گریٹا تھنبرگ کا ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی رہائی کا مطالبہ، بلوچستان کو “پاکستان کا مقبوضہ علاقہ” قرار دیا
ماحولیاتی اور انسانی حقوق کی کارکن گریٹا تھنبرگ نے پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے بلوچ رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر کارکنوں کو عمر قید کی سزا سنائے جانے پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اپنے بیان میں گریٹا تھنبرگ نے کہا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے برسوں تک لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کے لیے پُرامن جدوجہد کی، پاکستانی فورسز کے ہاتھوں ماورائے عدالت ہلاکتوں کے خلاف آواز بلند کی اور “پاکستان کے زیرِ قبضہ بلوچستان” کے عوام کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو مارچ 2025 میں کوئٹہ میں ایک پُرامن دھرنے کے دوران گرفتار کیا گیا، جہاں وہ مظاہرین کی ہلاکتوں کے بعد جوابدہی کا مطالبہ کر رہی تھیں۔
گریٹا تھنبرگ کے مطابق ماہ رنگ کو ایک سال سے زائد عرصہ حراست میں رکھا گیا، تنہائی اور طبی سہولیات سے متعلق خدشات کا سامنا رہا، جبکہ ان کے خلاف مقدمات پُرامن سیاسی سرگرمیوں کو جرم قرار دینے کی کوشش تھے۔
گریٹا تھنبرگ نے مزید کہا کہ یہ مقدمہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جب پُرامن اختلافِ رائے کو جرم بنا دیا جائے اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو خاموش کرایا جائے تو کیا نتائج سامنے آتے ہیں۔
انہوں نے انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اختلافی آوازوں کو دبانے کا ایک وسیع تر رجحان دیکھنے میں آرہا ہے۔
آخر میں گریٹا تھنبرگ نے کہا: آپ لوگوں کو قید کر سکتے ہیں، لیکن سچ کو قید نہیں کر سکتے، آپ آوازوں کو قید کرکے پوری تحریک کو خاموش نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا دنیا بلوچوں پر جاری مظالم پر مزید خاموش تماشائی نہیں رہ سکتی ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور انصاف کا پُرامن مطالبہ کرنے والے تمام قیدیوں کے ساتھ کھڑے ہوں، جوابدہی، منصفانہ قانونی عمل اور ان کی آزادی کا مطالبہ کریں۔ ماہ رنگ کو آزاد کرو، بلوچستان کو آزاد کرو۔

















































