شہدائے وطن کو گراں قدر الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ غاصب ریاست کے مکمل خاتمے اور مادرِ وطن بلوچستان کی مکمل آزادی تک ہر محاذ پر دشمن کے خلاف پوری شدت کے ساتھ جنگ جاری رہے گی۔ ہمارے شہدا کا مشن ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے، اور ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے منزلِ مقصود تک پہنچنا ہمارا قومی و تنظیمی عہد ہے۔