بلوچستان کے علاقے زیارت میں مسلح افراد نے ایک حملے میں پاکستانی فورسز (فرنٹیئر کور) کے پوسٹوں کو کنٹرول میں لیکر اسلحہ ضبط کرلیا جبکہ کمک کیلئے پہنچنے والے قافلوں کو حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔
واقعہ گذشتہ روز شام کے وقت خرواری بابا کے مقام پر پیش آیا جہاں مسلح افراد کی بڑی تعداد نے پاکستانی فورسز کے دو پوسٹوں پر بیک وقت حملہ کیا۔ علاقے میں دیر تک شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آواز سنی گئی۔
حملے کے بعد فوج اور پولیس کے قافلوں نے پیش قدمی کی کوشش کی جن کو دو مقامات پر حملوں میں نشانہ بنایا گیا جن میں متعدد اہلکار ہلاک اور کم از کم چار پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔
علاقائی ذرائع کے مطابق اس دوران مرکزی شاہراہ پر مسلح افراد کی ناکہ بندی جاری رہی۔
ذرائع نے ٹی بی پی کو بتایا کہ حملے کے دوران پوسٹ میں فورسز کے ایک اسلحہ خانہ میں آگ بھڑک اٹھی جس سے وہاں دھماکہ ہوا۔ اسلحہ خانہ میں دھماکے میں فورسز کو مزید جانی نقصانات اٹھانے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
حملہ آوروں نے دونوں پوسٹوں پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے بعد نذرآتش کردیا جبکہ وہاں موجود اسلحہ اور گولہ بارود اپنی تحویل میں لیا۔
حکام نے تاحال اس حوالے سے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی ہے اور نہ ہی جانی نقصانات کے حوالے سے کوئی تفصیلات فراہم کی ہے جبکہ حملے کی ذمہ داری بھی تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے۔


















































